سینیٹعمران کے بیان پر احتجاج جاری کیانی نے آپریشن سے دہشت گردی 40 فیصد کم ہونے کا کہا تھا ظفر الحق
یہ نہیں کہاگیاتھاکامیابی کاامکان 40فیصدہے،عمران بات سمجھ نہیں سکے تھے، فوج مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،قائد ایوان
یہ نہیں کہاگیاتھاکامیابی کاامکان 40فیصدہے،عمران بات سمجھ نہیں سکے تھے، فوج مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،قائد ایوان۔فوٹو:فائل
سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے تیسرے روز بھی عمران خان کے سابق آرمی چیف کے حوالے سے اس بیان کہ طالبان کیخلاف فوجی آپریشن کی کامیابی کے صرف 40 فیصدکامیابی کاامکان ہے، کیخلاف احتجاج جاری رکھا۔
پیر کو اپوزیشن لیڈراعتزاز احسن اورمیاں رضاربانی نے کہاکہ اس متنازع بیان سے فوج کی دفاعی اورجنگی صلاحیت کے بارے میںشکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، وزیراعظم ایوان میں آکرعمران خان کے بیان کے متعلق ارکان کواعتماد میں لیں۔ زاہدخان نے کہاکہ بجٹ کادوسرابڑاحصہ فوج کوجاتاہے اورعمران خان کہہ رہے ہیں کہ فوج آپریشن میں کامیاب نہیں ہوسکتی،حکومت اس پرخاموش کیوں ہے؟قائدایوان راجا ظفرالحق نے اپوزیشن کے تحفظات کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ میں نے عمران خان کے بیان کے متعلق جومعلومات جمع کی ہیں، اس کے مطابق عمران خان کی بات اے پی سی سے پہلے ہونے والے ملاقات کے متعلق ہے۔
عمران خان نے اے پی سی میں شرکت سے پہلے شرط رکھی تھی کہ آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی پہلے انھیں بریفنگ دیں، اس ملاقات میں وزیراعظم اوروزیرداخلہ بھی موجودتھے ، آرمی چیف سے جب یہ پوچھاگیاکہ آپریشن شروع کرنے سے اس کی کامیابی کے کیاامکانات ہوں گے تو جنرل کیانی نے کہا تھاکہ آپریشن شروع کرنے سے ملک میں دہشت گردی کی لہرمیں فوری 40 فیصدکمی آجائے گی اورباقی ماندہ کامیابی وقت کے ساتھ حاصل ہوگی، انھوں نے یہ نہیں کہا تھاکہ آپریشن کی صورت میں اس کی کامیابی کے امکانات صرف 40 فیصد ہوں گے ، عمران خان بات کو سمجھ نہیں سکے تھے ، ہمیں اپنی فوج پرمکمل اعتمادہے، ہماری فوج ہرقسم کی جارحیت کامقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔فرحت اللہ بابرنے کہاکہ کیلاش وادی کے کیلاشی قبیلہ کے لوگوں کوزبردستی مسلمان کیاجارہاہے،طالبان اس کااعتراف بھی کررہے ہیں۔
افراسیاب خٹک نے کہاکہ حکومت نے پختونوں کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پرچھوڑ دیاہے ۔ رضاربانی نے کہا کہ امن وامان کی صورتحال کنٹرول نہ کرنے پر خیبر پختونخوا حکومت مستعفی ہوجائے۔ سینٹرہری رام نے کہاکہ عمران خان نے عمرکوٹ سندھ میں تقریرکرتے ہوئے کہاتھاکہ ہندوئوں کو زبردستی مسلمان بنایاجارہاہے، اس وجہ سے وہ نقل مکانی کررہے ہیں ، اب خیبرپختونخوامیں ان کی حکومت ہے ، انھوں نے کیلاش کے واقعے کاکیانوٹس لیاہے ؟ کامل علی آغانے کہاکہ مذاکرات کے نام پرعجیب تماشالگایاگیاہے ۔ رحمن ملک نے کہاکہ طالبان کی نیت درست نہیں مذاکرات کس سے کیے جائیں، دریں اثنا میاں رضاربانی اپنے نکتہ اعتراض کاجواب فوری طلب کرنے کے لیے چیئرمین سے الجھ پڑے ۔
چیئرمین نیئرحسین بخاری نے رضاربانی کے رویے کو کنڈکٹ کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے شدیدبرہمی کااظہارکیا۔ نیئربخاری نے کہاکہ انھیں ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔دبائو ڈالاگیاتو کارروائی آگے نہیں چلائوں گا۔ راجا ظفرالحق نے بھی رضاربانی کے رویے پرافسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کو چیئرمین کیساتھ اس طرح مخاطب نہیں ہوناچاہیے۔ بعدمیں اعتزاز احسن نے رضاربانی کو اپنی نشست پر بٹھا کر معاملہ ٹھنڈاکردیا۔ وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویز رشیدنے ایوان میں گیس چوری کی روک تھام اوروصولیوں سے متعلق آرڈیننس پیش کردیا، جسے بعد ازاں متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ رضا ربانی نے کہا کہ آرڈیننس کالاقانون ہے۔
پیر کو اپوزیشن لیڈراعتزاز احسن اورمیاں رضاربانی نے کہاکہ اس متنازع بیان سے فوج کی دفاعی اورجنگی صلاحیت کے بارے میںشکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، وزیراعظم ایوان میں آکرعمران خان کے بیان کے متعلق ارکان کواعتماد میں لیں۔ زاہدخان نے کہاکہ بجٹ کادوسرابڑاحصہ فوج کوجاتاہے اورعمران خان کہہ رہے ہیں کہ فوج آپریشن میں کامیاب نہیں ہوسکتی،حکومت اس پرخاموش کیوں ہے؟قائدایوان راجا ظفرالحق نے اپوزیشن کے تحفظات کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ میں نے عمران خان کے بیان کے متعلق جومعلومات جمع کی ہیں، اس کے مطابق عمران خان کی بات اے پی سی سے پہلے ہونے والے ملاقات کے متعلق ہے۔
عمران خان نے اے پی سی میں شرکت سے پہلے شرط رکھی تھی کہ آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی پہلے انھیں بریفنگ دیں، اس ملاقات میں وزیراعظم اوروزیرداخلہ بھی موجودتھے ، آرمی چیف سے جب یہ پوچھاگیاکہ آپریشن شروع کرنے سے اس کی کامیابی کے کیاامکانات ہوں گے تو جنرل کیانی نے کہا تھاکہ آپریشن شروع کرنے سے ملک میں دہشت گردی کی لہرمیں فوری 40 فیصدکمی آجائے گی اورباقی ماندہ کامیابی وقت کے ساتھ حاصل ہوگی، انھوں نے یہ نہیں کہا تھاکہ آپریشن کی صورت میں اس کی کامیابی کے امکانات صرف 40 فیصد ہوں گے ، عمران خان بات کو سمجھ نہیں سکے تھے ، ہمیں اپنی فوج پرمکمل اعتمادہے، ہماری فوج ہرقسم کی جارحیت کامقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔فرحت اللہ بابرنے کہاکہ کیلاش وادی کے کیلاشی قبیلہ کے لوگوں کوزبردستی مسلمان کیاجارہاہے،طالبان اس کااعتراف بھی کررہے ہیں۔
افراسیاب خٹک نے کہاکہ حکومت نے پختونوں کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پرچھوڑ دیاہے ۔ رضاربانی نے کہا کہ امن وامان کی صورتحال کنٹرول نہ کرنے پر خیبر پختونخوا حکومت مستعفی ہوجائے۔ سینٹرہری رام نے کہاکہ عمران خان نے عمرکوٹ سندھ میں تقریرکرتے ہوئے کہاتھاکہ ہندوئوں کو زبردستی مسلمان بنایاجارہاہے، اس وجہ سے وہ نقل مکانی کررہے ہیں ، اب خیبرپختونخوامیں ان کی حکومت ہے ، انھوں نے کیلاش کے واقعے کاکیانوٹس لیاہے ؟ کامل علی آغانے کہاکہ مذاکرات کے نام پرعجیب تماشالگایاگیاہے ۔ رحمن ملک نے کہاکہ طالبان کی نیت درست نہیں مذاکرات کس سے کیے جائیں، دریں اثنا میاں رضاربانی اپنے نکتہ اعتراض کاجواب فوری طلب کرنے کے لیے چیئرمین سے الجھ پڑے ۔
چیئرمین نیئرحسین بخاری نے رضاربانی کے رویے کو کنڈکٹ کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے شدیدبرہمی کااظہارکیا۔ نیئربخاری نے کہاکہ انھیں ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔دبائو ڈالاگیاتو کارروائی آگے نہیں چلائوں گا۔ راجا ظفرالحق نے بھی رضاربانی کے رویے پرافسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کو چیئرمین کیساتھ اس طرح مخاطب نہیں ہوناچاہیے۔ بعدمیں اعتزاز احسن نے رضاربانی کو اپنی نشست پر بٹھا کر معاملہ ٹھنڈاکردیا۔ وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویز رشیدنے ایوان میں گیس چوری کی روک تھام اوروصولیوں سے متعلق آرڈیننس پیش کردیا، جسے بعد ازاں متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ رضا ربانی نے کہا کہ آرڈیننس کالاقانون ہے۔