دہرا معیار

اگرپاکستان میں سیاسی جماعتیں یہ اصلاحات کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تواقتصادی ترقی کا کوئی بھی ماڈل اختیارکیا جاسکتا ہے

اگرپاکستان میں سیاسی جماعتیں یہ اصلاحات کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تواقتصادی ترقی کا کوئی بھی ماڈل اختیارکیا جاسکتا ہے (فوٹو: فائل)

وزیراعظم عمران خان نے مغربی ممالک کے دہرے معیار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب سنکیانگ میں ایگر (ایغور) مسلمانوں کے حوالے سے چین کی پالیسی پر تنقید کرتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت وہاں کے عوام پر جو ظلم کر رہی ہے' اس پر خاموش رہتا ہے۔

وزیراعظم نے مغرب کے اس دہرے معیار کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی برادری نے کشمیراور سنکیانگ کے ایگر( ایغور) ایشوز پردہرا معیار اختیار کررکھا ہے،مغرب ایگر(ایغور) ایشو پر زمینی حقائق کے خلاف چین پر تنقید کرتا ہے جب کہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ہم نے ایگر(ایغور) مسلمانوں کے ساتھ چینی حکومت کے سلوک کے معاملے میں اپنے سفیر معین الحق کو وہاں بھیجا اور معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ مغرب زمینی حقائق کے خلاف پراپیگنڈا کرتا ہے،دوسری طرف بھارت ہے جس نے 90 لاکھ کشمیریوں کو قیدی بنایا ہوا ہے، اس طرف کوئی توجہ نہیںدیتا۔ ہفتے کو چینی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان 40 سال سے جنگ کا شکار تھا اب جب کہ یہاں سے بین الاقوامی افواج کا انخلا ہوچکا ہے تو عالمی برادری کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔

طالبان حکومت چاہے آپ کو پسند ہے یا نہیں لیکن چار کروڑ افغانیوں کے لیے ہمیں ان کی مدد کرنی پڑے گی ورنہ وہاں بدترین انسانی بحران جنم لے گا۔دریںاثناء وزیراعظم نے ہفتے کو ممتاز چینی اخبار''گلوبل ٹائمز''میں شایع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ پاک چین شراکت داری بین الریاستی تعلقات میں بے مثال ہے،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے کہ ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیر ہے۔

ہماری حکومت سی پیک کو ایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے،پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں،پاکستان کے عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

ہمارا مشترکہ وژن ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے میں تزویراتی توازن کو برقرار رکھنے پر منحصر ہے، سرحدوں سے متعلق امور اور مسئلہ کشمیر جیسے تمام تصفیہ طلب مسائل کومذاکرات وسفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں واقدار کے مطابق حل کرنا چاہیے۔

ادھر افغان طالبان کی عبوری حکومت نے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کی سربراہی میں پاکستانی وفد کو یقین دلایا کہ افغان سرزمین کو پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ یقین دہانی افغانستان کے قائم مقام نائب وزیر اعظم ملا عبدالسلام حنفی نے ڈاکٹر معید یوسف کے ساتھ ملاقات کے دوران کرائی، معید یوسف بنیادی طور پر افغانستان کی انسانی ضروریات کا جائزہ لینے اور اقتصادی امور پر بات چیت کے لیے ایک بین الوزارتی وفد کے ہمراہ گزشتہ روز افغانستان پہنچے،ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی برائے افغانستان محمد صادق اور دیگر اعلیٰ حکام بھی تھے۔گزشتہ سال اگست میں افغان طالبان کے قبضے کے بعد معید یوسف دوسرے سینئر پاکستانی عہدے دار ہیں جنھوں نے کابل کا دورہ کیا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کابل کا دورہ کیا تھا۔

مشیر قومی سلامتی کا یہ دورہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کے پس منظر میں عمل میں آیا ہے، پاکستان کو تشویش ہے کہ ٹی ٹی پی اب بھی افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہے،تاہم طالبان حکومت کی طرف سے جاری بیان میں افغان نائب وزیر اعظم نے پاکستانی وفد کو بتایا کہ امارات اسلامیہ کی پالیسی واضح ہے کہ کسی کو افغان سرزمین ہمسایہ اور دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،اور ہم دوسرے ممالک سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے چین' افغانستان اور مقبوضہ کشمیر کے ایشوز پر خاصی اہم باتیں کی ہیں۔ بلاشبہ مغربی ممالک سنکیانگ میں چینی حکومت کی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہیں اور اس حوالے سے مسلم عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سنکیانگ چین کا مسلم اکثریتی علاقہ ہے ، اس کی سرحد پاکستان اور افغانستان سے ملتی ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کو ایگر یا ایغور کہا جاتا ہے۔اسے مشرقی ترکستان کا نام بھی دیا جاتا ہے۔


امریکا اور مغربی ممالک سنکیانگ کو لے کر چین کی کمیونسٹ حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر بات کرنی پڑے تو انھیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ یہی وہ دہرا معیار ہے جس پر وزیراعظم پاکستان نے تنقید کی ہے۔

چین پاکستان کا اہم اتحادی ہے' چین کی صنعتی ترقی نے بھی مغربی ممالک کو پریشان کر رکھا ہے۔چین کی ترقی اور بڑھتی ہوئی تجارت کا راستہ روکنے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک نے بھارت پر ہاتھ رکھ دیا ہے ۔بھارت بھی خود کو چین کا متبادل سمجھتا ہے لیکن چین کی ترقی کی رفتار اور زرمبادلہ کے ذخائر بھارت سے بہت زیادہ ہیں اور اس کا تجارتی حجم بھی بھارت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

چین نے 35 سے 40 سال میں اپنے عوام کو غربت سے نکالا ہے۔ دنیا کے متعدد غریب اور ترقی پذیر ممالک چین کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ہم بھی پاکستان میں چین کے ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے بھی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دونوں ملکوں کی اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کردے گا۔ سی پیک پر تیزی سے کام ہو رہا ہے اور اب یہ منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

وزیراعظم نے نشاندہی کی ہے کہ اس دوسرے مرحلے میں صنعتوں کو منتقل کرتے ہوئے زونز بنائے جا رہے ہیں۔ہم خاص طور پر زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافے کے لیے مدد چاہتے ہیں ، ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی ہمیں چین کی معاونت کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا ایسا نہیں کہ ہم اپنی سلامتی پر توجہ نہیں دے رہے لیکن ہماری خاص توجہ معیشت پر ہے تاکہ ہماری دولت میں اضافہ ہو اور ہم لوگوں کو غربت سے نکال سکیں،وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم چین سے سیکھنا چاہتے ہیں کہ انھوں نے بڑے بڑے شہر کیسے تعمیر کیے اور اپنے بڑے شہروں کے مسائل کیسے حل کیے ہیں۔

چین نے حیرت انگیز ترقی کیسے کی ہے، یہ کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔چین کی ترقی کا ماڈل سب کے سامنے ہے۔پاکستان صنعت و تجارت ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں کیوں ترقی نہیں کرسکا ، اس کی وجوہات کا ہمارے پالیسی سازوں کو بھی بخوبی علم ہے، پاکستان کے آئین اور قوانین میں اسقام، ابہام اور پابندیوں کی بھرمار ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہو تو اس کا اولین کام آئین اور قوانین میں موجود خرابیوں کو دور کرنا ہونا چاہیے۔

اس کام کے ساتھ ہی نصاب تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بناکر پورے ملک میں ایک ہی نصاب نافذ کیا جانا چاہیے۔ریاست تعلیم اور صحت کا شعبہ اپنے ذمے لے کر معاشرے میں تعلیم کے نام پر جاری کاروبار اور منافع خوری کے آگے بند باندھے۔ کارخانے لگانے اور کاروبار کی راہ میں حائل ضابطہ کاری کو سہل اور مختصر بنائے۔ اعلیٰ عہدوں کو دیے گئے، مراعاتی قسم کے صوابدیدی اختیارات کا مکمل طورپر خاتمہ کردیا جائے۔

الیکشن کمیشن کو بااختیار بنایا جائے اور اسے انتظامی،عدالتی اور انتخابی اختیارات دیے جائیں ۔الیکشن کمیشن کا سربراہ اور ارکان کا تقرر سول سروس کے ڈی ایم جی اور پولیس سروس کے افسران میں سے کیا جائے۔سرکاری مشینری کو فعال اور مستعد بنانے کے لیے میرٹ اور شفافیت انتہائی ضروری ہے۔اس مقصد کے لیے وفاقی سروس کمیشن اور صوبائی سروس کمیشن کے سربراہوں اور ارکان کے تقررکا طریقہ کار فول پروف بنایا جائے۔

امتحان دینے والا یا کوئی بھی پاکستانی ٹیکس پیئر اگر سمجھے اور دیکھے کہ ان کمیشنز کے سربراہان یا ارکان کسی قسم کی بدعنوانی یا امتحانوں سے متعلقہ کسی بے قاعدگی کے مرتکب ہوئے تو اسے حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ ان کے خلاف تحقیقات کی متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرسکے۔

اگر پاکستان میں سیاسی جماعتیں یہ اصلاحات کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو اقتصادی ترقی کا کوئی بھی ماڈل اختیار کیا جاسکتا ہے۔معاشی یا اقتصادی ترقی کوئی ایسا راز نہیں ہے جو پاکستان کی رولنگ اور سیاسی اشرافیہ کے علم میں نہ ہو۔مسئلہ صرف اپنے اپنے نسلی ،لسانی اور علاقائی تعصبات، گروہی اور ذاتی مفادات اور نااہلی کا ہے۔

یہی تعصبات ، مفادات اور نااہلی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔انھی وجوہات کی بنا پر ملک میں امیر اور غریب کے الگ الگ قوانین ، امیر اور غریب کے لیے الگ الگ اسکولز،کالجز اور یونیورسٹیز ہیں، الگ الگ تعلیمی نظام ہے، الگ الگ اسپتال ہیں۔ پاکستان میں رولنگ کلاس کا یہی دہرا معیار ہے۔
Load Next Story