الیکشن کمیشن اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے سپریم کورٹ
کوئی سخت بات نہیں کرنا چاہتے جس سے الیکشن کمیشن کی حدود متاثر ہوں، جسٹس عمر عطا بندیال
الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل 9 کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے، جسٹس منیب اختر (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابی ایکٹ کے آرٹیکل 9 کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر تے ہوئے خیبرپختونخوا کی تحصیل لکی مروت کے 5 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخاب کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
دورانِ سماعت سپریم کورٹ نے کیسز کی سماعت کے رولز نہ بنانے پر الیکشن کمیشن پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کو نیم عدالتی اختیارات ملے کئی دہائیاں گزر چکیں، کئی سال بعد بھی رولز نہ بننا الیکشن کمیشن کی واضح ناکامی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق اپنے رولز جلد بنا کر شائع کرے کیونکہ الیکشن کمیشن کے پاس پولنگ اور نتائج میں مداخلت کے وسیع اختیارات ہیں، جس کا استعمال کرتے وقت الیکشن کمیشن کے پاس ٹھوس مواد ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس خصوصی اختیار ہے کہ کچھ حلقے یا پولنگ اسٹیشنز کھولنے کا حکم دے سکتا ہے جبکہ بینچ کے دوسرے جج جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابی ایکٹ کے آرٹیکل 9 کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس وسیع تر اختیارات ہیں کہ 60 دن میں ری پول کا کہے، کوئی سخت بات نہیں کرنا چاہتے جس سے الیکشن کمیشن کی حدود متاثر ہوں۔
الیکشن کمیشن نے عدالت کے حکم پر ری پول کے حکم کی رپورٹ پیش کی۔ جس پر جماعتِ اسلامی کے امیدوار اور درخواست گزار عزیز اللہ کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حلقے میں 30 اعشاریہ 6 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے، فاتح امیدوار عزیز اللہ کے 16 ہزار 696 ووٹ جبکہ جے یو آئی کے امیدوار کے 16 ہزار 145 ووٹ ہیں۔
انہوں نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ری پول کے دوران تمام جماعتیں میرے امیدوار کے خلاف اکٹھی ہو جائیں گی، پولنگ کے دن حلقے میں جو قتل ہوا وہ پولنگ اسٹیشنز سے دور تھا، الیکشن کمیشن کے ایسے اقدام سے تو تمام حلقوں میں ری پول ہونا چاہیے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر تے ہوئے خیبرپختونخوا کی تحصیل لکی مروت کے 5 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخاب کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر تے ہوئے خیبرپختونخوا کی تحصیل لکی مروت کے 5 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخاب کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
دورانِ سماعت سپریم کورٹ نے کیسز کی سماعت کے رولز نہ بنانے پر الیکشن کمیشن پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کو نیم عدالتی اختیارات ملے کئی دہائیاں گزر چکیں، کئی سال بعد بھی رولز نہ بننا الیکشن کمیشن کی واضح ناکامی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق اپنے رولز جلد بنا کر شائع کرے کیونکہ الیکشن کمیشن کے پاس پولنگ اور نتائج میں مداخلت کے وسیع اختیارات ہیں، جس کا استعمال کرتے وقت الیکشن کمیشن کے پاس ٹھوس مواد ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس خصوصی اختیار ہے کہ کچھ حلقے یا پولنگ اسٹیشنز کھولنے کا حکم دے سکتا ہے جبکہ بینچ کے دوسرے جج جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابی ایکٹ کے آرٹیکل 9 کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس وسیع تر اختیارات ہیں کہ 60 دن میں ری پول کا کہے، کوئی سخت بات نہیں کرنا چاہتے جس سے الیکشن کمیشن کی حدود متاثر ہوں۔
الیکشن کمیشن نے عدالت کے حکم پر ری پول کے حکم کی رپورٹ پیش کی۔ جس پر جماعتِ اسلامی کے امیدوار اور درخواست گزار عزیز اللہ کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حلقے میں 30 اعشاریہ 6 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے، فاتح امیدوار عزیز اللہ کے 16 ہزار 696 ووٹ جبکہ جے یو آئی کے امیدوار کے 16 ہزار 145 ووٹ ہیں۔
انہوں نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ری پول کے دوران تمام جماعتیں میرے امیدوار کے خلاف اکٹھی ہو جائیں گی، پولنگ کے دن حلقے میں جو قتل ہوا وہ پولنگ اسٹیشنز سے دور تھا، الیکشن کمیشن کے ایسے اقدام سے تو تمام حلقوں میں ری پول ہونا چاہیے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر تے ہوئے خیبرپختونخوا کی تحصیل لکی مروت کے 5 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخاب کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔