اقتصادی رابطہ کمیٹی اسٹیل ملز کی مالی معاونت یا گارنٹی کی تجویز پر اتفاق نہ ہوسکا
حکومت اگراسٹیل ملزکی نجکاری چاہتی ہے توبحالی کو فوقیت دے، غلام مرتضیٰ جتوئی
جامع پالیسی بنائی جائے تاکہ قرضے اترسکیں، افسران کے وفد کی وزیرصنعت سے ملاقات۔ فوٹو: فائل
وفاقی وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل کو بحال کرنے کیلیے مالی معاونت یا گارنٹی کی تجویز پر اقتصادی رابطہ کمیٹی میں اتفاق نہیں ہوسکا، ہم نے ہر سطح پر یہی حل تجویز کیا ہے کہ پہلے پاکستان اسٹیل کی بحالی کی جائے اور اس کیلیے ضروری مالی معاونت یا گارنٹی فراہم کی جائے لیکن اب تک ای سی سی کے دیگر اراکین رضامند نہیں۔
وائس آف پاکستان اسٹیل آفیسرز کے صدر مرزا مقصود کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے تجویز کیا ہے کہ حکومت اگرپاکستان اسٹیل کی نجکاری کرنا چاہتی ہے تو اسکی بحالی کو فوقیت دے۔ چونکہ اگر پاکستان اسٹیل کو موجودہ حالت میں نجی شعبے کو دیا گیا تو حکومت پاکستان کو واجب الادا قرضوں کی مد میں تقریباً100 ارب روپے کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحالی کی صورت میں حکومت کی صرف 30 ارب کی سرمایہ کاری سے قرضوں کا بوجھ پاکستان اسٹیل ہی اٹھانے کے قابل ہوجائے گی اور یہ 30 ارب روپے بھی پاکستان اسٹیل واپس کر سکے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے کئی تجاویز پر کام شروع کیا ہوا ہے، امید ہے کہ بہتر نتائج نکلیں گے۔ ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت اس بات پر متفق ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جاتی رہیں گی اور اس کیلیے مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جاتے رہیں گے۔
وائس کے صدر مرزا مقصود نے پاکستان اسٹیل کی بحالی کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی حکومت کا فائدہ اسی میں ہے کہ پاکستان اسٹیل کی بحالی کیلیے جامع پالیسی بنائی جائے جس سے پاکستان اسٹیل، پیداواری استعداد حاصل کرکے اپنے ذمے قرضے خود اتارنے کے قابل ہو۔ اسکے ساتھ حکومتی سطح پر روس یا چین کے ساتھ اسکی توسیع کا معاہدہ کیا جائے۔ انتظامیہ نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے مشورے پر پہلے ہی پاکستان اسٹیل کے چند ڈپارٹمنٹس کو کمرشل بنیادوں پر چلانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے، اس مرحلے پر حکومت کی سپورٹ بھی حاصل ہوجائے تو پاکستان اسٹیل چند ماہ میں ہی بحالی کے اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ وفد نے نجکاری کمیشن کے چئیرمین محمدزبیر عمر کی جانب سے پاکستان اسٹیل کے آفیسرز کی تعلیمی قابلیت پر اٹھائے جانیوالے سوالات کی بابت وفاقی وزیر کو بتایا کہ پاکستان اسٹیل کی پالیسی کے تحت ہزاروں اندرون و بیرون ملک تربیت یافتہ ہنر مند افراد کو سنیارٹی اور تکنیکی صلاحیتوں کی بنیاد پر آفیسرز کیڈر میں پوسٹ کردیا گیا۔ مگر انکے کام کی نوعیت تبدیل نہیں کی گئی، وہ اپنے اپنے شعبہ جات میں ماہر تسلیم کیے جاتے ہیں اور یہ افراد جو بطور آفیسرز ہیں آج بھی بخوبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نجکاری کمیشن کی جانب سے حقیقی صورت حال کے ادراک کے بغیر اس قسم کے تبصرے پلانٹ پر شدید بے چینی کا باعث ہیں۔
وائس آف پاکستان اسٹیل آفیسرز کے صدر مرزا مقصود کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے تجویز کیا ہے کہ حکومت اگرپاکستان اسٹیل کی نجکاری کرنا چاہتی ہے تو اسکی بحالی کو فوقیت دے۔ چونکہ اگر پاکستان اسٹیل کو موجودہ حالت میں نجی شعبے کو دیا گیا تو حکومت پاکستان کو واجب الادا قرضوں کی مد میں تقریباً100 ارب روپے کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحالی کی صورت میں حکومت کی صرف 30 ارب کی سرمایہ کاری سے قرضوں کا بوجھ پاکستان اسٹیل ہی اٹھانے کے قابل ہوجائے گی اور یہ 30 ارب روپے بھی پاکستان اسٹیل واپس کر سکے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے کئی تجاویز پر کام شروع کیا ہوا ہے، امید ہے کہ بہتر نتائج نکلیں گے۔ ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت اس بات پر متفق ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جاتی رہیں گی اور اس کیلیے مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جاتے رہیں گے۔
وائس کے صدر مرزا مقصود نے پاکستان اسٹیل کی بحالی کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی حکومت کا فائدہ اسی میں ہے کہ پاکستان اسٹیل کی بحالی کیلیے جامع پالیسی بنائی جائے جس سے پاکستان اسٹیل، پیداواری استعداد حاصل کرکے اپنے ذمے قرضے خود اتارنے کے قابل ہو۔ اسکے ساتھ حکومتی سطح پر روس یا چین کے ساتھ اسکی توسیع کا معاہدہ کیا جائے۔ انتظامیہ نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے مشورے پر پہلے ہی پاکستان اسٹیل کے چند ڈپارٹمنٹس کو کمرشل بنیادوں پر چلانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے، اس مرحلے پر حکومت کی سپورٹ بھی حاصل ہوجائے تو پاکستان اسٹیل چند ماہ میں ہی بحالی کے اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ وفد نے نجکاری کمیشن کے چئیرمین محمدزبیر عمر کی جانب سے پاکستان اسٹیل کے آفیسرز کی تعلیمی قابلیت پر اٹھائے جانیوالے سوالات کی بابت وفاقی وزیر کو بتایا کہ پاکستان اسٹیل کی پالیسی کے تحت ہزاروں اندرون و بیرون ملک تربیت یافتہ ہنر مند افراد کو سنیارٹی اور تکنیکی صلاحیتوں کی بنیاد پر آفیسرز کیڈر میں پوسٹ کردیا گیا۔ مگر انکے کام کی نوعیت تبدیل نہیں کی گئی، وہ اپنے اپنے شعبہ جات میں ماہر تسلیم کیے جاتے ہیں اور یہ افراد جو بطور آفیسرز ہیں آج بھی بخوبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نجکاری کمیشن کی جانب سے حقیقی صورت حال کے ادراک کے بغیر اس قسم کے تبصرے پلانٹ پر شدید بے چینی کا باعث ہیں۔