مذاکرات ایک روزہ میچ نہیں کچھ وقت لگے گا زعیم قادری

طالبان یا حکومت نہیں، امن کیساتھ ہیں، طاہر اشرفی، سیزفائر میں تاخیر غلطی ہے، کفایت اللہ

مذاکرات کا عمل چل رہا ہے ہم بہت جنگ کرچکے ہیں اب ہم مذاکرا ت کر رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
مذہبی رہنما علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام علما، مشائخ نے ہاتھ جوڑ کر حکومت اور طالبان سے اپیل کی ہے کہ فوری طورپر جنگ بندی کردیں تاکہ اس ملک میں امن قائم ہوسکے۔


ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ پچھلے 13,12سال میں پہلی مرتبہ امن کے قیام کیلیے سنجیدہ کوشش ہورہی ہے اس کو تھوڑا وقت دینا چاہیے میں یہ دعوے سے کہتا ہوں کہ اگلے دو ڈھائی دن میں عوام کو جنگ بندی کی خوشخبری مل جائیگی، ہم حکومت یا طالبان کے ساتھ نہیں ہیں ہم امن کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ژالہ باری میں کم سن بچوں کو کھڑا کرکے ریکارڈ قائم کرنا غیر مناسب ہے، اس ریکارڈ کو بنانے کے لئے کوئی امیر خاندان کا بچہ نہیں تھا، سارے ہی غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما زعیم قادری نے کہا کہ ایونٹ اور پراسیس میں بہت فرق ہوتا ہے، طالبان سے مذاکرات ون ڈے میچ نہیں، یہ ایک پراسیس ہے، مذاکرات کا عمل چل رہا ہے ہم بہت جنگ کرچکے ہیں اب ہم مذاکرا ت کر رہے ہیں، اس کے لئے کچھ وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکارڈ بنانے کیلئے جب بچے آئے تھے تو اس وقت بارش نہیں تھی، بعد میں بارش ہوگئی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ جنگ بندی میں تاخیر کو دونوں پارٹیوں کی غلطی سمجھتا ہوں۔ پیپلزپارٹی کی رہنما عاصمہ عالمگیر نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو کی تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، پیپلزپارٹی کا موقف سب کے سامنے ہے، ہم نے ہمیشہ مذاکرات کو سپورٹ کیا، حکومت کا ساتھ دیا لیکن آج پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو کو محسوس ہورہا ہے کہ مذاکرات حل کی طرف نہیں جا رہے، مذاکرات کے حوالے سے حکومت کا ہوم ورک بالکل نہیں لگ رہا۔
Load Next Story