کتنے روئیں کتنے پیٹیں
ہمارے ہاں اگرچہ کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے مگر ہر جماعت بظاہر کرپشن کے خلاف ہے ...
Abdulqhasan@hotmail.com
''آپ تو چودہ سو سال پرانی باتیں کر رہے ہیں'' یہ جواب ہمیں آج کے نام نہاد جدت پسند لوگوں کی طرف سے اس وقت ملتا ہے جب ہم کسی برائی کو ختم کرنے کے لیے کوئی پرانی زندہ مثال پیش کرتے ہیں جب کہ کرپشن، جھوٹ، چوری، ظلم وغیرہ یہ سب برائیاں آج سے چودہ ہزار سال پہلے بھی برائیاں تھیں جو اب بھی ہیں۔ عالمگیر سچائیوں کی طرح یہ عالمگیر برائیاں ہیں جو پہلی بار انسانی قتل اور قاتل سے لے کر آج تک انسانی قتل کو سب سے بڑا جرم مانتی ہیں اور انسان کے قاتل کو سب سے بڑا مجرم۔ پاکستان اور بھارت دو پڑوسی ملک ہیں قریب قریب ایک جیسے اور انگریزوں کی طویل غلامی سے نجات پا کر آزاد ہوئے ہیں۔ ان میں رائج کئی برائیاں بھی ایک جیسی ہیں مثلاً کرپشن اور بدعنوانی سرفہرست ہیں اور دونوں ملکوں کے حساس اور ذمے دار لوگ اس برائی کو شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ بھارت میں عام آدمی کی پارٹی کے نام سے ایک جماعت بنی جس نے الیکشن میں بھارت کے دارالحکومتی صوبہ دلی کے الیکشن میں خاصی تعداد میں سیٹیں جیت لیں اور دلی میں اپنا وزیراعلیٰ بنا لیا۔ اروند کیجریوال جو وزیراعلیٰ تھے کرپشن کے حامیوں نے ان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ ان کی پارٹی کا بڑا نعرہ ہی کرپشن کا خاتمہ تھا۔ اسی ضمن میں انھوں نے اسمبلی میں بل بھی پیش کر دیا لیکن اس جرم میں ان کی وزارت بھی صاف ہو گئی۔ وہ نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اورکرپشن کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔
ہمارے ہاں اگرچہ کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے مگر ہر جماعت بظاہر کرپشن کے خلاف ہے لیکن سیاسی لیڈر چونکہ خود کم وبیش کرپٹ ہیں اس لیے کرپشن کا خاتمہ ہمارے ہاں جماعتوں کے منشور کا صرف ایک حصہ اور مطالبہ ہی ہے مگر سیاسی جماعتوں کا خواہ وہ اقتدار میں ہی کیوں نہ ہوں کرپشن پر زور نہیں چلتا اور وہ آج تک کرپشن کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں اور نہ ہی کچھ بگاڑ سکیں گی کیونکہ کوئی جس برائی میں خود ملوث ہو بلکہ اس کا سرپرست ہو وہ اس کو ختم کیسے کر سکتا ہے۔ میں کرپشن کے خلاف پرانے زمانوں یعنی چودہ سو سال پہلے کی کوئی مثال نہیں دینا چاہتا یا یوں کہیں کہ یہ جسارت نہیں کر سکتا کہ ان حکمرانوں کے تو آتے ہی کرپشن خودبخود غائب ہو گئی تھی اور انصاف غالب آ گیا تھا۔ ہمارے میڈیا رپورٹر کبھی کبھار جب پولیس کا ذکر کرتے ہیں تو ضمناً یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ ایک ایک لیڈر کی حفاظت پر کتنے درجن یا سو پولیس والے متعین ہیں۔ ایسے حکمران عوام کی حفاظت کیا کریں گے جب کہ جدید ریاست کا بنیادی فرض ہی عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ عمر فاروقؓ آبادی سے باہر کہیں جا رہے تھے اکیلے، اس پر کسی نے انھیں روک کر کہا کہ آپ احتیاطاً کسی کو ساتھ لے لیتے تو اچھا تھا تحفظ کی خاطر۔ اس پر اس حکمران نے فوراً جواب دیا کہ میں ان عام لوگوں کی حفاظت کے لیے ہوں نہ کہ وہ میری حفاظت کے لیے۔
چلتے چلتے یاد آ گیا کہ جن سویلین لوگوں کی حکومت کسی فوجی حکومت کی آمد پر ختم ہو جاتی ہے تو وہ مسلسل شکایت کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی۔ ہماری تاریخ کے سب سے بڑے فوجی سپہ سالار خالد بن ولیدؓ نے اس سوال کا ایک ایسا جواب دیا ہے کہ اگر ہمارے سویلین حکمرانوں کی آنکھ میں کچھ شرم ہو تو وہ آئندہ ایسی بات نہ کریں۔ ملک کے صدر حضرت عمرؓ بن خطاب نے اپنے اس افسانوی اور غیرمعمولی سپہ سالار کو چشم زدن میں اس کے عہدے سے فارغ کر دیا۔ عہدے سے فارغ کرنے کا واقعہ ایک الگ حیرت انگیز واقعہ ہے بہرحال سپہ سالار خالد جب واپس مدینہ لوٹ رہے تھے تو دوران سفر ایک پڑاؤ پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے حکومت کی شکایت کی۔ ظاہر ہے کہ انھیں اپنے اس عہدے سے الگ ہونے کا رنج تھا اس پر ایک سپاہی نے جو ان کی طرح مسافر تھا اور اس سرائے میں ٹھہر گیا تھا کہا کہ جناب امیر آپ کی باتوں سے بغاوت کی بو آتی ہے۔
اس پر اس سپہ سالار نے جس کا نام ہی فتح کی علامت بن چکا تھا، کہا کہ جب تک عمر ہے بغاوت نہیں ہو سکتی۔ یہ عمرؓ ایک سویلین حکمران تھا لیکن عوام کے اس قدر قریب تھا اور عوام کو اس قدر محبوب تھا کہ اس کے خلاف خالد جیسی شخصیت کی بغاوت بھی قابل قبول نہیں تھی۔ آپ یاد کریں کہ کیا پاکستان میں کسی بھی فوجی انقلاب کے نتیجے میں چار آدمی بھی احتجاج کرتے ہوئے باہر نکلے۔ بھٹو صاحب کی برطرفی پر ہلچل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھی کرائے کے لوگوں سے۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے مجھے بتایا کہ جیل سے بھٹو صاحب کے پیغامات آ رہے ہیں کہ مجھے صرف عوامی احتجاج ہی بچا سکتا ہے۔ میری پارٹی میں تو اب جان نہیں۔ آپ اپوزیشن کو متحرک کریں لیکن بقول نواب صاحب کے، میں بھٹو صاحب کی کس نیکی پر اپوزیشن کو متحرک کرتا۔ ان دنوں بھٹو صاحب کے لیڈر تو اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے صوبوں میں اپنے دوستوں کے پاس پناہ گزین ہو گئے تھے اور ان کے کارکن ان کو تلاش کرتے رہ گئے تھے۔
بات کرپشن کو ختم کرنے سے شروع ہوئی تھی لیکن کرپشن کو خود کرپٹ حکمران کیسے ختم کر سکتے ہیں۔ اگر ہمارے حکمران صاف ستھرے ہوتے تو کرپشن ہوتی بھی تو ایک حد کے اندر اور وہ بھی ڈری سہمی۔ اس قدر دیدہ دلیر نہ ہوتی جو آج دکھائی دیتی ہے۔ ابھی آج کی خبر ہے کہ ریلوے کا ایک بوڑھا پنشن کے حصول کی کوشش میں جان ہار گیا مگر اسے اس کا حق نہ دیا گیا اور ان بچیوں کی بے حرمتی کا تو ذکر کرنا بھی بڑے دل گردے کا کام ہے، مجرم اگر پکڑا جاتا ہے تو وہ پھر کہاں جاتا ہے۔ کمزوروں پر کتے چھوڑ دیے جاتے ہیں اور سزائے موت تو یورپ کی پیروی میں ہم نے عملاً معطل کر رکھی ہے جس سے انسانی خون ارزاں ترین ہو چکا ہے۔ اب کہاں تک رویا پیٹا جائے' سب کچھ اللہ کے حوالے۔
ہمارے ہاں اگرچہ کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے مگر ہر جماعت بظاہر کرپشن کے خلاف ہے لیکن سیاسی لیڈر چونکہ خود کم وبیش کرپٹ ہیں اس لیے کرپشن کا خاتمہ ہمارے ہاں جماعتوں کے منشور کا صرف ایک حصہ اور مطالبہ ہی ہے مگر سیاسی جماعتوں کا خواہ وہ اقتدار میں ہی کیوں نہ ہوں کرپشن پر زور نہیں چلتا اور وہ آج تک کرپشن کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں اور نہ ہی کچھ بگاڑ سکیں گی کیونکہ کوئی جس برائی میں خود ملوث ہو بلکہ اس کا سرپرست ہو وہ اس کو ختم کیسے کر سکتا ہے۔ میں کرپشن کے خلاف پرانے زمانوں یعنی چودہ سو سال پہلے کی کوئی مثال نہیں دینا چاہتا یا یوں کہیں کہ یہ جسارت نہیں کر سکتا کہ ان حکمرانوں کے تو آتے ہی کرپشن خودبخود غائب ہو گئی تھی اور انصاف غالب آ گیا تھا۔ ہمارے میڈیا رپورٹر کبھی کبھار جب پولیس کا ذکر کرتے ہیں تو ضمناً یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ ایک ایک لیڈر کی حفاظت پر کتنے درجن یا سو پولیس والے متعین ہیں۔ ایسے حکمران عوام کی حفاظت کیا کریں گے جب کہ جدید ریاست کا بنیادی فرض ہی عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ عمر فاروقؓ آبادی سے باہر کہیں جا رہے تھے اکیلے، اس پر کسی نے انھیں روک کر کہا کہ آپ احتیاطاً کسی کو ساتھ لے لیتے تو اچھا تھا تحفظ کی خاطر۔ اس پر اس حکمران نے فوراً جواب دیا کہ میں ان عام لوگوں کی حفاظت کے لیے ہوں نہ کہ وہ میری حفاظت کے لیے۔
چلتے چلتے یاد آ گیا کہ جن سویلین لوگوں کی حکومت کسی فوجی حکومت کی آمد پر ختم ہو جاتی ہے تو وہ مسلسل شکایت کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی۔ ہماری تاریخ کے سب سے بڑے فوجی سپہ سالار خالد بن ولیدؓ نے اس سوال کا ایک ایسا جواب دیا ہے کہ اگر ہمارے سویلین حکمرانوں کی آنکھ میں کچھ شرم ہو تو وہ آئندہ ایسی بات نہ کریں۔ ملک کے صدر حضرت عمرؓ بن خطاب نے اپنے اس افسانوی اور غیرمعمولی سپہ سالار کو چشم زدن میں اس کے عہدے سے فارغ کر دیا۔ عہدے سے فارغ کرنے کا واقعہ ایک الگ حیرت انگیز واقعہ ہے بہرحال سپہ سالار خالد جب واپس مدینہ لوٹ رہے تھے تو دوران سفر ایک پڑاؤ پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے حکومت کی شکایت کی۔ ظاہر ہے کہ انھیں اپنے اس عہدے سے الگ ہونے کا رنج تھا اس پر ایک سپاہی نے جو ان کی طرح مسافر تھا اور اس سرائے میں ٹھہر گیا تھا کہا کہ جناب امیر آپ کی باتوں سے بغاوت کی بو آتی ہے۔
اس پر اس سپہ سالار نے جس کا نام ہی فتح کی علامت بن چکا تھا، کہا کہ جب تک عمر ہے بغاوت نہیں ہو سکتی۔ یہ عمرؓ ایک سویلین حکمران تھا لیکن عوام کے اس قدر قریب تھا اور عوام کو اس قدر محبوب تھا کہ اس کے خلاف خالد جیسی شخصیت کی بغاوت بھی قابل قبول نہیں تھی۔ آپ یاد کریں کہ کیا پاکستان میں کسی بھی فوجی انقلاب کے نتیجے میں چار آدمی بھی احتجاج کرتے ہوئے باہر نکلے۔ بھٹو صاحب کی برطرفی پر ہلچل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھی کرائے کے لوگوں سے۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے مجھے بتایا کہ جیل سے بھٹو صاحب کے پیغامات آ رہے ہیں کہ مجھے صرف عوامی احتجاج ہی بچا سکتا ہے۔ میری پارٹی میں تو اب جان نہیں۔ آپ اپوزیشن کو متحرک کریں لیکن بقول نواب صاحب کے، میں بھٹو صاحب کی کس نیکی پر اپوزیشن کو متحرک کرتا۔ ان دنوں بھٹو صاحب کے لیڈر تو اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے صوبوں میں اپنے دوستوں کے پاس پناہ گزین ہو گئے تھے اور ان کے کارکن ان کو تلاش کرتے رہ گئے تھے۔
بات کرپشن کو ختم کرنے سے شروع ہوئی تھی لیکن کرپشن کو خود کرپٹ حکمران کیسے ختم کر سکتے ہیں۔ اگر ہمارے حکمران صاف ستھرے ہوتے تو کرپشن ہوتی بھی تو ایک حد کے اندر اور وہ بھی ڈری سہمی۔ اس قدر دیدہ دلیر نہ ہوتی جو آج دکھائی دیتی ہے۔ ابھی آج کی خبر ہے کہ ریلوے کا ایک بوڑھا پنشن کے حصول کی کوشش میں جان ہار گیا مگر اسے اس کا حق نہ دیا گیا اور ان بچیوں کی بے حرمتی کا تو ذکر کرنا بھی بڑے دل گردے کا کام ہے، مجرم اگر پکڑا جاتا ہے تو وہ پھر کہاں جاتا ہے۔ کمزوروں پر کتے چھوڑ دیے جاتے ہیں اور سزائے موت تو یورپ کی پیروی میں ہم نے عملاً معطل کر رکھی ہے جس سے انسانی خون ارزاں ترین ہو چکا ہے۔ اب کہاں تک رویا پیٹا جائے' سب کچھ اللہ کے حوالے۔