وزیر اعظم کا کامیاب دورہ چین

امریکا کے لیے پاکستان کے چین سے برادرانہ تعلقا ت ڈھکے چھپے نہیں

امریکا کے لیے پاکستان کے چین سے برادرانہ تعلقا ت ڈھکے چھپے نہیں (فوٹو ٹویٹر)

SYDNEY, AUSTRALIA:
پاکستان اور چین نے باہمی معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنے اور کثیرجہتی اسٹرٹیجک تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

چین کے دورے پر گئے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے چینی ہم منصب لی کی کیانگ سے ملاقات کی۔ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ معاشی و تجارتی تعلقات، سی پیک پر پیشرفت اور اہم علاقائی و عالمی امور سمیت باہمی تعلقات کا جائزہ لیا ۔

فریقین نے پاک چین سدا بہار اسٹرٹیجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کی مرکزیت کے عزم کا اعادہ کیا اور باہمی مفاد کے امور پر ایک دوسرے کی حمایت کا عزم ظاہر کیا۔ وزیراعظم نے کوویڈ۔ 19 سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی بروقت فراہمی پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، توانائی، سماجی و اقتصادی ترقی، لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے میں سی پیک کے کردار کو سراہا۔

ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ امریکا کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین ہے،بلاشبہ وزیراعظم عمران خان کا حالیہ دورہ دونوں ممالک کے مابین اسٹرٹیجک تعاون کو مزید مستحکم کرے گا، یوں یہ مستقبل میں چین اور پاکستان کو مستحکم بنیادوں پر ہدف تک پہنچنے میں معاون ومدد گار ثابت ہوگا ۔

دورے کا ایک اور مقصد اپنے قریبی اتحادی ملک کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی ہے کیونکہ چند ملکوں نے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے،اگر ہم عالمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو اس وقت دنیا بڑی تیزی سے بلاکس میں تقسیم ہورہی ہے، کوئی تو ہو جو بلاکس کے بجائے پوری انسانیت کے مفاد کی بات کرے ،عالمی حالات اور افغانستان کے معاملات نے اس خطے کو ایک تغیر پذیر صورت حال سے دوچار کردیا ہے، جس میں پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔

ہمیں کیا راستہ اختیار کرنا ہے؟ اس کا واضح تعین کرنے کی صورت ہے اور یہ واضح تعین ہونے تک محتاط حکمت عملی اختیار کرنا ہمارے لیے زیادہ سود مند ہوگا،تاہم ایک بات طے ہے کہ پا کستان کسی بھی صورت میں چین کا ناراض کر نے کا متحمل نہیں ہو سکتا، چنانچہ پاکستان جو بھی فیصلہ کرے، اسے چین کو اعتماد میں لے کر کرنا ہو گا،اگرچہ اس وقت معاشی اور عالمی سیاسی بالادستی کی رسہ کشی نے چین اور امریکا کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے مگر اس کے اثرات عالمی معیشت اور امن عالم کے لیے سود مند نہیں۔

بہرکیف اس صورت حال کو سمجھنے میں امریکا کو مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ آج کا چین سردجنگ کے دنوں والے روس جیسا نہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ موجودہ روس بھی ماضی کے سوویت یونین سا نہیں۔ یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے کہ دنیا میں طاقت کے محور تبدیل ہوچکے ہیں۔


پچھلی دو دہائیوں کے دوران امریکا کے اپنے مس ایڈونچرز نے اس عمل کی رفتار کو مہمیز کیا۔ ہم افغانستان کے حالات کے تناظر میں اس خطے کی صورت حال اور علاقائی اقوام کی ترجیحات کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ دہشت گردی، امریکی جنگ اور عدم تحفظ کے ماحول نے ان ممالک کو علاقائی سطح پر مضبوط گٹھ جوڑ بنانے کی جانب راغب کیا ہے۔

چین کے تعلقات اس خطے کے ممالک کے ساتھ پہلے بھی بہت بہتر تھے، پاک چین تعلقات کے حوالے سے یہ بڑی واضح حقیقت ہے مگر پچھلے بیس برسوں کے دوران اس خطے میں امریکی مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات نے یہاں کے ممالک کے لیے چین کے ساتھ علاقائی معاشی تعلق کو مضبوط کرنے کے آپشن کو حالات کا لازمہ بنادیا ہے۔

ان دو دہائیوں کے دوران جب امریکی جنوبی ایشیا اور مشرقی وسطیٰ میں مس ایڈونچرز میں مصروف عمل تھے، چین اور روس نے خود کو معاشی، صنعتی، دفاعی اور سیاسی لحاظ سے بامِ عروج تک پہنچایا اور خود کو ایسا پارٹنر بنا کر پیش کیا جس پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ اب امریکا کے لیے اس حقیقت کو ماننا مشکل ہورہاہے، مگر یہ حقیقت ہے اور اس کو قبول کیا جانا ہی اس سیارے کے باسیوں کے لیے موزوں ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے حوالے سے مزید جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق پاکستان مزید چھ شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کا خواہشمند ہے ۔ حکومت پاکستان ٹیکسٹائل، فٹ ویئر، فارماسیوٹیکل، فرنیچر، زراعت، آٹوموبائل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعتوں میں چینی سرمایہ کاری کی خواہاں ہے، یہ حقائق اور اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اقتصادی امداد اور تعاون کے لیے چین پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے تحت پہلے ہی اربوں ڈالر پاکستان میں لگا چکا ہے۔ماہرین اقتصادیات نے اس امر کی نشاندہی واضح الفاظ میں کی ہے کہ پاکستان اب مالی اور اقتصادی امداد کے لیے چین پر سو فیصد انحصار کر رہا ہے، وزیراعظم عمران خان کے دورے کا مقصد بیجنگ سے قرض حاصل کرنا ہے، جو چین پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔

ایک مقامی روزنامے نے چند روز قبل رپورٹ کیا تھا کہ حکومت چین سے مزید تین بلین ڈالر کا قرضہ منظور کرنے کی درخواست پر غور کر رہی ہے جسے چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج (SAFE) میں رکھا جا سکتا ہے تاکہ اس سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے۔وفاقی وزیراطلاعات فوادچوہدری نے وزیراعظم کے دورہ چین کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے میں کشمیر اور افغانستان اہم موضوع رہے ،سی پیک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا گیا۔

امریکا کے لیے پاکستان کے چین سے برادرانہ تعلقا ت ڈھکے چھپے نہیں۔پاکستان میں کسی بھی سیاسی پارٹی کی حکومت ہو، وہ امریکا اور چین کے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجانے کی صورت میں اپنا وزن چین ہی کے پلڑے میں ڈالے گی، ہم توقع اور امید کرتے ہیں کہ چین کی پاکستان میں مزید سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت پر انتہائی مثبت اور دور رس اثرات مرتب ہونگے ، اور دونوں ممالک کی دوستی نہ صرف برقرار رہے گی بلکہ اس میں مزید استحکام آئے گا ۔
Load Next Story