پاکستان گروپ آف ڈیتھ سے بچ نکلنے کو تیار

بھارت کیخلاف سابقہ نتائج اہمیت نہیں رکھتے، مثبت کھیل پیش کرینگے،محمد عرفان کی انجری افسوسناک ہے، حفیظ

معین خان کو مکمل سپورٹ کریں گے،بنگلہ دیش میں سیکیورٹی پر تشویش نہیں، کامران کی واپسی کا ٹیم کوفائدہ ہو گا۔ فوٹو: فائل

WASHINGTON:
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان''گروپ آف ڈیتھ'' میں شامل ہے، سیمی فائنل میں رسائی کیلیے اسے بھارت، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز جیسے طوفانوں سے نمٹنا ہوگا۔

کپتان محمد حفیظ اس صورتحال سے پریشان نہیں ، ان کے مطابق حریف چاہے کوئی بھی ہو سو فیصد کارکردگی دکھا کر ٹیم کو فتح دلانے کی کوشش کرینگے، آل رائونڈر آئی سی سی ایونٹس میں بھارت کیخلاف خراب کارکردگی کا داغ بھی دھونا چاہتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی سیکیورٹی صورتحال پر کوئی تشویش نہیں،صرف اپنے کھیل پر ہی توجہ ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا انعقاد 16 مارچ سے 6 اپریل تک ہونا ہے، ایونٹ کے سپر 10 میں شامل پاکستانی ٹیم کو فائنل فور میں رسائی سے قبل بھارت، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز جیسی مضبوط ٹیموں سے مقابلہ کرنا ہوگا، چوتھی سائیڈ کوالیفائر ہوگی۔


حفیظ مسلسل دوسری بار میگا ایونٹ میں قیادت کرینگے، نمائندہ ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ گذشتہ ایونٹ کو ڈیڑھ، 2 سال گذر چکے، اس دوران میں نے کئی میچز میں کپتانی کی،حاصل شدہ یہ تجربہ اب میرے کام آئیگا اور پلیئرز سے ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام لینے میں کامیاب رہوں گا، انھوں نے کہا کہ جاری ڈومیسٹک ایونٹ کھیل کر ہم نے ورلڈ ٹی 20کی تیاری کی، مختصر کیمپ کے بعد بنگلہ دیش میں وارم اپ میچز کھیل کر ہمیں ردھم حاصل کرنے کا موقع مل جائیگا، مجھے امید ہے کہ ٹیم شائقین کو مایوس نہیں کریگی۔ بھارت کیخلاف آئی سی سی ایونٹس میں خراب ریکارڈ کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اچھا ہو یا بُرا ہر دن گذرنے کے بعد تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے، ماضی میں روایتی حریف کیخلاف میچز کے نتائج کیا رہے اب وہ اہمیت نہیں رکھتے، ہم میدان میں جا کر سو فیصد پرفارم کرنے کی کوشش کرینگے۔

امید ہے کہ مثبت نتیجہ سامنے آئے گا، ٹیم کا کمبی نیشن اچھا لگ رہا ہے یقینا پلیئرز بھی جان لڑا دینگے، انھوں نے پیسر محمد عرفان کے انجرڈ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی کے بہترین بولر ہیں، ان کی ٹیم میں موجودگی حریفوں پر خاصا اثر ڈالتی۔ ''گروپ آف ڈیتھ'' کے حوالے سے سوال پر حفیظ نے کہا کہ اگر ہم اپنی مکمل صلاحیتوں کے مطابق کھیلے تو کوئی بھی حریف سامنے ہو اسے قابو کر سکتے ہیں، ٹیم ایونٹ میں سخت مقابلوں کیلیے مکمل تیار ہے، اچھی سوچ کے ساتھ میدان میں اترینگے، ان ٹیموں کیخلاف ماضی میں بھی فتوحات حاصل کر چکے اور اب بھی ایسا کرنے کی کوشش کرینگے۔

بنگلہ دیشی سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستانی قائد نے کہا کہ حفاظتی انتظامات کو آئی سی سی نے کلیئر کیا، یقینا اس نے ہر لحاظ سے اپنا اطمینان کیا ہو گا، اس معاملے پر ہماری حکومت کی بھی گہری نظر رہی اور مکمل چھان بین کے بعد ہی کلیئرنس دی ہوگی،اس لیے ہم مطمئن ہیں، ہمیں سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی خدشات لاحق نہیں، ہم صرف اپنی کرکٹ پر توجہ دیتے ہوئے اچھا کھیل پیش کرینگے، انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی کنڈیشنز میں کھیلنے کا ہمیں خاصا تجربہ ہے،ڈھاکا میں کنڈیشنز بیٹنگ کیلیے سازگار ہوتی ہیں، دیکھنا ہو گا کہ اس بار کیسی پچز بنائی جاتی ہیں، ویسے کوئی ایونٹ چاہے ایشیائی یا کسی اور ملک کی کنڈیشنز میں ہو اگر تیاریاں اچھی ہوں تو نتائج بھی ویسے ہی سامنے آتے ہیں۔ حفیظ نے بطور کوچ معین خان کے تقرر کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کئی ماہ سے ٹیم کیساتھ ہیں، البتہ اب انھیں نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے، ہم انھیں خوش آمدید کہتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ وہ ٹیم میں مثبت تبدیلی لائینگے، ہر کوچ کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں یقینا معین خان نے بھی بہتری کیلیے کافی کچھ سوچا ہو گا، ٹیم انھیں مکمل سپورٹ کریگی۔ انھوں نے کہا کہ کامران اکمل کی واپسی سے ٹیم کو فائدہ ہوگا۔
Load Next Story