وارننگ دینے میں دلچسپی نہیں صرف لاپتہ افراد بازیاب ہونے چاہئیںسپریم کورٹ
حکام کوخبردارکردیالاپتہ افرادبازیاب نہ ہوئے توکارروائی ہوگی،سیکریٹری دفاع،2ہفتے مہلت کی درخواست مسترد
عدالت نے وزارت دفاع کی رپورٹ بھی مستردکردی،مقدمہ بلوچستان امن وامان کیس کے ساتھ سننے کافیصلہ ۔ فوٹو: فائل
وارننگ دیتے ہیں نہ ہی ہمیں کسی کووارننگ دینے میں دلچسپی ہے،ہماری دلچسپی صرف لاپتہ افراد میں ہے وہ ہرحال میں بازیاب ہونے چاہیے۔یہ ریمارکس جسٹس ناصرالملک نے لاپتہ حافظ جمیل کیس کی سماعت کے دوران دیے۔
عدالت نے اس بارے میں وزارت دفاع کی رپورٹ مستردکردی اوریہ مقدمہ بلوچستان امن وامان کیس کے ساتھ سننے کا فیصلہ کیا ہے ۔فل بینچ کے سامنے سیکریٹری دفاع آصف یاسین اورایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر پیش ہوئے۔سیکریٹری دفاع نے عدالت کوبتایا کہ بلوچستان امن وامان کیس کے حوالے سے اجلاس میں حافظ جمیل کی بازیابی کا معاملہ بھی زیربحث آیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اجلاس میں حساس اداروں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی اور بطور سیکرٹری دفاع میں نے حکام کو خبردارکیا اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو ان کیخلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔عدالت نے حافظ جمیل کاپوچھا تو سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ43 حراستی مراکز میں سے20 کا جائزہ لیا گیا، وہاں پر حافظ جمیل موجودنہیں، انھوں نے مزید حراستی مراکزکا جائزہ لینے کے لیے 2 ہفتے دینے کی استدعاکی تاہم عدالت نے یہ درخواست مستردکردی ۔جسٹس ناصرالملک نے کہا 20 فروری کوبلوچستان کیس کی سماعت کررہے ہیں ۔
اس کے ساتھ اس مقدمے کو بھی سنیں گے،آپ مزید23 حراستی مراکزکا جائزہ لے لیںاور رپورٹ آئندہ سماعت پرجمع کروائیں۔سیکریٹری دفاع نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخواکے مقدمات اس مقدمے سے مختلف ہیں اس سے ہٹ کرکیس کی سماعت کی جائے مگرعدالت نے کہاکہ اس کیس کی سماعت 20 فروری کوکرینگے ۔سپریم کورٹ نے سزا مکمل ہونے کے باوجود قیدی محمد عارف کو رہا نہ کرنے پر اڈیالہ جیل انتظامیہ سے جواب طلب کر لیا ہے۔جسٹس جواد نے ریمارکس دیے انسانی آزادیاں سلب کرنے کو نظرانداز نہیںکیا جا سکتا، سزا دینا عدالت اور اس پر عملدرآمد انتظامیہ کاکام ہے۔ ملزم نے جب سزا کاٹ لی تومزید قید رکھنا انسانی آزادیوں کیخلاف ہے،قید میں جانے سے حقوق ختم نہیں ہوجاتے۔جسٹس جواد نے کہا کہ قیدیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں، جب عدالت نے ایک شخص کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ جیل انتظامیہ نے رہا کیوں نہیں کیا؟یہ انسانی آزادی کا معاملہ ہے،ہمارابس چلے تو اسے آج ہی رہا کرنے کاحکم جاری کریں ۔کیس کی مزیدسماعت بدھ کو ہوگی۔
عدالت نے اس بارے میں وزارت دفاع کی رپورٹ مستردکردی اوریہ مقدمہ بلوچستان امن وامان کیس کے ساتھ سننے کا فیصلہ کیا ہے ۔فل بینچ کے سامنے سیکریٹری دفاع آصف یاسین اورایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر پیش ہوئے۔سیکریٹری دفاع نے عدالت کوبتایا کہ بلوچستان امن وامان کیس کے حوالے سے اجلاس میں حافظ جمیل کی بازیابی کا معاملہ بھی زیربحث آیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اجلاس میں حساس اداروں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی اور بطور سیکرٹری دفاع میں نے حکام کو خبردارکیا اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو ان کیخلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔عدالت نے حافظ جمیل کاپوچھا تو سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ43 حراستی مراکز میں سے20 کا جائزہ لیا گیا، وہاں پر حافظ جمیل موجودنہیں، انھوں نے مزید حراستی مراکزکا جائزہ لینے کے لیے 2 ہفتے دینے کی استدعاکی تاہم عدالت نے یہ درخواست مستردکردی ۔جسٹس ناصرالملک نے کہا 20 فروری کوبلوچستان کیس کی سماعت کررہے ہیں ۔
اس کے ساتھ اس مقدمے کو بھی سنیں گے،آپ مزید23 حراستی مراکزکا جائزہ لے لیںاور رپورٹ آئندہ سماعت پرجمع کروائیں۔سیکریٹری دفاع نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخواکے مقدمات اس مقدمے سے مختلف ہیں اس سے ہٹ کرکیس کی سماعت کی جائے مگرعدالت نے کہاکہ اس کیس کی سماعت 20 فروری کوکرینگے ۔سپریم کورٹ نے سزا مکمل ہونے کے باوجود قیدی محمد عارف کو رہا نہ کرنے پر اڈیالہ جیل انتظامیہ سے جواب طلب کر لیا ہے۔جسٹس جواد نے ریمارکس دیے انسانی آزادیاں سلب کرنے کو نظرانداز نہیںکیا جا سکتا، سزا دینا عدالت اور اس پر عملدرآمد انتظامیہ کاکام ہے۔ ملزم نے جب سزا کاٹ لی تومزید قید رکھنا انسانی آزادیوں کیخلاف ہے،قید میں جانے سے حقوق ختم نہیں ہوجاتے۔جسٹس جواد نے کہا کہ قیدیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں، جب عدالت نے ایک شخص کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ جیل انتظامیہ نے رہا کیوں نہیں کیا؟یہ انسانی آزادی کا معاملہ ہے،ہمارابس چلے تو اسے آج ہی رہا کرنے کاحکم جاری کریں ۔کیس کی مزیدسماعت بدھ کو ہوگی۔