ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مصباح الحق

ٹیم نے1992 میں اولین ٹرافی پائی، اب بھی ایسا کر سکتے ہیں،بھارت کیخلاف میچ سے ایونٹ کا آغاز کرنا دلچسپ ہو گا

پورا یقین ہے کہ میری طرح بہت سے ملکی کرکٹرز کی نگاہیں اس ورلڈ کپ پر بھی لگی ہوئی ہوں گی، فوٹو: فائل

پاکستانی کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیم ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انھوں نے یہ بات اگلے میگا ایونٹ کے آغاز سے ٹھیک ایک برس قبل کہی، آئی سی سی کے جاری کردہ اعلامیے میں گرین شرٹس کپتان نے کہا کہ ہماری ٹیم ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں دوسری مرتبہ منعقد ہونے والے عالمی کپ میں بہترین پرفارمنس کا ارادہ رکھتی ہے،1992 میں عمران خان کی زیرقیادت گرین شرٹس نے عالمی کرکٹ کا چیمپئن بننے کا اعزاز پایا تھا،39سالہ مڈل آرڈر بیٹسمین مصباح نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ کا اولین ورلڈ کپ 1992 میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا ہی میں جیتا تھا، لہذا آپ میرے جوش اور جذبے کا تصور کرسکتے ہیں، ہم اب بھی فتح حاصل کر سکتے ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ میری طرح بہت سے ملکی کرکٹرز کی نگاہیں اس ورلڈ کپ پر بھی لگی ہوئی ہوں گی، وہ بھی اسکواڈ میں شامل ہونے کیلیے بے تاب ہوں گے۔


انھوں نے مزید کہا کہ آپ جب اپنے ملک کی نمائندگی کریں تو کسی اضافی تحریک کی ضرورت نہیں ہوتی، انہی میدانوں پر22 برس قبل ملک کو ملنے والی ٹائٹل فتح کا تصور کرنے سے ہمیں اضافی اعتماد میسر آتا ہے، جس کی ورلڈ کپ جیسے دبائو والے ایونٹ میں ضرورت ہوگی،انھوں نے مزید کہا کہ1992 میں جس طرح پاکستان ٹیم نے بروقت ردھم حاصل کرتے ہوئے ٹرافی اپنے نام کی تھی، بالکل اسی طرح ہمیں بھی اپنے اہم میچز میں فتوحات پانا ہوں گی، اس صورت میں ہم2015 کے چیمپئن بن کر بھی ابھرسکتے ہیں، آئندہ برس ورلڈ کپ میں بھارت کیخلاف اپنا ابتدائی میچ شیڈول ہونے کے حوالے سے مصباح نے کہا کہ ہمارے لیے یہ امر خاصا دلچسپ ہے کہ2011 ورلڈ کپ میں ہمارا اختتامی میچ بھارت کیخلاف رہا تھا اور آئندہ برس سفر کی شروعات بھی روایتی حریف کیخلاف میچ سے ہوگی، ہم موہالی میں بھارت کے ہاتھوں سیمی فائنل ہارگئے تھے۔

اس کے بعد کولمبو میں 2012 کے ورلڈ ٹی 20 اور 2013 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھی روایتی حریف نے ہمیں زیر کیا تھا لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ ہماری ٹیم بڑے میچز اور ہائی پروفائل ٹورنامنٹس جیتنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔ دریں اثنا سری لنکن کپتان انجیلو میتھیوز کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں ذہنی طور پر مضبوطی بنیادی کردار ادا کرے گی، ہمیں خود کو بہت زیادہ دبائو کا شکار نہیں کرنا چاہیے، مثبت رہتے ہوئے اپنا بہترین کھیل پیش کرنا ہوگا، ہم سب کیلیے یہ بڑا ایونٹ ہے، ون ڈے رینکنگ میں نمبرون بیٹسمین اور جنوبی افریقی کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز نے کہاکہ ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کا موقع ملنا قابل فخر ہوتا ہے۔

ویسٹ انڈین قائد ڈیوائن براوو نے کہا کہ میں تیسرے ورلڈ کپ میں شرکت کرنے پر نگاہیں مرکوز کیے ہوئے ہوں، اگرچہ ہمارا گروپ خاصا مشکل ہے لیکن مجھے امید ہے کہ ناک آئوٹ مرحلے میں کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہیں گے، میزبان ممالک کی کنڈیشنز ہمارے لیے چیلنجنگ ہوں گی لیکن ٹیم ہر حالات میں اچھا پرفارم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے، ہمارے پاس اچھے فاسٹ بولرز، اسپنرز اور بیٹسمین موجود ہیں،لہذا معاملہ صرف بطور ٹیم اچھا کھیل پیش کرکے فتح کا حصول یقینی بنانا ہوگا، ورلڈ کپ 2015 کے گروپ ' اے ' میں انگلینڈ، سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان، اسکاٹ لینڈ کے ساتھ مشترکہ میزبان ممالک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں،پول 'بی'کوجنوبی افریقہ، بھارت، ویسٹ انڈیز، زمبابوے ، آئرلینڈ ، یواے ای اور پاکستان سے مکمل کیاگیا، ہر پول سے چار ٹاپ سائیڈز کوارٹر فائنل مرحلے میں جگہ بناپائیں گی، جس کے بعد 2 سیمی فائنلز اور پھر فائنل ہوگا، ناک آئوٹ میچز کیلیے ریزرو ڈے رکھاگیا ہے، 44 روزہ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 14 وینیوز پر 49 میچز کھیلے جائیں گے، آسٹریلیا 26 میچز کی میزبانی ایڈیلیڈ، برسبین، کینبرا، ہوبارٹ، میلبورن، پرتھ اور سڈنی میں کرے گا،نیوزی لینڈ میں شیڈول 23 مقابلے آکلینڈ، کرائسٹ چرچ، ڈونیڈن، ہیملٹن، نیپیئر، نیلسن اور ویلنگٹن میں ہوں گے۔
Load Next Story