شام میں امن کیلئے مذاکرات ناکام ہونے پر اقوام متحدہ کے نمائندے نے شامی عوام سے معافی مانگ لی
جنیوا میں دوسرے دورکے آخری دن فریقین میں ملاقات صرف 27 منٹ جاری رہی،آئندہ ایجنڈے پراتفاق
شامی فورسزکا سعودی خفیہ ایجنسی کے85 اہلکاروں کوگرفتارکرنے کا دعویٰ، 7 اعلی افسر بھی شامل، رہائی کے لیے سعودی عرب کا قطرسے رابطہ، شام مہلک ہتھیار وں کی تلفی کی ڈیڈلائن پر پورانہیں اترسکے گا، اقوام متحدہ۔ فوٹو: فائل
شام کے تنازع کیلیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے نمائندہ خصوصی لخدار براہیمی نے اقوام متحدہ میں منعقد امن مذاکرات کی ناکامی پرشامی عوام سے معذرت کی ہے۔
شامی صدر بشارالاسد اورباغیوں کے نمائندوں کے درمیان جنیوا میں جاری مذاکرات کا دوسرا دور بھی گزشتہ روز مکمل ہوگیا اور لخدار براہیمی کی ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے فریقین سے بات چیت کی آخری کوشش بھی ناکام رہی،ہفتے کوفریقین میں ملاقات صرف 27 منٹ تک جاری رہی جو بے نتیجہ نکلی تاہم فریقین مذاکرات کے اگلے دورکے ایجنڈے پرمتفق ہوئے ہیں۔ لخدار براہیمی نے اس موقع پرکہا کہ شامی حکومت عبوری حکومت کے موضوع پربات ہی نہیں کرنا چاہتی۔ اس کے برعکس شامی حکومت اس خیال سے متفق نہیں اوراس کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اوربات چیت کا موضوع دہشت گردوں کے خلاف جنگ ہونا چاہیے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکا نے بشارحکومت پرزیادہ دبائو کے طریقوں پرغورشروع کر دیا ہے، ہم توقع نہیں کرتے کہ یہ مسئلہ مختصرمدت میں اوراچانک حل ہوجائے گا، ایسے کچھ بالواسطہ اقدامات بھی ہیں جوہم بشارحکومت زیردبائولانے کے لیے لے سکتے ہیں۔
امریکی انڈر سیکریٹری وینڈی شرمین نے کہا روس سے کہا جا رہا ہے کہ بشار الاسد حکومت پردبائو ڈالے تاکہ وہ جنیوا ٹو کے سلسلے میں مذاکرات میں زیادہ سرگرمی دکھائے۔ دوسری طرف ملک میں خونریزی میں مزید 74 افراد ہلاک ہوگئے، صوبے درعا میں ایک کارخود کش حملے میں47 افراد ہلاک ہوئے۔حلب میں ایک جہادی شدت پسند گروہ اور اعتدال پسند باغیوں کے مابین جھڑپ میں 27 افراد ہلاک ہو گئے۔ شام میں سیکیورٹی فورسز نے سعودی خفیہ ایجنسی کے 85افسران کوگرفتارکرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں 7 اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے اپنے اہلکاروں کی رہائی کیلیے اپنے قریبی دوست قطرسے رابطہ کیا ہے، تاہم ابھی تک انھیں رہائی نہیں ملی۔ ادھراقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیاروں کی 3 کھیپ میں سے صرف 11فیصد ہتھیار تلف کیے ہیں اور وہ اس سال 30 جون کی حتمی تاریخ تک مکمل طور پرمہلک ہتھیارتلف نہیں کرسکے گا۔
شامی صدر بشارالاسد اورباغیوں کے نمائندوں کے درمیان جنیوا میں جاری مذاکرات کا دوسرا دور بھی گزشتہ روز مکمل ہوگیا اور لخدار براہیمی کی ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے فریقین سے بات چیت کی آخری کوشش بھی ناکام رہی،ہفتے کوفریقین میں ملاقات صرف 27 منٹ تک جاری رہی جو بے نتیجہ نکلی تاہم فریقین مذاکرات کے اگلے دورکے ایجنڈے پرمتفق ہوئے ہیں۔ لخدار براہیمی نے اس موقع پرکہا کہ شامی حکومت عبوری حکومت کے موضوع پربات ہی نہیں کرنا چاہتی۔ اس کے برعکس شامی حکومت اس خیال سے متفق نہیں اوراس کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اوربات چیت کا موضوع دہشت گردوں کے خلاف جنگ ہونا چاہیے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکا نے بشارحکومت پرزیادہ دبائو کے طریقوں پرغورشروع کر دیا ہے، ہم توقع نہیں کرتے کہ یہ مسئلہ مختصرمدت میں اوراچانک حل ہوجائے گا، ایسے کچھ بالواسطہ اقدامات بھی ہیں جوہم بشارحکومت زیردبائولانے کے لیے لے سکتے ہیں۔
امریکی انڈر سیکریٹری وینڈی شرمین نے کہا روس سے کہا جا رہا ہے کہ بشار الاسد حکومت پردبائو ڈالے تاکہ وہ جنیوا ٹو کے سلسلے میں مذاکرات میں زیادہ سرگرمی دکھائے۔ دوسری طرف ملک میں خونریزی میں مزید 74 افراد ہلاک ہوگئے، صوبے درعا میں ایک کارخود کش حملے میں47 افراد ہلاک ہوئے۔حلب میں ایک جہادی شدت پسند گروہ اور اعتدال پسند باغیوں کے مابین جھڑپ میں 27 افراد ہلاک ہو گئے۔ شام میں سیکیورٹی فورسز نے سعودی خفیہ ایجنسی کے 85افسران کوگرفتارکرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں 7 اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے اپنے اہلکاروں کی رہائی کیلیے اپنے قریبی دوست قطرسے رابطہ کیا ہے، تاہم ابھی تک انھیں رہائی نہیں ملی۔ ادھراقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیاروں کی 3 کھیپ میں سے صرف 11فیصد ہتھیار تلف کیے ہیں اور وہ اس سال 30 جون کی حتمی تاریخ تک مکمل طور پرمہلک ہتھیارتلف نہیں کرسکے گا۔