قومی ٹوئنٹی 20 کپ مصباح اور حفیظ کی ٹیمیں فائنل میں مدمقابل
لاہور لائنز نے سیمی فائنل میں اسلام آباد لیپرڈز کو 79 رنز سے زیر کیا، کپتان اور ناصر جمشیدکی ففٹیز
لاہور لائنز نے سیمی فائنل میں اسلام آباد لیپرڈز کو 79 رنز سے زیر کیا، کپتان اور ناصر جمشیدکی ففٹیز،فیصل آباد وولفز نے ایبٹ آباد فالکنز کو 51 رنز سے مات دی۔ فوٹو: فائل
دونوں قومی کپتانوں کی ٹیمیں ٹوئنٹی20 کپ کے فائنل میں مدمقابل ہوں گی، محمد حفیظ کی زیر قیادت لاہور لائنز نے سیمی فائنل میں اسلام آباد لیپرڈز کو 79 رنز سے زیر کیا۔
کپتان اور ناصر جمشید نے نصف سنچریاں بنائیں، مصباح الحق کی کمان میں فیصل آباد وولفز نے ایبٹ آباد فالکنز کو 51 رنز سے مات دی، اوپنر فرخ شہزاد84 رنزپر ناٹ آئوٹ رہے، ایونٹ کا فیصلہ کن معرکہ اتوار کو ہو گا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی اسٹیڈیم میں پہلے سیمی فائنل میں اسلام آباد لیپرڈزنے ٹاس جیت کر لاہور لائنز کو بیٹنگ کی دعوت دی، اوپنرز ناصر جمشید اور احمد شہزاد نے 9.2 اوورز میں 84 رنز کی شراکت بنائی، لیفٹ ہینڈر نے33 گیندوں پر 60 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، ان کی وکٹ گرنے کے بعدکپتان حفیظ نے احمد شہزاد (42) کے ساتھ دوسری وکٹ کیلیے 57 رنز جوڑے، عمر اکمل اور حفیظ نے اسکور میں38 رنز کا اضافہ کیا، وکٹ کیپر بیٹسمین 19کے انفرادی اسکور پر رن آئوٹ ہوئے، کپتان نے 32 گیندوں پر4 چھکوں اور3چوکوں کی مدد سے 51 رنز بنائے،آصف رضا 6 اور سعد نسیم 1رن پر ناٹ آئوٹ پویلین لوٹے،مقررہ اوورز میں ٹیم نے 4 وکٹ پر 188 رنز بنائے، زوہیب احمد اور بابر اعظم کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی، عمر گل کوئی شکار نہ کرسکے۔
مشکل ہدف کا پیچھا کرنے والی ٹیم اسلام آباد لیپرڈز کو پہلا نقصان دوسرے ہی اوور میں محمد حفیظ نے پہنچایا،آفاق رحیم بغیر کوئی رن بنائے آئوٹ ہوئے، چوتھے اوور میں عمران علی نے بابر اعظم(8) اور اگلے اوور میں عدنان رسول نے علی سرفراز (3)کو آئوٹ کر دیا،اس وقت ٹیم کا اسکور صرف 29 تھا،بیٹنگ آرڈر میں ترقی پا کر ون ڈائون پوزیشن پر کھیلنے والے عمرگل نے 18 گیندوں پر 22 رنز کی اننگز کھیلی، پہاڑ جیسے ہدف کو دیکھتے ہوئے لیپرڈز کے بیٹسمینوں نے بغیر دیکھے جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش میں وکٹیں گنوائیں، پوری ٹیم 18.4 اوورز میں 109 رنز پرپویلین لوٹ گئی، محمد حفیظ نے 3 اوورز میں صرف 8 رنز کے عوض 2 وکٹیں اپنے نام کیں، اعزاز چیمہ نے اتنے ہی شکار کرنے کیلیے 28 اور عدنان رسول نے 31 رنز دیے،کپتان کو شاندار آل رائونڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
دوسرے فائنل فور میچ میں قومی ون ڈے و ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کی زیر قیادت فیصل آباد وولفز نے ایبٹ آباد فالکنز کو یکطرفہ مقابلے میں51 رنز سے مات دی، فاتح ٹیم نے فرخ شہزاد کے ناقابل شکست 84 رنز کی بدولت مقررہ اوورز میں 4 وکٹ پر 186 رنز بنائے،اوپنر نے 63 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 3 چھکے اور 8 چوکے جڑے ، انھوں نے علی وقاص کے ہمراہ 45 رنز کی اوپنگ اور خرم شہزاد (22) کے ساتھ دوسری وکٹ کیلیے 55 رنز کی شراکت قائم کی، کپتان مصباح الحق 13 رنز ہی بنا سکے، بعدازاں اوپنر اورآصف علی(37) کے درمیان چوتھی وکٹ کیلیے55 رنز اسکور ہوئے، عمران خالد 4 رنز پر ناٹ آئوٹ رہے، جنید خان، احمد جمال، خالد عثمان اور شکیل احمد نے ایک ، ایک وکٹ حاصل کی۔
187 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے والے فالکنز اسکواڈ کے اوپنر یاسر حمید اور حماد علی نے 4 اوورز میں 41 رنز بنا کر امیدیں جگائیں، مگر دونوں افتتاحی بیٹسمینوں کے بعد کپتان یونس خان(11) کی وکٹیں گرنے کے بعد کوئی بھی جم کر نہ کھیل سکا، پوری ٹیم17اوورز میں 105 رنز بنا کر میدان بدر ہوگئی، احسان عادل نے 12 رنز دے کر2وکٹیں اپنے نام کیں،آف اسپنر سعید اجمل نے اتنے ہی شکار کرنے کیلیے25رنز دیے، خرم شہزاد اور عمران خالد نے ایک، ایک وکٹ کا بٹوارا کیا، فرخ شہزاد مین آف دی میچ رہے۔ لاہور لائنز اور فیصل آباد وولفز کی ٹیمیں ٹائٹل کیلیے اتوار کی شام 4 بجے راولپنڈی اسٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوںگی۔
کپتان اور ناصر جمشید نے نصف سنچریاں بنائیں، مصباح الحق کی کمان میں فیصل آباد وولفز نے ایبٹ آباد فالکنز کو 51 رنز سے مات دی، اوپنر فرخ شہزاد84 رنزپر ناٹ آئوٹ رہے، ایونٹ کا فیصلہ کن معرکہ اتوار کو ہو گا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی اسٹیڈیم میں پہلے سیمی فائنل میں اسلام آباد لیپرڈزنے ٹاس جیت کر لاہور لائنز کو بیٹنگ کی دعوت دی، اوپنرز ناصر جمشید اور احمد شہزاد نے 9.2 اوورز میں 84 رنز کی شراکت بنائی، لیفٹ ہینڈر نے33 گیندوں پر 60 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، ان کی وکٹ گرنے کے بعدکپتان حفیظ نے احمد شہزاد (42) کے ساتھ دوسری وکٹ کیلیے 57 رنز جوڑے، عمر اکمل اور حفیظ نے اسکور میں38 رنز کا اضافہ کیا، وکٹ کیپر بیٹسمین 19کے انفرادی اسکور پر رن آئوٹ ہوئے، کپتان نے 32 گیندوں پر4 چھکوں اور3چوکوں کی مدد سے 51 رنز بنائے،آصف رضا 6 اور سعد نسیم 1رن پر ناٹ آئوٹ پویلین لوٹے،مقررہ اوورز میں ٹیم نے 4 وکٹ پر 188 رنز بنائے، زوہیب احمد اور بابر اعظم کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی، عمر گل کوئی شکار نہ کرسکے۔
مشکل ہدف کا پیچھا کرنے والی ٹیم اسلام آباد لیپرڈز کو پہلا نقصان دوسرے ہی اوور میں محمد حفیظ نے پہنچایا،آفاق رحیم بغیر کوئی رن بنائے آئوٹ ہوئے، چوتھے اوور میں عمران علی نے بابر اعظم(8) اور اگلے اوور میں عدنان رسول نے علی سرفراز (3)کو آئوٹ کر دیا،اس وقت ٹیم کا اسکور صرف 29 تھا،بیٹنگ آرڈر میں ترقی پا کر ون ڈائون پوزیشن پر کھیلنے والے عمرگل نے 18 گیندوں پر 22 رنز کی اننگز کھیلی، پہاڑ جیسے ہدف کو دیکھتے ہوئے لیپرڈز کے بیٹسمینوں نے بغیر دیکھے جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش میں وکٹیں گنوائیں، پوری ٹیم 18.4 اوورز میں 109 رنز پرپویلین لوٹ گئی، محمد حفیظ نے 3 اوورز میں صرف 8 رنز کے عوض 2 وکٹیں اپنے نام کیں، اعزاز چیمہ نے اتنے ہی شکار کرنے کیلیے 28 اور عدنان رسول نے 31 رنز دیے،کپتان کو شاندار آل رائونڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
دوسرے فائنل فور میچ میں قومی ون ڈے و ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کی زیر قیادت فیصل آباد وولفز نے ایبٹ آباد فالکنز کو یکطرفہ مقابلے میں51 رنز سے مات دی، فاتح ٹیم نے فرخ شہزاد کے ناقابل شکست 84 رنز کی بدولت مقررہ اوورز میں 4 وکٹ پر 186 رنز بنائے،اوپنر نے 63 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 3 چھکے اور 8 چوکے جڑے ، انھوں نے علی وقاص کے ہمراہ 45 رنز کی اوپنگ اور خرم شہزاد (22) کے ساتھ دوسری وکٹ کیلیے 55 رنز کی شراکت قائم کی، کپتان مصباح الحق 13 رنز ہی بنا سکے، بعدازاں اوپنر اورآصف علی(37) کے درمیان چوتھی وکٹ کیلیے55 رنز اسکور ہوئے، عمران خالد 4 رنز پر ناٹ آئوٹ رہے، جنید خان، احمد جمال، خالد عثمان اور شکیل احمد نے ایک ، ایک وکٹ حاصل کی۔
187 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے والے فالکنز اسکواڈ کے اوپنر یاسر حمید اور حماد علی نے 4 اوورز میں 41 رنز بنا کر امیدیں جگائیں، مگر دونوں افتتاحی بیٹسمینوں کے بعد کپتان یونس خان(11) کی وکٹیں گرنے کے بعد کوئی بھی جم کر نہ کھیل سکا، پوری ٹیم17اوورز میں 105 رنز بنا کر میدان بدر ہوگئی، احسان عادل نے 12 رنز دے کر2وکٹیں اپنے نام کیں،آف اسپنر سعید اجمل نے اتنے ہی شکار کرنے کیلیے25رنز دیے، خرم شہزاد اور عمران خالد نے ایک، ایک وکٹ کا بٹوارا کیا، فرخ شہزاد مین آف دی میچ رہے۔ لاہور لائنز اور فیصل آباد وولفز کی ٹیمیں ٹائٹل کیلیے اتوار کی شام 4 بجے راولپنڈی اسٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوںگی۔