کوئی خفیہ ہاتھ مذاکرات کوسبوتاژ کردیتا ہےمنورحسن
حکومت مہمندایجنسی واقعے اورطالبان کے لاشیں پھینکنے والے الزام کی تحقیقات کرائے
حکومت مہمندایجنسی واقعے اورطالبان کے لاشیں پھینکنے والے الزام کی تحقیقات کرائے،امیر جماعت اسلامی۔ فوٹو: فائل
امیرجماعت اسلامی سید منورحسن نے کہاہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ ایساہے جو حکومت اورطالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کوحتمی نتیجے پرپہنچنے سے پہلے ہی سبوتاژکر دیتاہے۔
حکومت مہمندایجنسی کے واقعے اور طالبان کے اس الزام کہ ان کے ساتھیوں کی لاشیں پھینکی جارہی ہیں، کی تحقیقات کرائے۔ یکطرفہ طورپر کسی ایک کی بات نہیں مانی جاسکتی۔ منصورہ سے جاری بیان میں سید منورحسن نے مہمندایجنسی میں ایف سی کے 23اہلکاروں کے قتل پررنج و افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کئی ایسی قوتیں سرگرم ہیں جو مذاکراتی عمل کوکامیاب ہوتانہیں دیکھنا چاہتیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ فوج اورطالبان کوآپس میں لڑایا جائے اوراس کے نتیجے میں ملک بھرمیں خونریزی کابازار گرم ہو۔
خدانخواستہ فوجی آپریشن کیاگیا تواس کے ہولناک نتائج نکلیں گے۔ انھوں نے کہاکہ وزیراعظم خودیہ بات کہہ رہے ہیں کہ جب بھی مذاکرات کسی اہم موڑپر پہنچتے ہیں ، کسی نادیدہ قوت کی طرف سے ایسے واقعات رونماہو جاتے ہیں جس سے مذاکرات تعطل کاشکار ہوجاتے ہیں۔ طالبان شورٰی نے گزشتہ روزاپنے فیصلے سے آگاہ کرناتھا لیکن ایف سی اہلکاروں کے قتل کاافسوس ناک واقعہ پیش آگیا۔ انھوں نے کہاکہ دونوں فریقوں کوصبر سے مل بیٹھ کرمعاملات کوآگے بڑھانا چاہیے۔ حکومتی کمیٹی کوطے شدہ ملاقات کرکے افسوس ناک واقعے پربھی بات کرلینی چاہیے تھی۔ ڈیڈلاک سے قوم کے اندرمایوسی پیداہوئی ہے۔ انھوں نے امیدظاہر کی کہ کل وزیراعظم نے کمیٹی کاجو اجلاس بلایاہے، اس میں مثبت فیصلہ کیاجائے
حکومت مہمندایجنسی کے واقعے اور طالبان کے اس الزام کہ ان کے ساتھیوں کی لاشیں پھینکی جارہی ہیں، کی تحقیقات کرائے۔ یکطرفہ طورپر کسی ایک کی بات نہیں مانی جاسکتی۔ منصورہ سے جاری بیان میں سید منورحسن نے مہمندایجنسی میں ایف سی کے 23اہلکاروں کے قتل پررنج و افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کئی ایسی قوتیں سرگرم ہیں جو مذاکراتی عمل کوکامیاب ہوتانہیں دیکھنا چاہتیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ فوج اورطالبان کوآپس میں لڑایا جائے اوراس کے نتیجے میں ملک بھرمیں خونریزی کابازار گرم ہو۔
خدانخواستہ فوجی آپریشن کیاگیا تواس کے ہولناک نتائج نکلیں گے۔ انھوں نے کہاکہ وزیراعظم خودیہ بات کہہ رہے ہیں کہ جب بھی مذاکرات کسی اہم موڑپر پہنچتے ہیں ، کسی نادیدہ قوت کی طرف سے ایسے واقعات رونماہو جاتے ہیں جس سے مذاکرات تعطل کاشکار ہوجاتے ہیں۔ طالبان شورٰی نے گزشتہ روزاپنے فیصلے سے آگاہ کرناتھا لیکن ایف سی اہلکاروں کے قتل کاافسوس ناک واقعہ پیش آگیا۔ انھوں نے کہاکہ دونوں فریقوں کوصبر سے مل بیٹھ کرمعاملات کوآگے بڑھانا چاہیے۔ حکومتی کمیٹی کوطے شدہ ملاقات کرکے افسوس ناک واقعے پربھی بات کرلینی چاہیے تھی۔ ڈیڈلاک سے قوم کے اندرمایوسی پیداہوئی ہے۔ انھوں نے امیدظاہر کی کہ کل وزیراعظم نے کمیٹی کاجو اجلاس بلایاہے، اس میں مثبت فیصلہ کیاجائے