ادائیگی سے انکار کے الیکٹرک پر حکومتی ادارے کے 5 ارب واجب الادا
کے الیکٹرک کوایٹمی بجلی گھر کینپ سے80 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کاسلسلہ بلا تعطل جاری ہے، اٹامک انرجی کمیشن
بجلی کمپنی سوئی سدرن گیس اور پی ایس اوکو بھی واجبات ادانہیںکررہی،صارفین کی عدم ادائیگی پر کنکشن کاٹنے والا ادارہ سرکاری اداروں کوادائیگی سے گریزاں۔ فوٹو : فائل
لاہور:
این ٹی ڈی سی، سوئی سدرن گیس اور پی ایس او کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ کے الیکٹرک (کے ای ایس سی) پر بجلی کی خریداری کے مد میں5 ارب روپے کے واجبات ہیں۔
واجبات کی ادائیگی نہ کرنے والے صارفین کے لیے عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا نجی ادارہ کے الیکٹرک اپنے واجبات کی ادائیگی میں سنجیدہ نہیں ہے، تفصیلات کے مطابق ہفتے کو ایٹمی بجلی گھر کینپ میں ہونے والی ذرائع ابلاغ کی ورکشاپ کے دوران انکشاف کیا گیا ہے کہ ایٹمی بجلی گھر سے کراچی کو 80 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے اور یہ سلسلہ کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد بھی بلا کسی تعطل کے جاری ہے، ایٹمی بجلی گھر کی جانب سے فراہم کی جانے والی بجلی فرنس آئل اور قدرتی گیس سے پیدا کی جانے والی بجلی کے مقابلے میں کہیں سستی ہے، تاہم کے الیکٹرک کی انتظامیہ سستی بجلی حاصل کرنے کے باوجود اس کے عوض ادائیگی کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی۔
واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیر مملکت برائے پانی و بجلی کی جانب سے کے ای ایس سی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا انھوں نے بتایا تھا کہ کے الیکٹرک نہ صرف این ٹی ڈی سی سے معاہدے سے زیادہ بجلی حاصل کررہی ہے اور دوسری جانب اربوں روپے کے واجبات کی ادائیگی بھی نہیں کی جارہی ہے، اس کے علاوہ سوئی سدرن گیس اور پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے بھی وقفے وقفے سے یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ بجلی کمپنی واجبات کی ادائیگی نہیں کررہی ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ شہریوں سمیت تمام صارفین کے بجلی کنکشن واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں نہ صرف منقطع کردیتی ہے بلکہ واجبات ادا نہ کرنیوالے صارفین کے علاقوں میں نہ صرف بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ طویل ہے بلکہ ان علاقوں میں ٹرانسفارمر اور دیگر خرابیوں کی صورت میں اس وقت تک بجلی کا نظام بحال نہیں کیا جاتا جب تک صارفین اپنے واجبات ادا نہ کردیں۔
کے الیکٹرک وفاقی حکومت کے اداروں کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کے مطالبے کو مسترد کرتی رہی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت نے بھی ادارے کو خطیر واجبات ادا کرنے ہیںپہلی مرتبہ خود مختار ادارے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی جانب سے دیے جانیوالے اعدادوشمار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اپنے صارفین کیلیے عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا نجی ادارہ خود اپنے واجبات کی ادائیگی نہیں کررہا ہے، واضح رہے کہ کے الیکٹرک نے چند ماہ قبل کروڑوں روپے کی عدم ادائیگی پر ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی کے پمپنگ اسٹیشنوں کی بجلی منقطع کر دی تھی۔
این ٹی ڈی سی، سوئی سدرن گیس اور پی ایس او کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ کے الیکٹرک (کے ای ایس سی) پر بجلی کی خریداری کے مد میں5 ارب روپے کے واجبات ہیں۔
واجبات کی ادائیگی نہ کرنے والے صارفین کے لیے عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا نجی ادارہ کے الیکٹرک اپنے واجبات کی ادائیگی میں سنجیدہ نہیں ہے، تفصیلات کے مطابق ہفتے کو ایٹمی بجلی گھر کینپ میں ہونے والی ذرائع ابلاغ کی ورکشاپ کے دوران انکشاف کیا گیا ہے کہ ایٹمی بجلی گھر سے کراچی کو 80 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے اور یہ سلسلہ کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد بھی بلا کسی تعطل کے جاری ہے، ایٹمی بجلی گھر کی جانب سے فراہم کی جانے والی بجلی فرنس آئل اور قدرتی گیس سے پیدا کی جانے والی بجلی کے مقابلے میں کہیں سستی ہے، تاہم کے الیکٹرک کی انتظامیہ سستی بجلی حاصل کرنے کے باوجود اس کے عوض ادائیگی کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی۔
واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیر مملکت برائے پانی و بجلی کی جانب سے کے ای ایس سی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا انھوں نے بتایا تھا کہ کے الیکٹرک نہ صرف این ٹی ڈی سی سے معاہدے سے زیادہ بجلی حاصل کررہی ہے اور دوسری جانب اربوں روپے کے واجبات کی ادائیگی بھی نہیں کی جارہی ہے، اس کے علاوہ سوئی سدرن گیس اور پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے بھی وقفے وقفے سے یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ بجلی کمپنی واجبات کی ادائیگی نہیں کررہی ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ شہریوں سمیت تمام صارفین کے بجلی کنکشن واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں نہ صرف منقطع کردیتی ہے بلکہ واجبات ادا نہ کرنیوالے صارفین کے علاقوں میں نہ صرف بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ طویل ہے بلکہ ان علاقوں میں ٹرانسفارمر اور دیگر خرابیوں کی صورت میں اس وقت تک بجلی کا نظام بحال نہیں کیا جاتا جب تک صارفین اپنے واجبات ادا نہ کردیں۔
کے الیکٹرک وفاقی حکومت کے اداروں کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کے مطالبے کو مسترد کرتی رہی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت نے بھی ادارے کو خطیر واجبات ادا کرنے ہیںپہلی مرتبہ خود مختار ادارے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی جانب سے دیے جانیوالے اعدادوشمار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اپنے صارفین کیلیے عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا نجی ادارہ خود اپنے واجبات کی ادائیگی نہیں کررہا ہے، واضح رہے کہ کے الیکٹرک نے چند ماہ قبل کروڑوں روپے کی عدم ادائیگی پر ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی کے پمپنگ اسٹیشنوں کی بجلی منقطع کر دی تھی۔