بیلجیئم میں مہلک بیماریوں میں مبتلا بچوں کو موت کا حق دینے کا قانون منظور
مہلک بیماریوں میں مبتلا بچوں کو موت کا حق دینے کا بل 44 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کیا گیا
کیتھولک چرچ کے رہنماؤں نے اس قانون کو غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔ فوٹو؛ فائل
لاہور:
بیلجیئم کی پارلیمنٹ نے مہلک بیماریوں میں مبتلا بچوں کو آسان موت دیئے جانے کے بل کی منظوری دے دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیلجیئم کی پارلیمنٹ نے مہلک بیماریوں میں مبتلا بچوں کو موت کا حق دینے کا بل 44 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کیا جبکہ 12 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، مسودے پر بادشاہ کے دستخط کے بعد بیلجیئم بچوں کے حوالے سے 'یوتھینیزیا' یعنی مہلک بیماری کے باعث موت قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا۔ منظور کئے گئے مسودے کے مطابق کسی بھی عمر کے مہلک مرض میں مبتلا بچے اپنے والدین کی رضامندی کے ساتھ موت دیئے جانے کی درخواست کر سکیں گے۔
قانون کے مطابق کسی شدید نوعیت کی بیماری میں مبتلا بچہ اگر متعدد بار مرنے کی درخواست کرے تو اس کے لیے 'یوتھینیزیا' کے قانون پرعمل درآمد کے لئے غور کیا جائے گا، درخواست پر عمل درآمد کے لئے بچے کے والدین، ڈاکٹر اور نفسیاتی ماہرین کی منظوری بھی لازمی ہوگی۔ دوسری جانب بیلجیئم کے کیتھولک چرچ کے رہنماؤں نے اس قانون کو غیر اخلاقی قرار دیا ہے جبکہ گذشتہ ہفتے بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس قانون کے خلاف دستخط کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یوتھینیزیا' پر عمل درآمد کی کوئی فوری ضرورت نہیں ہے کیونکہ جدید ادویات سے درد میں کمی ممکن ہے۔
واضح رہے کہ بیلجیئم میں گزشتہ 12 برسوں سے بالغ افراد کے لیے 'یوتھینیزیا' کا عمل قانونی ہے جبکہ اکتوبر میں حکومت کی جانب سے 'یوتھینیزیا' کے حوالے سے کئے جانے والے سروے میں 73 فیصد افراد نے اس کے حق میں رائے دی تھی۔
بیلجیئم کی پارلیمنٹ نے مہلک بیماریوں میں مبتلا بچوں کو آسان موت دیئے جانے کے بل کی منظوری دے دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیلجیئم کی پارلیمنٹ نے مہلک بیماریوں میں مبتلا بچوں کو موت کا حق دینے کا بل 44 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کیا جبکہ 12 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، مسودے پر بادشاہ کے دستخط کے بعد بیلجیئم بچوں کے حوالے سے 'یوتھینیزیا' یعنی مہلک بیماری کے باعث موت قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا۔ منظور کئے گئے مسودے کے مطابق کسی بھی عمر کے مہلک مرض میں مبتلا بچے اپنے والدین کی رضامندی کے ساتھ موت دیئے جانے کی درخواست کر سکیں گے۔
قانون کے مطابق کسی شدید نوعیت کی بیماری میں مبتلا بچہ اگر متعدد بار مرنے کی درخواست کرے تو اس کے لیے 'یوتھینیزیا' کے قانون پرعمل درآمد کے لئے غور کیا جائے گا، درخواست پر عمل درآمد کے لئے بچے کے والدین، ڈاکٹر اور نفسیاتی ماہرین کی منظوری بھی لازمی ہوگی۔ دوسری جانب بیلجیئم کے کیتھولک چرچ کے رہنماؤں نے اس قانون کو غیر اخلاقی قرار دیا ہے جبکہ گذشتہ ہفتے بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس قانون کے خلاف دستخط کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یوتھینیزیا' پر عمل درآمد کی کوئی فوری ضرورت نہیں ہے کیونکہ جدید ادویات سے درد میں کمی ممکن ہے۔
واضح رہے کہ بیلجیئم میں گزشتہ 12 برسوں سے بالغ افراد کے لیے 'یوتھینیزیا' کا عمل قانونی ہے جبکہ اکتوبر میں حکومت کی جانب سے 'یوتھینیزیا' کے حوالے سے کئے جانے والے سروے میں 73 فیصد افراد نے اس کے حق میں رائے دی تھی۔