پارلیمنٹ میں معذورافرادکیلیے نشستوں کابل مسترد
بل کی پی ٹی آئی،متحدہ نے حمایت،ن لیگ اورپی پی نے مخالفت کی،دوسرابل موخر کردیا گیا
ٹریکٹروںپرعائدجی ایس ٹی واپس لیاجائے،قائمہ کمیٹی،زرعی قرضوںکی شرح بڑھانیکی سفارش فوٹو: فائل
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف نے پارلیمنٹ میں معذور افراد کیلیے نشستیں مخصوص کرنے کا بل کثرت رائے سے مسترد کردیا۔ قائمہ کمیٹی کااجلاس چیئرمین محمود بشیر وردک کی زیرصدارت ہوا ۔
جس میں 2 بلوں پرغوروخوص کیاگیا۔کشورہ زہرا نے اپنے بل پراظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں اس وقت معذور افراد کی تعداد 10 فیصد ہے لیکن ان کی پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی نہیں ہے ایوان میں ان کے لیے نشستیں مختص کی جائیں۔تحریک انصاف اورایم کیوایم نے بل کی حمایت کی جبکہ سیکریٹری قانون رضاخان اوردیگرجماعتوں کے ارکان جن میں ن لیگ ، پیپلز پارٹی، جے یوائی ف نے بل کی مخالفت کی ۔
مخالفین کاموقف تھاکہ اگرمعذور افرادکوایوان میں نشستیں مخصوص کی گئیں تودیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اپنے لیے نشستیں مانگیں گے۔قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈسیکیورٹی نے وزارت خزانہ کی جانب سے ٹریکٹروں پرلگائے جانے والے جنرل سیلزٹیکس کونامناسب قراردیتے ہوئے کہاکہ جی ایس ٹی کوختم کرتے ہوئے بینک کے مالی وسائل میں اضافہ کے لیے 50 ارب روپے جاری کیے جائیں،زرعی ترقیاتی بینک کے صدر احسان الحق نے کمیٹی کوبتایاکہ بینک کسان عورتوں اور نوجوانوں کوآسان شرائط پر2لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جائیں گے، کمیٹی نے سفارش کی کہ زرعی بینک کسانوں کے قرضوں کی شرح اورواپسی کی مدت میں اضافہ کرے ۔
جس میں 2 بلوں پرغوروخوص کیاگیا۔کشورہ زہرا نے اپنے بل پراظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں اس وقت معذور افراد کی تعداد 10 فیصد ہے لیکن ان کی پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی نہیں ہے ایوان میں ان کے لیے نشستیں مختص کی جائیں۔تحریک انصاف اورایم کیوایم نے بل کی حمایت کی جبکہ سیکریٹری قانون رضاخان اوردیگرجماعتوں کے ارکان جن میں ن لیگ ، پیپلز پارٹی، جے یوائی ف نے بل کی مخالفت کی ۔
مخالفین کاموقف تھاکہ اگرمعذور افرادکوایوان میں نشستیں مخصوص کی گئیں تودیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اپنے لیے نشستیں مانگیں گے۔قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈسیکیورٹی نے وزارت خزانہ کی جانب سے ٹریکٹروں پرلگائے جانے والے جنرل سیلزٹیکس کونامناسب قراردیتے ہوئے کہاکہ جی ایس ٹی کوختم کرتے ہوئے بینک کے مالی وسائل میں اضافہ کے لیے 50 ارب روپے جاری کیے جائیں،زرعی ترقیاتی بینک کے صدر احسان الحق نے کمیٹی کوبتایاکہ بینک کسان عورتوں اور نوجوانوں کوآسان شرائط پر2لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جائیں گے، کمیٹی نے سفارش کی کہ زرعی بینک کسانوں کے قرضوں کی شرح اورواپسی کی مدت میں اضافہ کرے ۔