مہنگائی کا ایک اور سیلاب آنے والا ہے
منی بجٹ کے اثرات سے مہنگائی کا پہلے سے بلند گراف مزید بلند ہو جائے گا
منی بجٹ کے اثرات سے مہنگائی کا پہلے سے بلند گراف مزید بلند ہو جائے گا۔ فوٹو : فائل
KARACHI/LAHORE:
پوری کوشش کررہے ہیں کہ آئی ایم ایف قرضے کی اگلی قسط جاری کردے اور حکومت اسی سلسلے میں چند دنوں میں منی بجٹ منظور کرنے جارہی ہے ، کیونکہ منی بجٹ کا پیش کرنا آئی ایم ایف کے مطالبات کا ایک حصہ ہے، جن کو پورا کر کے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط وصول ہو سکے گی، جب کہ وفاقی زیر خزانہ شوکت ترین نے کہاہے کہ اسٹیٹ بینک پر حکومت پاکستان کا کنٹرول برقرار رہے گا۔
حکومت بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نام نامزد کرے گی،آئی ایم ایف نے کہا کہ آپ اسٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لیں گے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز قائمہ کمیٹی خزانہ کے ا جلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے اوراراکین کے سوالات کا جوابات دیتے ہوئے کیا۔ دوسری جانب متحدہ اپوزیشن نے مہنگائی پر حکومت کے خلاف احتجاج کا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں منی بجٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری روکنے سے متعلق حکمت عملی پر گفتگو کی گئی۔
دراصل آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی اگلی قسط کے لیے پاکستان کا کچھ پیشگی اقدامات اٹھانا لازمی ہے، جن میں ایک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا خود مختاری کا بل ہے اور اس کے ساتھ 400 ارب روپے اضافی ٹیکس اکٹھا کرنا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خود مختاری سب سے مشکل مطالبہ ہے۔ ہائپر انفلیشن سے معیشت میں قیمتوں میں تیز رفتار اور بے لگام اضافہ ہوتا ہے۔
عام الفاظ میں کسی چیز کے صبح کو دام کچھ، شام کو کچھ، رات کو کچھ اور۔ یہ منظر پاکستان کے بازاروں میں باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ منی بجٹ چونکہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے تیار ہوا ہے، اس لیے مہنگائی بڑھنے کی رفتار میں مزید اضافہ ہوگا، یہ حقیقت بھی اب کھل کر سامنے آچکی ہے کہ موجودہ حکومت اپنے اسی طرح کے فیصلوں کی وجہ سے کے پی کے کا بلدیاتی الیکشن ہاری ہے، ایک جانب تو حکومت منی بجٹ منظور کررہی ہے تو دوسری جانب مہنگائی، عام آدمی کے لیے وسائل میں کمی جیسے معاملات ویسے کے ویسے ہیں۔
وزیر خزانہ شوکت ترین پہلے کہہ رہے تھے کہ عوام پر اب صرف دو ارب روپے کا بوجھ پڑے گا لیکن جب انھیں اندازہ ہونا شروع ہوا کہ میڈیا عوام کو ہر چیز سے باخبر رکھ رہا تو انھوں نے تسلیم کر لیا کہ ان کو مجبوراً آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑی ہیں۔ حکمرانوں کے غلط فیصلوں کا بوجھ عوام کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
موبائل فونز اور سونے چاندی کی درآمد پر 17 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، زرعی بیج، پودوں، آلات اور کیمیکل کی درآمد پر 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ٹیکس کر دیا گیا ہے جس کا سارا بوجھ کسان پر آئے گا، کان کنی کے لیے درکار مشینری کی درآمد پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، پرچون فروش کا ٹیکس دس فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ساشے میں فروخت ہونے والی اشیاء پر ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔ پوسٹ کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ مرغیوں اور درآمدی جانوروں پر 17 فیصد ٹیکس ادا کر دیا گیا ہے۔ ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ایک عام آدمی کو سیاسی معاملات سے کہیں زیادہ معیشت، روزگار، امن و امان اور اخلاقی و سماجی مسائل درپیش ہیں۔ ان تمام مشکلات نے اس کی زندگی کو شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث بہت بڑی تعداد غربت کی لکیر سے بھی نیچے جا چکی ہے اور سفید پوش لوگ سخت پریشان ہیں۔ صنعت کار طبقے کے مطابق خام مال پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے اور اس کی شرح 17 فیصد کرنے سے معیشت اور پیداواری عمل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور خام مال کے مہنگا ہونے سے پیداواری عمل سست روی کا شکار ہونے کا خدشہ ہے جو روزگار کے مواقعے کو کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
خام مال پر سیلز ٹیکس صنعتی شعبے کی کاروباری لاگت کو بڑھائے گا اور اس کے دو نتیجے نکل سکتے ہیں ایک تو زیادہ لاگت کی وجہ سے مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی جو غریب آدمی کو متاثر کریں گی۔ دوسرا پیداواری عمل میں کمی آئے گی اور اس کی وجہ سے کم پیداوار ہو گی تو ملازمتوں کے مواقعے بھی کم پیدا ہوں گے یا کوئی صنعت پہلے سے موجودہ ملازمین میں بھی چھانٹی کر دے تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔ ہر دو صورتوں میں اس کا اثر غریب آدمی پر پڑے گا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دکاندار کے لیے دکان کھولنا مشکل، فیکٹری مالکان کے لیے فیکٹری چلانا مشکل، تاجر کے لیے تجارت کرنا مشکل اور کسان کے لیے کاشتکاری مشکل ترین ہوگئی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، آٹا، گھی، چینی سمیت اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنے کے لیے عوام کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہے۔
اور یوں لگتا ہے جیسے بہ حیثیت قوم ہم اس کشتی کے مسافروں کی طرح ہیں جو موجوں کے رحم و کرم پر ہو۔ بجٹ کے بعد ایک اور بجٹ اور کبھی دبے پاؤں اور اعلان کیے بغیر مہنگائی کے ریلوں کی آمد اب معمول بن گیا ہے۔حکومت نے اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود مالیاتی ضمنی بل 2021کے نام سے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرچکی ہے۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے یہ بل اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا تھاکہ 144اشیاء پرٹیکس لگے گا جو یا تو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ ہوگا یاان پر پانچ سے بارہ فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔بل میں نئے ٹیکس سے350ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس بل کے ذریعے پاکستان معاشی طور پر آئی ایم ایف کے آگے سرینڈر کرنے جا رہا ہے کیونکہ اس کے بعد پاکستان اسٹیٹ بینک سے بھی قرض حاصل نہیں کر سکے گا۔منی بجٹ کے بعد مہنگائی کا ایک اور سیلاب خلق خدا کا رخ کرے گا۔قرض کی ہر قسط کی ادائیگی زرمبادلہ کے ذخائر کو کم کر تی جا رہی ہے۔
ان حالات کا الزام اب کس پر دھرا جائے؟خزانہ ایک طرف تھوڑا بھر جاتا ہے تو قرض کی قسط اسے واپس نیچے پہنچاتی ہے اور اس طرح معیشت مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف اپنی کڑی شرائط پر بضد اس لیے ہے کہ وہ اپنی وصولی یقینی بنانا چاہتا ہے اور اس کا یہ طرز عمل ساہوکاری اصول کے مطابق بالکل درست ہے، اس قصور وار تو ہمارے حکمران اور ان کے حاشیہ نشین ہیں، جو اپنی مراعات اور کھانچے ختم کرنے لیے تیار نہیں ہیں اور قرضوں کی ادائیگی کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کردیتے ہیں۔
حکومت بھی جس انداز میں چل رہی ہے اس میں عمل سے نہیں بلکہ گفتار سے کام لیا جا رہا ہے، اور کچھ کر دکھانے کے بجائے ہر روز ایک نئی طفل تسلی کا اعلان ہوجاتا ہے، یوں ساڑھے تین سالہ کے حکومتی اقدامات محض ہاتھ باندھنے کی حکمت عملی سے زیادہ نہیں۔ نہایت تشویش کی بات یہ ہے کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں مہنگائی میں تو کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن نہ تو ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں اور مراعات میں کوئی اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی ترقیاتی کاموں کی سرگرمیوں میں اتنا اضافہ ممکن بنایا جاسکا ہے کہ عوام مہنگائی کے مقابلے میں جم کر کھڑے ہو سکیں۔
ایک جانب بے لگام مہنگائی نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے تو دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے عوام کے رستے زخموں پر یہ نمک پاشی جاری ہے کہ پاکستان میں مہنگائی خطے کے دوسرے ممالک سے بہت کم ہے۔
ہمارے ملک کا ایک بڑا حصہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے اپنے بڑھتے مسائل کی وجہ سے ناامیدی کی جانب بڑھ رہا ہے اور بد قسمتی سے کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آرہا جو اس غریب طبقے کے درد کو اپنا درد سمجھ کر حل کرنے کی ہمت کر سکے۔
غریب پاکستانی پہلے ہی معاشی بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے فکر مند ہیں۔ غریب و مزدور طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ملک کے بیشتر افراد کے لیے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوچکا ہے۔ لوگ بے روزگاری کا شکار ہورہے ہیں، حالات سے مجبور ہوکر خود کشیاں کررہے ہیں۔
ان حالات میں منی بجٹ کے اثرات سے مہنگائی کا پہلے سے بلند گراف مزید بلند ہو جائے گا۔ کورونا کے اس دور میں جب کہ آمدنیوں میں اضافہ متوقع نہیں یہ اضافی بوجھ عوام کی مالی مشکلات کو دوچند کرنے کا باعث بنے گا اور اس کے نتیجے میں غربت کی شرح بڑھنے کے اندیشے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔آئی ایم ایف کی متوقع قسط کو اس منصوبہ بندی سے کام میںلایا جائے کہ دوبارہ اس در کے طواف سے چھٹکارہ مل جائے ،یہ اس حکومت کا اصل امتحان ہے۔
پوری کوشش کررہے ہیں کہ آئی ایم ایف قرضے کی اگلی قسط جاری کردے اور حکومت اسی سلسلے میں چند دنوں میں منی بجٹ منظور کرنے جارہی ہے ، کیونکہ منی بجٹ کا پیش کرنا آئی ایم ایف کے مطالبات کا ایک حصہ ہے، جن کو پورا کر کے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط وصول ہو سکے گی، جب کہ وفاقی زیر خزانہ شوکت ترین نے کہاہے کہ اسٹیٹ بینک پر حکومت پاکستان کا کنٹرول برقرار رہے گا۔
حکومت بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نام نامزد کرے گی،آئی ایم ایف نے کہا کہ آپ اسٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لیں گے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز قائمہ کمیٹی خزانہ کے ا جلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے اوراراکین کے سوالات کا جوابات دیتے ہوئے کیا۔ دوسری جانب متحدہ اپوزیشن نے مہنگائی پر حکومت کے خلاف احتجاج کا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں منی بجٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری روکنے سے متعلق حکمت عملی پر گفتگو کی گئی۔
دراصل آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی اگلی قسط کے لیے پاکستان کا کچھ پیشگی اقدامات اٹھانا لازمی ہے، جن میں ایک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا خود مختاری کا بل ہے اور اس کے ساتھ 400 ارب روپے اضافی ٹیکس اکٹھا کرنا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خود مختاری سب سے مشکل مطالبہ ہے۔ ہائپر انفلیشن سے معیشت میں قیمتوں میں تیز رفتار اور بے لگام اضافہ ہوتا ہے۔
عام الفاظ میں کسی چیز کے صبح کو دام کچھ، شام کو کچھ، رات کو کچھ اور۔ یہ منظر پاکستان کے بازاروں میں باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ منی بجٹ چونکہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے تیار ہوا ہے، اس لیے مہنگائی بڑھنے کی رفتار میں مزید اضافہ ہوگا، یہ حقیقت بھی اب کھل کر سامنے آچکی ہے کہ موجودہ حکومت اپنے اسی طرح کے فیصلوں کی وجہ سے کے پی کے کا بلدیاتی الیکشن ہاری ہے، ایک جانب تو حکومت منی بجٹ منظور کررہی ہے تو دوسری جانب مہنگائی، عام آدمی کے لیے وسائل میں کمی جیسے معاملات ویسے کے ویسے ہیں۔
وزیر خزانہ شوکت ترین پہلے کہہ رہے تھے کہ عوام پر اب صرف دو ارب روپے کا بوجھ پڑے گا لیکن جب انھیں اندازہ ہونا شروع ہوا کہ میڈیا عوام کو ہر چیز سے باخبر رکھ رہا تو انھوں نے تسلیم کر لیا کہ ان کو مجبوراً آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑی ہیں۔ حکمرانوں کے غلط فیصلوں کا بوجھ عوام کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
موبائل فونز اور سونے چاندی کی درآمد پر 17 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، زرعی بیج، پودوں، آلات اور کیمیکل کی درآمد پر 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد ٹیکس کر دیا گیا ہے جس کا سارا بوجھ کسان پر آئے گا، کان کنی کے لیے درکار مشینری کی درآمد پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، پرچون فروش کا ٹیکس دس فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ساشے میں فروخت ہونے والی اشیاء پر ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔ پوسٹ کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ مرغیوں اور درآمدی جانوروں پر 17 فیصد ٹیکس ادا کر دیا گیا ہے۔ ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ایک عام آدمی کو سیاسی معاملات سے کہیں زیادہ معیشت، روزگار، امن و امان اور اخلاقی و سماجی مسائل درپیش ہیں۔ ان تمام مشکلات نے اس کی زندگی کو شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث بہت بڑی تعداد غربت کی لکیر سے بھی نیچے جا چکی ہے اور سفید پوش لوگ سخت پریشان ہیں۔ صنعت کار طبقے کے مطابق خام مال پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے اور اس کی شرح 17 فیصد کرنے سے معیشت اور پیداواری عمل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور خام مال کے مہنگا ہونے سے پیداواری عمل سست روی کا شکار ہونے کا خدشہ ہے جو روزگار کے مواقعے کو کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
خام مال پر سیلز ٹیکس صنعتی شعبے کی کاروباری لاگت کو بڑھائے گا اور اس کے دو نتیجے نکل سکتے ہیں ایک تو زیادہ لاگت کی وجہ سے مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی جو غریب آدمی کو متاثر کریں گی۔ دوسرا پیداواری عمل میں کمی آئے گی اور اس کی وجہ سے کم پیداوار ہو گی تو ملازمتوں کے مواقعے بھی کم پیدا ہوں گے یا کوئی صنعت پہلے سے موجودہ ملازمین میں بھی چھانٹی کر دے تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔ ہر دو صورتوں میں اس کا اثر غریب آدمی پر پڑے گا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دکاندار کے لیے دکان کھولنا مشکل، فیکٹری مالکان کے لیے فیکٹری چلانا مشکل، تاجر کے لیے تجارت کرنا مشکل اور کسان کے لیے کاشتکاری مشکل ترین ہوگئی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، آٹا، گھی، چینی سمیت اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنے کے لیے عوام کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہے۔
اور یوں لگتا ہے جیسے بہ حیثیت قوم ہم اس کشتی کے مسافروں کی طرح ہیں جو موجوں کے رحم و کرم پر ہو۔ بجٹ کے بعد ایک اور بجٹ اور کبھی دبے پاؤں اور اعلان کیے بغیر مہنگائی کے ریلوں کی آمد اب معمول بن گیا ہے۔حکومت نے اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود مالیاتی ضمنی بل 2021کے نام سے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرچکی ہے۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے یہ بل اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا تھاکہ 144اشیاء پرٹیکس لگے گا جو یا تو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ ہوگا یاان پر پانچ سے بارہ فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔بل میں نئے ٹیکس سے350ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس بل کے ذریعے پاکستان معاشی طور پر آئی ایم ایف کے آگے سرینڈر کرنے جا رہا ہے کیونکہ اس کے بعد پاکستان اسٹیٹ بینک سے بھی قرض حاصل نہیں کر سکے گا۔منی بجٹ کے بعد مہنگائی کا ایک اور سیلاب خلق خدا کا رخ کرے گا۔قرض کی ہر قسط کی ادائیگی زرمبادلہ کے ذخائر کو کم کر تی جا رہی ہے۔
ان حالات کا الزام اب کس پر دھرا جائے؟خزانہ ایک طرف تھوڑا بھر جاتا ہے تو قرض کی قسط اسے واپس نیچے پہنچاتی ہے اور اس طرح معیشت مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف اپنی کڑی شرائط پر بضد اس لیے ہے کہ وہ اپنی وصولی یقینی بنانا چاہتا ہے اور اس کا یہ طرز عمل ساہوکاری اصول کے مطابق بالکل درست ہے، اس قصور وار تو ہمارے حکمران اور ان کے حاشیہ نشین ہیں، جو اپنی مراعات اور کھانچے ختم کرنے لیے تیار نہیں ہیں اور قرضوں کی ادائیگی کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کردیتے ہیں۔
حکومت بھی جس انداز میں چل رہی ہے اس میں عمل سے نہیں بلکہ گفتار سے کام لیا جا رہا ہے، اور کچھ کر دکھانے کے بجائے ہر روز ایک نئی طفل تسلی کا اعلان ہوجاتا ہے، یوں ساڑھے تین سالہ کے حکومتی اقدامات محض ہاتھ باندھنے کی حکمت عملی سے زیادہ نہیں۔ نہایت تشویش کی بات یہ ہے کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں مہنگائی میں تو کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن نہ تو ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں اور مراعات میں کوئی اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی ترقیاتی کاموں کی سرگرمیوں میں اتنا اضافہ ممکن بنایا جاسکا ہے کہ عوام مہنگائی کے مقابلے میں جم کر کھڑے ہو سکیں۔
ایک جانب بے لگام مہنگائی نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے تو دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے عوام کے رستے زخموں پر یہ نمک پاشی جاری ہے کہ پاکستان میں مہنگائی خطے کے دوسرے ممالک سے بہت کم ہے۔
ہمارے ملک کا ایک بڑا حصہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے اپنے بڑھتے مسائل کی وجہ سے ناامیدی کی جانب بڑھ رہا ہے اور بد قسمتی سے کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آرہا جو اس غریب طبقے کے درد کو اپنا درد سمجھ کر حل کرنے کی ہمت کر سکے۔
غریب پاکستانی پہلے ہی معاشی بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے فکر مند ہیں۔ غریب و مزدور طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ملک کے بیشتر افراد کے لیے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوچکا ہے۔ لوگ بے روزگاری کا شکار ہورہے ہیں، حالات سے مجبور ہوکر خود کشیاں کررہے ہیں۔
ان حالات میں منی بجٹ کے اثرات سے مہنگائی کا پہلے سے بلند گراف مزید بلند ہو جائے گا۔ کورونا کے اس دور میں جب کہ آمدنیوں میں اضافہ متوقع نہیں یہ اضافی بوجھ عوام کی مالی مشکلات کو دوچند کرنے کا باعث بنے گا اور اس کے نتیجے میں غربت کی شرح بڑھنے کے اندیشے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔آئی ایم ایف کی متوقع قسط کو اس منصوبہ بندی سے کام میںلایا جائے کہ دوبارہ اس در کے طواف سے چھٹکارہ مل جائے ،یہ اس حکومت کا اصل امتحان ہے۔