سعودی سرمایہ کار پاکستانی مراعات سے فائدہ اٹھائیں فیڈریشن
سعودی ولی عہد کے ہمراہ آئے وفد سے خطاب،یہاں مزید انویسٹمنٹ کرنا چاہتے ہیں، سربراہ وفد
لاہور: سعودی پاکستانی بزنس کونسل کے چیئرمین علی عبداللہ المنجم ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر شوکت احمد کو شیلڈ دے رہے ہیں۔ فوٹو: این این آئی
وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر شوکت احمد نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب مل کر مقامی پراسسنگ انڈسٹری کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
تھر کول پراجیکٹ کا آغازہوچکا ہے، سعودی سرمایہ کاراسکی پرکشش مراعات سے فائدہ اٹھائیں۔سعودی سرمائے اور پاکستانی علم و ہنر اور انسانی وسائل کا اشتراک دونوں ممالک کو عالمی معاشی قوتیں بنا دے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے سعودی ولی عہد کے ہمراہ آئے ہوئے کاروباری وفد سے خطاب کے دوران کیا۔ وفد میں سعودی پاکستانی بزنس کونسل کے چئیرمین علی عبدللہ المنجم، سیکریٹری جنرل سعودی وفاقی چیمبرعمر بہلو، سعودی سفارتحانہ کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن جاسم الخالدی اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔شوکت احمدنے کہا کہ سعودی عرب سے تجارت پاکستان کی کل عالمی تجارت کا نو فیصد ہے جبکہ وہاں مقیم بیس لاکھ پاکستانی سالانہ اربوں ڈالر بھی ملک میں بھجوا رہے ہیںجس سے بجٹ خسارہ کم ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان دودھ، کھجوراور گوشت سمیت کئی اشیا کی پیداوار میں عالمی شہرت رکھتا ہے مگر پراسسنگ کا شعبہ کمزور ہے جس کی بہتری کیلیے سعودی سرمایہ کاروں کے پاس نادر موقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت 4.7 ارب ڈالر ہے مگر پاکستانی برآمدات صرف 488 ملین ڈالر ہیں۔ سعودی سرمایہ کار پاکستانی ادویہ، سیمنٹ اور دیگر صنعتوں کے معیار اور قیمتیں دیکھ کر خود فیصلہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بے پناہ مراعات فراہم کر رہا ہے جبکہ اسٹاک ایکسچینج 37 فیصد سالانہ منافع دے رہا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی بھائیوں کو افغانستان، چین اور وسط ایشیا تک رسائی حاصل کرنے میں ہر ممکن مدد دیگا۔ سعودی وفد کے سربراہ نے کہا کہ ہم پاکستان میں بھرپور سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی اپنے ملک کے مختلف شعبوں میں سرمایہ لگانے پر ہر ممکن سہولت فراہم کرینگے۔اس موقع پر سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانہ کے کمرشل اتاشی وسیم حیات باجوہ، نائب صدر ایف پی سی سی آئی منور مغل، اسلام آباد چیمبر کے صدرشعبان خالد، سابق صدر ظفر بختاوری، ڈی جی بورڈ آف انویسٹمنٹ فلک شیر، جوائنٹ سیکریٹری کامرس فضل عباس میکن بھی موجود تھے۔
تھر کول پراجیکٹ کا آغازہوچکا ہے، سعودی سرمایہ کاراسکی پرکشش مراعات سے فائدہ اٹھائیں۔سعودی سرمائے اور پاکستانی علم و ہنر اور انسانی وسائل کا اشتراک دونوں ممالک کو عالمی معاشی قوتیں بنا دے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے سعودی ولی عہد کے ہمراہ آئے ہوئے کاروباری وفد سے خطاب کے دوران کیا۔ وفد میں سعودی پاکستانی بزنس کونسل کے چئیرمین علی عبدللہ المنجم، سیکریٹری جنرل سعودی وفاقی چیمبرعمر بہلو، سعودی سفارتحانہ کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن جاسم الخالدی اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔شوکت احمدنے کہا کہ سعودی عرب سے تجارت پاکستان کی کل عالمی تجارت کا نو فیصد ہے جبکہ وہاں مقیم بیس لاکھ پاکستانی سالانہ اربوں ڈالر بھی ملک میں بھجوا رہے ہیںجس سے بجٹ خسارہ کم ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان دودھ، کھجوراور گوشت سمیت کئی اشیا کی پیداوار میں عالمی شہرت رکھتا ہے مگر پراسسنگ کا شعبہ کمزور ہے جس کی بہتری کیلیے سعودی سرمایہ کاروں کے پاس نادر موقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت 4.7 ارب ڈالر ہے مگر پاکستانی برآمدات صرف 488 ملین ڈالر ہیں۔ سعودی سرمایہ کار پاکستانی ادویہ، سیمنٹ اور دیگر صنعتوں کے معیار اور قیمتیں دیکھ کر خود فیصلہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بے پناہ مراعات فراہم کر رہا ہے جبکہ اسٹاک ایکسچینج 37 فیصد سالانہ منافع دے رہا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی بھائیوں کو افغانستان، چین اور وسط ایشیا تک رسائی حاصل کرنے میں ہر ممکن مدد دیگا۔ سعودی وفد کے سربراہ نے کہا کہ ہم پاکستان میں بھرپور سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی اپنے ملک کے مختلف شعبوں میں سرمایہ لگانے پر ہر ممکن سہولت فراہم کرینگے۔اس موقع پر سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانہ کے کمرشل اتاشی وسیم حیات باجوہ، نائب صدر ایف پی سی سی آئی منور مغل، اسلام آباد چیمبر کے صدرشعبان خالد، سابق صدر ظفر بختاوری، ڈی جی بورڈ آف انویسٹمنٹ فلک شیر، جوائنٹ سیکریٹری کامرس فضل عباس میکن بھی موجود تھے۔