وسطی افریقی جمہوریہ میں مسلمان بچوں کے لرزہ خیز قتل عام پر اقوام متحدہ کے حکام بھی کانپ اٹھے

بچوں کے سرتن سے جدا، جسمانی اعضا کاٹ دیے گئے، زخمی بچوں کو علاج بھی میسر نہیں، انسانی المیہ ہے،اقوام متحدہ

بچے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنے، جہاں بالغ بیگناہ بچوں کو قتل کرتے ہوں اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، مینوئل فونٹین۔فوٹو: فائل

اقوام متحدہ نے وسطی افریقی ریاست میں مسلمان بچوں کے لرزہ خیز قتل عام کوانتہائی بھیانک اور انسانی المیہ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ معصوم اور بیگناہ بچوں کا سفاکانہ اوروحشیانہ قتل عام دیکھ کروہ کانپ اٹھے۔


یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹربرائے مغربی ووسطی افریقا مینوئل فونٹین نے جمعے کوجاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وسطی افریقی ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران 133 سے زائد معصوم بچوں کو انتہائی بیدردی اور سفاکی سے قتل کردیا گیا۔

بچوں کے سرتن سے جداکر دیے گئے یاان کے جسم کے اعضا کاٹ دیے گئے۔ مینوئل فونٹین نے کہا کہ جہاں بالغ لوگ بیگناہ بچوںکا وحشیانہ قتل عام کرتے ہوں وہاں ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ انھوں نے مزیدکہا کہ معصوم بچے صرف اپنے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنے ہیں۔ یونیسیف کے حکام علاقے میں بچوں کے کاٹے گئے گلے اور اعضا دیکھ کرششدر رہ گئے۔ فونٹین نے کہا کہ زخمی بچوں کو علاج کی سہولت بھی دستیاب نہیں۔ اقوام متحدہ نے اسے انسانی المیہ قراردیا ہے۔
Load Next Story