چیئرمین نیب ریفرنس بند کرکے ملزمان بری کرے تو تماشہ نہیں دیکھ سکتے سپریم کورٹ
جہاں اختیارسےتجاوز ہوا عدالت مداخلت کریگی، جسٹس جواد، چیئرمین کے اختیارکاجائزہ لینے کے لیے اوگرا کیس ساتھ سننے کافیصلہ
ایل پی جی کیس میں ذمے داروں کا بتایا جائے، جسٹس ناصر، ایف آئی اے کی رپورٹ مسترد، اعتزاز کو وکیل بننے کی اجازت بھی نہ ملی۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے چیئرمین نیب کرپشن کے ملزمان کے ریفرنس بندکرکے انھیں بری کرے گا تویہ نہیں ہوسکتا کہ سپریم کورٹ ہاتھ پرہاتھ رکھ کر تماشا دیکھے گی۔
فاضل جج نے کہا کہ عدلیہ کو عدالتی جائزے کے اختیار سے کوئی محروم نہیں کر سکتا،جہاں اختیارسے تجاوزہوگا وہاں عدالت مداخلت کرے گی ۔یہ ریمارکس انھوں نے فصیح بخاری کی طرف سے صوابدیدی اختیارات کے تحت راولپنڈی میں سرکاری پلاٹ بیچنے کے ملزم کیخلاف ریفرنس واپس لینے کیخلاف نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران دیے ہیں۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فل بینچ نے سماعت کی ۔عدالت نے قرار دیا نظرثانی کیس کا فیصلہ کرنے سے پہلے اس سوال کا جائزہ لیا جائے گا کہ نیب مقدمات میں چیئرمین کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے یا عدالت کو جائزے کا اختیار حاصل ہے؟ جسٹس جواد نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب کا موقف ہے کہ عدالت کو نیب کے فیصلوں میں مداخلت کا اختیار نہیں، عدالت دیکھنا چاہتی ہے کہ نیب شتر بے مہار ہے؟ جہاں چیئرمین نیب کی من مانی ہوگی وہ جس کو چاہے جیل میں ڈالے گا اور جس کو چاہے چھوڑ دے گا؟
جسٹس جواد نے کہاکہ عدالتی جائزے کا اختیار مسلمہ ہے لیکن ہم دیکھنا چاہتے ہیںکہ چیئرمین نیب کا کیا اختیار ہے، چیئرمین نیب من مانی کرے گا اور عدالت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تماشا دیکھے گی، یہ نہیں ہو سکتا۔فاضل جج نے کہاکہ اس مقدمے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اوگرا عملدرآمدکیس نمٹانا پڑے گا۔اٹارنی جنرل نے تجویزدی کہ زیرغور مقدمے میں عدالت چیئرمین نیب کوہدایت کرے کہ ریفرنس واپس لینے کے معاملے کا از سرنوجائزہ لیا جائے۔عدالت نے چیئرمین نیب کو ریفرنس واپس لینے کے فیصلے کا فوری جائزہ لینے اور اگر ضروری ہو تو ملوث تمام افرادکیخلاف نیا ریفرنس دائرکرنے کا حکم دیا۔اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی کہ وہ عدالتی جائزے کے اختیارکے معاملے پر عدالت کی معاونت کریں،مقدمہ اوگرا عملدرآمد کیس کے ساتھ سننے کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید سماعت27 فروری تک ملتوی کردی گئی۔
فاضل جج نے کہا کہ عدلیہ کو عدالتی جائزے کے اختیار سے کوئی محروم نہیں کر سکتا،جہاں اختیارسے تجاوزہوگا وہاں عدالت مداخلت کرے گی ۔یہ ریمارکس انھوں نے فصیح بخاری کی طرف سے صوابدیدی اختیارات کے تحت راولپنڈی میں سرکاری پلاٹ بیچنے کے ملزم کیخلاف ریفرنس واپس لینے کیخلاف نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران دیے ہیں۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فل بینچ نے سماعت کی ۔عدالت نے قرار دیا نظرثانی کیس کا فیصلہ کرنے سے پہلے اس سوال کا جائزہ لیا جائے گا کہ نیب مقدمات میں چیئرمین کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے یا عدالت کو جائزے کا اختیار حاصل ہے؟ جسٹس جواد نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب کا موقف ہے کہ عدالت کو نیب کے فیصلوں میں مداخلت کا اختیار نہیں، عدالت دیکھنا چاہتی ہے کہ نیب شتر بے مہار ہے؟ جہاں چیئرمین نیب کی من مانی ہوگی وہ جس کو چاہے جیل میں ڈالے گا اور جس کو چاہے چھوڑ دے گا؟
جسٹس جواد نے کہاکہ عدالتی جائزے کا اختیار مسلمہ ہے لیکن ہم دیکھنا چاہتے ہیںکہ چیئرمین نیب کا کیا اختیار ہے، چیئرمین نیب من مانی کرے گا اور عدالت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تماشا دیکھے گی، یہ نہیں ہو سکتا۔فاضل جج نے کہاکہ اس مقدمے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اوگرا عملدرآمدکیس نمٹانا پڑے گا۔اٹارنی جنرل نے تجویزدی کہ زیرغور مقدمے میں عدالت چیئرمین نیب کوہدایت کرے کہ ریفرنس واپس لینے کے معاملے کا از سرنوجائزہ لیا جائے۔عدالت نے چیئرمین نیب کو ریفرنس واپس لینے کے فیصلے کا فوری جائزہ لینے اور اگر ضروری ہو تو ملوث تمام افرادکیخلاف نیا ریفرنس دائرکرنے کا حکم دیا۔اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی کہ وہ عدالتی جائزے کے اختیارکے معاملے پر عدالت کی معاونت کریں،مقدمہ اوگرا عملدرآمد کیس کے ساتھ سننے کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید سماعت27 فروری تک ملتوی کردی گئی۔