مہنگائی کے جوازکے لیے نرالی منطق

پاکستان میں روزمرہ اشیا کی قیمتیں سب سے کم ہیں، اس لیے پاکستان خطے میں سب سے سستا ملک ہے، شوکت ترین

پاکستان میں روزمرہ اشیا کی قیمتیں سب سے کم ہیں، اس لیے پاکستان خطے میں سب سے سستا ملک ہے، شوکت ترین۔ فوٹو:فائل

وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے ، آئی ایم ایف پروگرام سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ، ہم نے آئی ایم ایف کے اہداف پورے کیے ہیں ۔ پاکستان میں روزمرہ اشیا کی قیمتیں سب سے کم ہیں ، اس لیے پاکستان خطے میں سب سے سستا ملک ہے۔

حکومتی موقف اپنی جگہ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں افراط زر ڈبل ڈیجٹ میں ہے جب کہ پاکستان کا روپیہ بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی کمزور ہے ۔عام آدمی کی فی کس آمدنی اور قوت خرید مہنگائی کو جانچنے اور ناپنے کا پیمانہ ہے، اور اس پیمانے کو مدنظر رکھیے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ملک میں مڈل کلاس کی قوت خرید جواب دیتی جا رہی ہے۔

وزیراعظم سمیت حکومتی وزراء بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف سے نئے معاہدے کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے لیے چھ بلین ڈالر کے قرض کی بحالی کا اعلان کر دیا گیا ہے اوراس کا مقصد پاکستان کی معیشت کو تباہی سے بچانا اور اُسے مستحکم کرنا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کی مدد کی کس قدر ضرورت ہے، اگر پاکستان واقعی دنیا کا سستا ترین ملک ہوتا تو ہمارے روپے کی ڈالر کے مقابلے شرح مبادلہ بہتر ہوتی لیکن ایسا نہیں ہے، روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تواتر سے کمزور ہورہا ہے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہر حکومت میں وزیروں، مشیروں کی ذمے داری ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ حکومت کے ہر اقدام کا دفاع کریں اور اس کے حق میں جواز پیش کریں، کبھی کہا جاتا ہے پٹرول ، گیس اور بجلی وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ تو کیا گیا ہے مگر اس سے عام آدمی متاثر نہیں ہو گا۔ کبھی کہا جاتا ہے مہنگائی بڑھی ہے تو قوت خرید بھی بڑھ گئی ہے۔

ایسا کوئی عام آدمی نہیں ہوتا جو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے متاثر نہ ہوتا ہو یا پھر اس کی قوت خرید بڑھ گئی ہو تو ملک میں کاروباری سرگرمیاں تیز نہ ہوں مگر نہیں معلوم اس طرح کے عام لوگ حکومتی مشیروں کو کہاں مل جاتے ہیں حالانکہ ان کا عام آدمی سے دور دور تک کوئی تعلق بھی نہیں ہے جب کہ بڑھی ہوئی قوت خرید کے باوجود عام آدمی کی حالت زار کا اندازہ لگانا ہو تو آٹے کے لیے مارے مارے پھرنے والے اس غریب سے پوچھیں، جس کے لیے آٹے کا تھیلا خریدنا مشکل ہے اگر آٹا خرید بھی لیں تو گھی خریدنا مشکل ہوجاتا ہے اور پھر چینی تو اب عیاشی کے زمرے میں آتی ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کی شرح بہت زیادہ ہے اور شاید پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال سے پاکستان میں نئے معاشی خطرات جنم لے رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے قرضہ دینے کے اعلان سے پاکستان میں معاشی بحالی اور ترقی کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ اس اقدام کو غیر معمولی گرتی ہوئی معیشت اور کساد بازاری اور مہنگائی میں ہوش ربا اضافے کے تناظر میں ایک بہت بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

عالمی منڈی میں توانائی اور اشیاء کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کے سبب پاکستان جیسی کمزور معیشت کے حامل ملک پر بہت گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان حالات کے پیش نظر اس نے ٹیکسوں کے ذریعے ریونیو بڑھانے کی کوششوں میں اضافہ کیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کی طرف سے ٹیکس میں اضافہ ملک میں مہنگائی کی شرح کو بہت تیزی سے بڑھاتے ہوئے 13 فیصد تک پہنچانے کا سبب بنا ہے۔ یہ شرح اس وقت دنیا کے چند دیگر ممالک جیسے کے ترکی اور ارجنٹائن کی طرح مہنگائی کی بلند ترین شرح قرار دی جا رہی ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان تعمیراتی شعبے کے لیے مالیاتی اداروں کی ایمنسٹی اسکیم کنٹرول کرے، آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتیں بھی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔


ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے اور آیندہ مالی سال ایف بی آر کے لیے 1155 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کا ہدف رکھا گیا ہے جب کہ آیندہ مالی سال کے لیے ایف بی آرٹیکس ہدف 7255 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔

پٹرولیم لیوی کی مد میں406 ارب روپے کی وصولیوں کی تجویز ہے اور براہ راست ٹیکسوں کی مد میں 2711 ارب روپے وصولی کی تجویز دی گئی ہے، کیونکہ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پرعمل درآمد مکمل کرے، پاکستان نے منی لانڈرنگ کے خلاف27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کیا ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دیے گئے گروپوں کے رہنماؤں کے خلاف تحقیقات کرکے سزا دلوائے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان اے پی جی کی طرف سے نشاندہی کے بعد مالیاتی نظام میں خامیاں دور کرے اور آیندہ مالی سال کے لیے سود ادائیگیوں کی مد میں 3523 ارب روپے کا تخمینہ ہے اور اخراجات کا تخیمنہ 12 ہزار 994 ارب روپے اور آمدن کا تخمینہ 10 ہزار272 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

حکومت کی تو منطق ہی نرالی ہے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کیا گیا تو اسے بھی فخریہ پیشکش کہا گیا۔ شوکت ترین نے دعویٰ کیا تھاکہ عوام پر صرف دو ارب کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔شاید انھیں اس بات کا علم نہیں کہ دہی ،دودھ، مکھن امپورٹڈ آئٹمز نہیںہیں اْن پربھی17 فیصد ٹیکس لگادیا ہے اورکہتے ہیں کہ صرف امپورٹڈ آئٹمز پر ٹیکس لگایا گیا ہے اور پٹرول کی قیمت میں بے جا اضافہ کر کے عوام کو حکومت نے تحفہ پیش کر دیا ہے۔

جب عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بنے تو ان کا دعویٰ تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے شکنجے سے پاکستان کو آزاد کرائیں گے، اقتدار حاصل کرنے کے بعد انھوں نے آئی ایم ایف کے بجائے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے دوستانہ قرضوں کا انتظام کیا تاکہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط سے بچا جا سکے، لیکن وہ بھی اپنی معاشی ٹیم کی خراب کارکردگی کے باعث اپنے باقی وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی پورا نہ کر سکے اور 2019 میں، جب معاشی حالات خراب ہوئے۔

وہ 22 ویں بار آئی ایم ایف کے پاس 1 بلین امریکی ڈالر کے قرض کے لیے پہنچ گئے۔ آئی ایم ایف نے توانائی کے نرخوں میں اضافہ، توانائی کی سبسڈی ختم کرنے، ٹیکس میں اضافہ، عوامی اداروں کی نجکاری اور بجٹ میں مالیاتی ایڈجسٹمنٹ جیسی شرائط کی بنیاد پر قرض دیا،اور اس کا تمام تر بوجھ غریب عوام پر آیا۔لیکن ابھی یہ صدمہ ہلکا نہ ہوا تھا کہ دوبارہ سخت شرائط پر قرض حاصل کرنے کی درخواست دے دی گئی۔

کابینہ سے ضمنی بجٹ کی منظوری کرائی گئی اور (آئی ایم ایف) سے فنڈ حاصل کرنے کے مقصد کے لیے مالی سختی کے اقدامات کے حصے کے طور پر سیلز ٹیکس پر چھوٹ ختم کرنے اور نئی ڈیوٹیز لگانے کی منظوری لی گئی اور قومی اسمبلی میں ضمنی بجٹ پیش کر دیا گیا۔شرائط کے مطابق حکومت کا مقصد سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو واپس لے کر اربوں روپے اکٹھا کرنا ہے تاکہ تمام شعبے یکساں 17 فیصد ادا کریں۔

نئی ڈیوٹیز لگائیں اور ٹیکس وصولی کے ہدف پر نظر ثانی کریں۔وزیر خزانہ شوکت ترین کا دعوی ہے کہ سیلز ٹیکس کی چھوٹ کی واپسی سے 343 بلین روپے بڑھیں گے، انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ بات آئی ایم ایف کے 700 ارب روپے کی چھوٹ کو ختم کرنے کے مطالبے کے خلاف کی تھی۔

اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل منظور ہونے کے بعد عوام مہنگائی کی نئی چکی میں پسنے کے لیے تیار ہو چکے ہیںاور ایسا محسوس ہوتا ہے ماضی کی طرح موجودہ حکومت کو بھی معیشت درست کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح آئی ایم ایف سے قرض لے کر صرف اپنا وقت پورا کرنا چاہتی ہے۔

اور عوام بے چارے اب کسی اور مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں، جو ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔مہنگائی ہونا تو قابل برداشت ہے مگر مہنگائی ہوتے رہنا ناقابل برداشت اور انتہائی تکلیف دہ ہے اور آج بالکل ایسی ہی صورتحال ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کچھ بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں یا پھر حکومت کسی اور کے کنٹرول میں ہے ایسے میں قوت خرید بڑھنا تو دور کی بات ہے قوت برداشت دم توڑ رہی ہے ،مگر اقتدار میں سب اچھا کی رپورٹیں سننے والوں کو عوام کی دم توڑتی قوت برداشت کا احساس نہیں ۔
Load Next Story