کوئل ہند لتا منگیشکر چل بسیں
بھارت میں گلوکارہ کی موت پر دو دن کا ریاستی سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے
بھارت میں گلوکارہ کی موت پر دو دن کا ریاستی سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ فوٹو:فائل
LIVERPOOL:
گلوکارہ لتا منگیشکر ممبئی کے اسپتال میں چل بسیں، اسپتال میں کووڈ 19 کے مریض کے طور پر داخل ہوئی تھیں۔ ان کی وفات پر دنیا بھر میں ان کے کروڑوں مداح سوگ میں ڈوب گئے۔
بھارت میں گلوکارہ کی موت پر دو دن کا ریاستی سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے، لتا منگیشکر نے مختلف زبانوں میں ہزاروں گیت گائے، انھیں سروں کی ملکہ بھی کہا جاتا تھا۔لتا منگیشکر کا نام 1974 سے 1991 تک سب سے زیادہ گانوں کی ریکارڈنگ کے حوالے سے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل رہا ۔
نہ صرف لتا نے سْروں کی دنیا میں مقبولیت حاصل کی بلکہ ان کی بہن آشا بھوسلے نے بھی گلوکاری میں اہم مقام حاصل کیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دونوں بہنوں کی آوازوں نے ہندوستانی فلم انڈسٹری پر قبضہ کرلیا۔لتا اپنے دور کے تمام بڑے گلوکاروں کے ساتھ گا چکی ہیں جن میں کشور کمار، محمد رفیع اور مکیش شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انھوں نے نرگس، مینا کماری، وحیدہ رحمان، مدھو بالا، وجنتی مالا، ایشوریا رائے اور کرینہ کپور خان جیسی ہیروئنوں کے لیے بھی گیت گائے۔لتا منگیشکر28 ستمبر 1929 کو اندور بھارت میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد دِینا ناتھ منگیشکر بھی گلوکار اور اداکار تھے چنانچہ وہ شروع سے ہی گلوکاری کی طرف مائل تھیں۔
موسیقار غلام حیدر نے ان کی حوصلہ افزائی کی، اس کے بعد وہ کامیابی کی بلندیوں کی طرف روانہ ہوگئیں۔انھوںنے 1942 میں 13 سال کی عمر میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا، 1948 میں فلم مجبور کے گانے ''دل میرا توڑا'' سے شہرت پائی۔
1949 میں گانا''آئے گا آنے والا''نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ 2004 میں فلم '' ویرزارا''کے لیے اپنا آخری البم ریکارڈ کرایا جب کہ 30 مارچ 2021کو ان کے کیریئر کا آخری گانا ''سوگند مجھے اس مٹی کی'' ریلیز ہوا۔ گزشتہ برس سب سے بڑے بھارتی سویلین اعزاز بھارت رتنہ سے انھیں نوازا گیا، انھیں فلمی ایوارڈ دادا صاحب پھالکے بھی دیا گیا۔
لتا معروف پاکستانی گلوکارمہدی حسن کی بہت بڑی مداح تھیں، ان کے بارے میں کہتی تھیںکہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں سے بھی وہ خوب انسیت رکھتی تھیں۔ انھوں نے پاکستانی گلوکار نصرت فتح علی خان کے ہمراہ بھی گلوکاری کی۔
ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ''میں اپنی زندگی پر فلم نہیں بننے دوں گی کیوں کہ مجھے یہ نہیں پسند، مجھے لگتا ہے کہ اس طرح کی فلموں میں آپ کی زندگی کا ہر راز شامل کیا جائے گا جس کی ضرورت نہیں ہے اور میں ایسا نہیں چاہتی۔''
انٹرویو کے دوران لتا سے جب ان کے پسندیدہ گانوں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے اپنے 4 مقبول گانوں 'آئے گا آنے والا'، 'آجا رے پردیسی'، 'لگ جا گلے' اور 'اللہ تیرو نام' کا ذکر کیا۔کہا جاتا ہے کہ لتا منگیشکر کے گائے ہوئے گیت ''اے میرے وطن کے لوگوں'' سن کر پنڈت جواہر لعل نہرو کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
ان کے گیتوں کا ترنم، نغمگی اور تازگی لوگوں پر ایک سحر سا طاری کردیتی ہے، دل میں اُتر جانے والی ان کی آواز کی کھنک اور شوخی آج بھی برقرار ہے، وہ مر کر امر ہوگئی ہیں، بطور کوئل ہند۔
گلوکارہ لتا منگیشکر ممبئی کے اسپتال میں چل بسیں، اسپتال میں کووڈ 19 کے مریض کے طور پر داخل ہوئی تھیں۔ ان کی وفات پر دنیا بھر میں ان کے کروڑوں مداح سوگ میں ڈوب گئے۔
بھارت میں گلوکارہ کی موت پر دو دن کا ریاستی سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے، لتا منگیشکر نے مختلف زبانوں میں ہزاروں گیت گائے، انھیں سروں کی ملکہ بھی کہا جاتا تھا۔لتا منگیشکر کا نام 1974 سے 1991 تک سب سے زیادہ گانوں کی ریکارڈنگ کے حوالے سے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل رہا ۔
نہ صرف لتا نے سْروں کی دنیا میں مقبولیت حاصل کی بلکہ ان کی بہن آشا بھوسلے نے بھی گلوکاری میں اہم مقام حاصل کیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دونوں بہنوں کی آوازوں نے ہندوستانی فلم انڈسٹری پر قبضہ کرلیا۔لتا اپنے دور کے تمام بڑے گلوکاروں کے ساتھ گا چکی ہیں جن میں کشور کمار، محمد رفیع اور مکیش شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انھوں نے نرگس، مینا کماری، وحیدہ رحمان، مدھو بالا، وجنتی مالا، ایشوریا رائے اور کرینہ کپور خان جیسی ہیروئنوں کے لیے بھی گیت گائے۔لتا منگیشکر28 ستمبر 1929 کو اندور بھارت میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد دِینا ناتھ منگیشکر بھی گلوکار اور اداکار تھے چنانچہ وہ شروع سے ہی گلوکاری کی طرف مائل تھیں۔
موسیقار غلام حیدر نے ان کی حوصلہ افزائی کی، اس کے بعد وہ کامیابی کی بلندیوں کی طرف روانہ ہوگئیں۔انھوںنے 1942 میں 13 سال کی عمر میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا، 1948 میں فلم مجبور کے گانے ''دل میرا توڑا'' سے شہرت پائی۔
1949 میں گانا''آئے گا آنے والا''نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ 2004 میں فلم '' ویرزارا''کے لیے اپنا آخری البم ریکارڈ کرایا جب کہ 30 مارچ 2021کو ان کے کیریئر کا آخری گانا ''سوگند مجھے اس مٹی کی'' ریلیز ہوا۔ گزشتہ برس سب سے بڑے بھارتی سویلین اعزاز بھارت رتنہ سے انھیں نوازا گیا، انھیں فلمی ایوارڈ دادا صاحب پھالکے بھی دیا گیا۔
لتا معروف پاکستانی گلوکارمہدی حسن کی بہت بڑی مداح تھیں، ان کے بارے میں کہتی تھیںکہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں سے بھی وہ خوب انسیت رکھتی تھیں۔ انھوں نے پاکستانی گلوکار نصرت فتح علی خان کے ہمراہ بھی گلوکاری کی۔
ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ''میں اپنی زندگی پر فلم نہیں بننے دوں گی کیوں کہ مجھے یہ نہیں پسند، مجھے لگتا ہے کہ اس طرح کی فلموں میں آپ کی زندگی کا ہر راز شامل کیا جائے گا جس کی ضرورت نہیں ہے اور میں ایسا نہیں چاہتی۔''
انٹرویو کے دوران لتا سے جب ان کے پسندیدہ گانوں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے اپنے 4 مقبول گانوں 'آئے گا آنے والا'، 'آجا رے پردیسی'، 'لگ جا گلے' اور 'اللہ تیرو نام' کا ذکر کیا۔کہا جاتا ہے کہ لتا منگیشکر کے گائے ہوئے گیت ''اے میرے وطن کے لوگوں'' سن کر پنڈت جواہر لعل نہرو کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
ان کے گیتوں کا ترنم، نغمگی اور تازگی لوگوں پر ایک سحر سا طاری کردیتی ہے، دل میں اُتر جانے والی ان کی آواز کی کھنک اور شوخی آج بھی برقرار ہے، وہ مر کر امر ہوگئی ہیں، بطور کوئل ہند۔