کراچی میں امن خواہش ہے آپریشن کسی جماعت کیخلاف نہیں تہمینہ
جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے،وسیم اختر،قمر منصور، تکرار میں گفتگو
طالبان سے مذاکرات کیلیے بنائی کمیٹی کی کارکردگی سے لمحہ بہ لمحہ وزیراعظم کو باخبر رکھا جا رہا ہے۔ فوٹو: فائل
مسلم لیگ(ن) کی رہنما تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ کراچی کی رونقیں بحال ہونی چاہئیں۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''تکرار'' میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ کراچی جیسے حالات آئرلینڈ، سری لنکا اور بھارت میں بھی ہوئے لیکن شائد وہاں کا میڈیا زیادہ نہیں دکھاتا، طالبان سے مذاکرات کیلیے بنائی کمیٹی کی کارکردگی سے لمحہ بہ لمحہ وزیراعظم کو باخبر رکھا جا رہا ہے، کراچی میں کوئی بھی آپریشن کسی ایک جماعت کیخلاف نہیں ہوا، یہ خواہش ضرور ہے کہ کراچی میں امن ہو، دہشتگردی کیخلاف ساری دنیا میں قوانین ہٹ کر ہوتے ہیں اگر وہاں پر کسی کو پکڑا جاتا ہے تو کوئی چٹ نہیں دیکر جاتا۔ متحدہ کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ پچھلے چھ سات سال میں کراچی میں طالبان مضبوط ہوئے ہیں، کراچی میں جعلی رینجرز کی کوئی خبر ہے تو شائد میں اش کو سچ مان لوں، ٹی وی پر بیٹھ کر ہم فیصلے نہیں کر سکتے،ہم نے کسی افسرکو ہٹانے کیلیے کسی کو درخواست نہیں دی، ہاں عدالت میں ماورائے قانون ہلاکتوں اور کارکنوں پر تھرڈ ڈگری ٹارچر کی شکایت کیلیے گئے تھے، اسوقت پورے ملک کا تحقیقاتی نظام خراب ہو چکا ہے اگر انٹیلی جنس کو ٹھیک کر لیا جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کراچی میں جعلی رینجرز کا سامنے آنا تشویش کی بات ہے لیکن دنیا میں جہاں کہیں بھی اسطرح کے حالات ہوتے ہیں وہاں پر وردی کو استعمال کیا جاتا ہے، ٹارگٹڈ آپریشن کسی ایک جماعت کیخلاف ہونے کا تاثر غلط ہے، کسی سے زیادتی نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر کسی سے کچھ ہوا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ سارے آپریشن کو متنازع بنا دیا جائے، آج پورے ملک کے حالات خراب ہیں، جامعہ کراچی میں طالبان کا نیٹ ورک نکلا ہے تو پشاور میں ملالہ کی کتاب کی رونمائی نہیں ہو سکی۔ایم کیوایم کے رہنما قمر منصور نے کہا کہ اگر ٹارگٹڈ آپریشن ایم کیوایم کیخلاف نہیں تو پھر ہمارے خلاف پروپیگنڈہ نہیں ہونا چاہئے، اگر کوئی ہماری جماعت کی آڑ میں غلط کام کر رہا ہے تو اس کو پکڑنا چاہیے، متحدہ کیخلاف اسٹیبلشمنٹ سازش کر رہی ہے، کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ طالبان کیخلاف ایم کیوایم آواز بلند کرے۔ فورسز کو متحدہ سے ہی فرصت نہیں مل رہی یہ طالبان کیخلاف کچھ کر ہی نہیں رہے، جرائم پیشہ افراد کیخلاف آپریشن ہونا چاہیے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''تکرار'' میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ کراچی جیسے حالات آئرلینڈ، سری لنکا اور بھارت میں بھی ہوئے لیکن شائد وہاں کا میڈیا زیادہ نہیں دکھاتا، طالبان سے مذاکرات کیلیے بنائی کمیٹی کی کارکردگی سے لمحہ بہ لمحہ وزیراعظم کو باخبر رکھا جا رہا ہے، کراچی میں کوئی بھی آپریشن کسی ایک جماعت کیخلاف نہیں ہوا، یہ خواہش ضرور ہے کہ کراچی میں امن ہو، دہشتگردی کیخلاف ساری دنیا میں قوانین ہٹ کر ہوتے ہیں اگر وہاں پر کسی کو پکڑا جاتا ہے تو کوئی چٹ نہیں دیکر جاتا۔ متحدہ کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ پچھلے چھ سات سال میں کراچی میں طالبان مضبوط ہوئے ہیں، کراچی میں جعلی رینجرز کی کوئی خبر ہے تو شائد میں اش کو سچ مان لوں، ٹی وی پر بیٹھ کر ہم فیصلے نہیں کر سکتے،ہم نے کسی افسرکو ہٹانے کیلیے کسی کو درخواست نہیں دی، ہاں عدالت میں ماورائے قانون ہلاکتوں اور کارکنوں پر تھرڈ ڈگری ٹارچر کی شکایت کیلیے گئے تھے، اسوقت پورے ملک کا تحقیقاتی نظام خراب ہو چکا ہے اگر انٹیلی جنس کو ٹھیک کر لیا جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کراچی میں جعلی رینجرز کا سامنے آنا تشویش کی بات ہے لیکن دنیا میں جہاں کہیں بھی اسطرح کے حالات ہوتے ہیں وہاں پر وردی کو استعمال کیا جاتا ہے، ٹارگٹڈ آپریشن کسی ایک جماعت کیخلاف ہونے کا تاثر غلط ہے، کسی سے زیادتی نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر کسی سے کچھ ہوا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ سارے آپریشن کو متنازع بنا دیا جائے، آج پورے ملک کے حالات خراب ہیں، جامعہ کراچی میں طالبان کا نیٹ ورک نکلا ہے تو پشاور میں ملالہ کی کتاب کی رونمائی نہیں ہو سکی۔ایم کیوایم کے رہنما قمر منصور نے کہا کہ اگر ٹارگٹڈ آپریشن ایم کیوایم کیخلاف نہیں تو پھر ہمارے خلاف پروپیگنڈہ نہیں ہونا چاہئے، اگر کوئی ہماری جماعت کی آڑ میں غلط کام کر رہا ہے تو اس کو پکڑنا چاہیے، متحدہ کیخلاف اسٹیبلشمنٹ سازش کر رہی ہے، کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ طالبان کیخلاف ایم کیوایم آواز بلند کرے۔ فورسز کو متحدہ سے ہی فرصت نہیں مل رہی یہ طالبان کیخلاف کچھ کر ہی نہیں رہے، جرائم پیشہ افراد کیخلاف آپریشن ہونا چاہیے۔