مہنگائی کی طوفانی لہر پر قابو پایا جائے
تازہ ترین اطلاعات اور رپورٹس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے
تازہ ترین اطلاعات اور رپورٹس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ فوٹو:فائل
JAKARTA:
ملک میں مہنگائی کی لہر مزید بلند ہوئی ہے۔ عام اور روزمرہ استعمال کی اشیاء مزید مہنگی ہوگئی ہیں۔
پاکستانی معیشت جس طرح مشکلات کا شکار ہوتی جارہی ہے ، اس کا سوچ کر ہر محب وطن پاکستانی خوف اور فکر میں گھرتا جا رہا ہے۔ مہنگائی پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے بڑھنے لگی ہے۔ اکثر و بیشتر اس کے لیے آئی ایم ایف کے قرضوں کی شرائط کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات اور رپورٹس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، شہری علاقوں میں مہنگائی 13 فیصد اور دیہی علاقوں میں 12.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے جب کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب نیپرا کی جانب سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 3 روپے سے زائد اضافے سے عوام پر 30ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جائے گا ، جب کہ حکومتی وزراء عوام کو کفایت شعاری اور قناعت پسندی کے درس دے رہے ہیں ۔
2022کا آغاز منی بجٹ کی صورت میں رونما ہوا ہے، آنے والے دنوں میں کیا کیا ہوگا، عوام کو اس کا اندازہ ابھی سے ہونا شروع ہو گیا ہے، موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو عوام کو توقعات تھیں کہ ماضی میں جو کرپشن ہوتی رہی ، وہ بند ہوجائے ، معاشی استحکام آئے اور مہنگائی کنٹرول میں رہے گی، لیکن تقریباً ساڑھے تین برس گزرنے کے بعد مہنگائی بڑھنے کی رفتار حدود سے آگے نکل گئی ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا موقف ہے کہ ''مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ عوام صبر کریں کیونکہ مہنگائی کم کرنے میں وقت لگے گا'' جب کہ انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر نے بہت زیادہ منافع کمایا ہے انھیں اب مزدوروں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے آیندہ2 ماہ کے لیے بنیادی شرح سود کو 9.75 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے مستقبل قریب میں پالیسی ریٹ میں کوئی بڑی تبدیلی نہ ہونے کا عندیہ دیا ہے۔
ایک طرف اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود کو مستحکم رکھا ہوا ہے مگر اس کے ساتھ ہی گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ عندیہ بھی دے دیا ہے کہ مہنگائی فوری طور پر جانے والی نہیں ہے اور کم از کم موجودہ مالی سال کے باقی ماندہ مہینوں میں بھی مہنگائی 11 فیصد یا اس سے زائد ہی رہے گی۔ اس کے برعکس حکومت نے موجودہ مالی سال کے لیے مہنگائی کا ہدف 9 سے 11 فیصد طے کیا تھا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ عالمی سطح پر اگر مہنگائی کم بھی ہوگئی تو پاکستان پر اس کے اثرات نہیں ہوں گے۔
ایک سادہ سوال ہے کہ کیا مہنگائی میں اضافہ صرف بیرونی عوامل کی وجہ سے ہوا ہے یا آیندہ مزید ہوگا؟ ایسا نہیں ہے، اگر عالمی سطح پر مہنگائی کی شرح میں کمی ہو بھی جائے تب بھی پاکستان میں مہنگائی کی شرح دو ہندسوں میں رہے گی۔ اس کی بڑی وجہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے جاری اعلامیے اور گورنر اسٹیٹ بینک کے خطاب میں سامنے آئی کہ حکومت کی جانب سے جو ضمنی بجٹ منظور کیا گیا ہے اس میں بڑے پیمانے پر مراعات کو ختم کردیا گیا ہے اور عام استعمال کی بہت سی ایسی اشیاء جن کو پہلے ٹیکس سے چھوٹ حاصل تھی ان پر سیلز ٹیکس عائد ہوگیا ہے۔
اس کے علاوہ وہ شعبہ جات جہاں پر پہلے سے سیلز ٹیکس عائد تھا ، وہاں ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ حکومت کے یہ اقدامات بھی مہنگائی کی شرح کو بڑھانے کا سبب بنیں گے۔
گزشتہ دنوں گورنر اسٹیٹ بینک کی میڈیا بریفنگ سے 2 باتیں ہی اخذ کی جاسکتی ہیں کہ موجودہ مالی سال یعنی جولائی تک مہنگائی کی شرح میں کمی ایک خواب ہی رہے گی اور قیمتوں میں اضافے کی شرح 10 فیصد سے کم نہیں ہوسکے گی۔ اس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑھائی گئی شرح سود اور ٹیکسوں میں اضافے سے معاشی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوگی اور جی ڈی پی کا ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا، یعنی نہ ہی عوام کی قوت خرید میں بہتری یا استحکام آئے گا اور نہ ہی ملازمتوں کے نئے مواقعے پیدا ہوسکیں گے۔
گزرے برس ، پٹرول41فیصد، ڈیزل 37فیصد، گھی 54فیصد، کوکنگ آئل51فیصد، آٹا 21 فیصد، چینی چار فیصد، پیمپرز 48فیصد، دالیں، گوشت، چائے کی پتی، دودھ، روٹی، دہی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ سرکاری اور نجی ملازمین سارا سال مہنگائی اور تنخواہوں میں اضافہ کا رونا روتے رہے ، اس وقت مہنگائی کی طوفانی لہر شدت کے ساتھ پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، اب برداشت کی تمام حدود پار کر رہی ہے۔
تیل، چینی، آٹا، دالیں، سبزیاں، انڈے، گوشت، بجلی وگیس کے بل اور اسکول فیس آبادی کے بڑے طبقے کی برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔ جب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ موجودہ معاشی نظام کام کیسے کرتا ہے تو ہمیں مہنگائی اور اس سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان ایک گہرا اور لازمی رشتہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ مہنگائی کی دوسری وجہ حکومت کی جانب سے ڈیمانڈ سپلائی کے میکینزم کی نگہداشت میں نااہلی اور کرپٹ حکومتی عہدیداروں کا اس عمل کی نگہداشت میں بڑے بڑے سرمایہ داروں کو سپورٹ کرنا ہے، جس سے مارکیٹ میں اشیائے ضرورت کی کمی کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے جمہوری حکمران عالمی طاقتوں اور مقامی سرمایہ داروں کے فرنٹ مین بن کر سپلائی چین کو ہائی جیک کرنے کی کوششوں میں کوئی مداخلت نہیں کرتے بلکہ الٹا ان کی بلیک میلنگ میں آ کر ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ یہ سرمایہ دار ذخیرہ اندوزی کر کے اور کارٹیل بنا کر سپلائی کی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ اشیاء کی قیمت بڑھا کر دن دگنا، رات چوگنا منافع کما سکیں۔
اس کی واضح مثالیں عوام ملک میں آٹا ، چینی اور پیٹرول کی قلت کے بحرانوں کی صورت میں عملی طور پر دیکھ چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومت آئی ایم ایف کو ڈالر کی قسطیں پوری کرنے کے چکر میں ضروری اشیاء درآمد ہی نہیں کرتی یا تاخیر سے درآمد کرتی ہے خواہ و تیل، LNG ہو یا گندم، چینی اور دیگر اجناس، تاکہ ڈالر کو بچا کر کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کم کیا جا سکے اور بین الاقوامی سود کی قسطیں پوری کی جا سکیں، خواہ عوام کے پاس دو وقت کے کھانے کی روٹی ہی کیوں نہ ختم ہو جائے، یوں سپلائی کی قلت قیمتوں کے بڑھنے پر منتج ہوتی ہے اور مہنگائی کا سبب بنتی ہے۔
مہنگائی میں اضافے کی تیسری بڑی وجہ توانائی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہے جس سے کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بجلی بنانے کے کارخانوں کی نجکاری سے انرجی انفرا اسٹرکچر عوامی اور ملکی کنٹرول سے نکل کر چند ملٹی نیشنل سرمایہ داروں کے قابو میں آ جاتا ہے جو توانائی کی فراہمی اور اس کی قیمتوں پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔
مہنگائی میں اضافے کی چوتھی بڑی اور بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ معیشت میں ٹیکس کا نظام ہے جو بلواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے اکثر ٹیکس خصوصی طور پر بلا واسطہ ٹیکس، تمام اشیاء اور خدمات پر بالعموم لاگو کیے جاتے ہیں جس وجہ سے اشیاء اور خدمات کی قیمتیں اپنی اصل قیمتوں سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔
اس کی ایک مثال پٹرولیم مصنوعات کی اصل قیمتوں پر لاگو کیا جانے والا جنرل سیلز ٹیکس اور پٹرولیم لیوی ہیں، جس کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے منفی اثرات تمام شعبہ ہائے زندگی پر مرتب ہورہے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے ، جس کی وجہ عام آدمی کی مشکلات بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں ، لیکن حکومتی سطح پر ٹرانسپورٹرز کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے ۔
حکومت نے مہنگائی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے تو آیندہ شائد اسے عوام کی جانب سے پذیرائی ملنا مشکل ہو جائے۔ ان ساری پریشانیوں اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ وہ حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لے بلکہ ممکن ہو تو اس حوالے سے سبسڈی فراہم کرے تا کہ عام استعمال کی یہ اشیاء عوام کی قوت خرید کے اندر رہیں اور اس کی وجہ سے عوامی سطح پر مسائل کے بڑھنے کا جو خدشہ بڑھ رہا ہے، وہ ختم ہو جائے۔
ملک میں مہنگائی کی لہر مزید بلند ہوئی ہے۔ عام اور روزمرہ استعمال کی اشیاء مزید مہنگی ہوگئی ہیں۔
پاکستانی معیشت جس طرح مشکلات کا شکار ہوتی جارہی ہے ، اس کا سوچ کر ہر محب وطن پاکستانی خوف اور فکر میں گھرتا جا رہا ہے۔ مہنگائی پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے بڑھنے لگی ہے۔ اکثر و بیشتر اس کے لیے آئی ایم ایف کے قرضوں کی شرائط کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات اور رپورٹس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، شہری علاقوں میں مہنگائی 13 فیصد اور دیہی علاقوں میں 12.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے جب کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب نیپرا کی جانب سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 3 روپے سے زائد اضافے سے عوام پر 30ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جائے گا ، جب کہ حکومتی وزراء عوام کو کفایت شعاری اور قناعت پسندی کے درس دے رہے ہیں ۔
2022کا آغاز منی بجٹ کی صورت میں رونما ہوا ہے، آنے والے دنوں میں کیا کیا ہوگا، عوام کو اس کا اندازہ ابھی سے ہونا شروع ہو گیا ہے، موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو عوام کو توقعات تھیں کہ ماضی میں جو کرپشن ہوتی رہی ، وہ بند ہوجائے ، معاشی استحکام آئے اور مہنگائی کنٹرول میں رہے گی، لیکن تقریباً ساڑھے تین برس گزرنے کے بعد مہنگائی بڑھنے کی رفتار حدود سے آگے نکل گئی ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا موقف ہے کہ ''مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ عوام صبر کریں کیونکہ مہنگائی کم کرنے میں وقت لگے گا'' جب کہ انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر نے بہت زیادہ منافع کمایا ہے انھیں اب مزدوروں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے آیندہ2 ماہ کے لیے بنیادی شرح سود کو 9.75 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے مستقبل قریب میں پالیسی ریٹ میں کوئی بڑی تبدیلی نہ ہونے کا عندیہ دیا ہے۔
ایک طرف اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود کو مستحکم رکھا ہوا ہے مگر اس کے ساتھ ہی گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ عندیہ بھی دے دیا ہے کہ مہنگائی فوری طور پر جانے والی نہیں ہے اور کم از کم موجودہ مالی سال کے باقی ماندہ مہینوں میں بھی مہنگائی 11 فیصد یا اس سے زائد ہی رہے گی۔ اس کے برعکس حکومت نے موجودہ مالی سال کے لیے مہنگائی کا ہدف 9 سے 11 فیصد طے کیا تھا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ عالمی سطح پر اگر مہنگائی کم بھی ہوگئی تو پاکستان پر اس کے اثرات نہیں ہوں گے۔
ایک سادہ سوال ہے کہ کیا مہنگائی میں اضافہ صرف بیرونی عوامل کی وجہ سے ہوا ہے یا آیندہ مزید ہوگا؟ ایسا نہیں ہے، اگر عالمی سطح پر مہنگائی کی شرح میں کمی ہو بھی جائے تب بھی پاکستان میں مہنگائی کی شرح دو ہندسوں میں رہے گی۔ اس کی بڑی وجہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے جاری اعلامیے اور گورنر اسٹیٹ بینک کے خطاب میں سامنے آئی کہ حکومت کی جانب سے جو ضمنی بجٹ منظور کیا گیا ہے اس میں بڑے پیمانے پر مراعات کو ختم کردیا گیا ہے اور عام استعمال کی بہت سی ایسی اشیاء جن کو پہلے ٹیکس سے چھوٹ حاصل تھی ان پر سیلز ٹیکس عائد ہوگیا ہے۔
اس کے علاوہ وہ شعبہ جات جہاں پر پہلے سے سیلز ٹیکس عائد تھا ، وہاں ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ حکومت کے یہ اقدامات بھی مہنگائی کی شرح کو بڑھانے کا سبب بنیں گے۔
گزشتہ دنوں گورنر اسٹیٹ بینک کی میڈیا بریفنگ سے 2 باتیں ہی اخذ کی جاسکتی ہیں کہ موجودہ مالی سال یعنی جولائی تک مہنگائی کی شرح میں کمی ایک خواب ہی رہے گی اور قیمتوں میں اضافے کی شرح 10 فیصد سے کم نہیں ہوسکے گی۔ اس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑھائی گئی شرح سود اور ٹیکسوں میں اضافے سے معاشی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوگی اور جی ڈی پی کا ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا، یعنی نہ ہی عوام کی قوت خرید میں بہتری یا استحکام آئے گا اور نہ ہی ملازمتوں کے نئے مواقعے پیدا ہوسکیں گے۔
گزرے برس ، پٹرول41فیصد، ڈیزل 37فیصد، گھی 54فیصد، کوکنگ آئل51فیصد، آٹا 21 فیصد، چینی چار فیصد، پیمپرز 48فیصد، دالیں، گوشت، چائے کی پتی، دودھ، روٹی، دہی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ سرکاری اور نجی ملازمین سارا سال مہنگائی اور تنخواہوں میں اضافہ کا رونا روتے رہے ، اس وقت مہنگائی کی طوفانی لہر شدت کے ساتھ پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، اب برداشت کی تمام حدود پار کر رہی ہے۔
تیل، چینی، آٹا، دالیں، سبزیاں، انڈے، گوشت، بجلی وگیس کے بل اور اسکول فیس آبادی کے بڑے طبقے کی برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔ جب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ موجودہ معاشی نظام کام کیسے کرتا ہے تو ہمیں مہنگائی اور اس سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان ایک گہرا اور لازمی رشتہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ مہنگائی کی دوسری وجہ حکومت کی جانب سے ڈیمانڈ سپلائی کے میکینزم کی نگہداشت میں نااہلی اور کرپٹ حکومتی عہدیداروں کا اس عمل کی نگہداشت میں بڑے بڑے سرمایہ داروں کو سپورٹ کرنا ہے، جس سے مارکیٹ میں اشیائے ضرورت کی کمی کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے جمہوری حکمران عالمی طاقتوں اور مقامی سرمایہ داروں کے فرنٹ مین بن کر سپلائی چین کو ہائی جیک کرنے کی کوششوں میں کوئی مداخلت نہیں کرتے بلکہ الٹا ان کی بلیک میلنگ میں آ کر ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ یہ سرمایہ دار ذخیرہ اندوزی کر کے اور کارٹیل بنا کر سپلائی کی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ اشیاء کی قیمت بڑھا کر دن دگنا، رات چوگنا منافع کما سکیں۔
اس کی واضح مثالیں عوام ملک میں آٹا ، چینی اور پیٹرول کی قلت کے بحرانوں کی صورت میں عملی طور پر دیکھ چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومت آئی ایم ایف کو ڈالر کی قسطیں پوری کرنے کے چکر میں ضروری اشیاء درآمد ہی نہیں کرتی یا تاخیر سے درآمد کرتی ہے خواہ و تیل، LNG ہو یا گندم، چینی اور دیگر اجناس، تاکہ ڈالر کو بچا کر کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کم کیا جا سکے اور بین الاقوامی سود کی قسطیں پوری کی جا سکیں، خواہ عوام کے پاس دو وقت کے کھانے کی روٹی ہی کیوں نہ ختم ہو جائے، یوں سپلائی کی قلت قیمتوں کے بڑھنے پر منتج ہوتی ہے اور مہنگائی کا سبب بنتی ہے۔
مہنگائی میں اضافے کی تیسری بڑی وجہ توانائی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہے جس سے کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بجلی بنانے کے کارخانوں کی نجکاری سے انرجی انفرا اسٹرکچر عوامی اور ملکی کنٹرول سے نکل کر چند ملٹی نیشنل سرمایہ داروں کے قابو میں آ جاتا ہے جو توانائی کی فراہمی اور اس کی قیمتوں پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔
مہنگائی میں اضافے کی چوتھی بڑی اور بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ معیشت میں ٹیکس کا نظام ہے جو بلواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے اکثر ٹیکس خصوصی طور پر بلا واسطہ ٹیکس، تمام اشیاء اور خدمات پر بالعموم لاگو کیے جاتے ہیں جس وجہ سے اشیاء اور خدمات کی قیمتیں اپنی اصل قیمتوں سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔
اس کی ایک مثال پٹرولیم مصنوعات کی اصل قیمتوں پر لاگو کیا جانے والا جنرل سیلز ٹیکس اور پٹرولیم لیوی ہیں، جس کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے منفی اثرات تمام شعبہ ہائے زندگی پر مرتب ہورہے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے ، جس کی وجہ عام آدمی کی مشکلات بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں ، لیکن حکومتی سطح پر ٹرانسپورٹرز کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے ۔
حکومت نے مہنگائی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے تو آیندہ شائد اسے عوام کی جانب سے پذیرائی ملنا مشکل ہو جائے۔ ان ساری پریشانیوں اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ وہ حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لے بلکہ ممکن ہو تو اس حوالے سے سبسڈی فراہم کرے تا کہ عام استعمال کی یہ اشیاء عوام کی قوت خرید کے اندر رہیں اور اس کی وجہ سے عوامی سطح پر مسائل کے بڑھنے کا جو خدشہ بڑھ رہا ہے، وہ ختم ہو جائے۔