موبائل بینکاری کھاتے ساڑھے 14 لاکھ تک پہنچ گئے
اپریل تا جون 37 فیصد اضافہ، 3 ماہ میں 115.3 ارب روپے کے 28 ملین برانچ لیس بینکنگ سودے
ایجنٹس نیٹ ورک29525ہوگیا،مستقبل قریب میں ’بغیرشاخ بینکاری‘ میں تیز تر نمو متوقع فوٹو : فائل
مالی سال 2011-12 کی چوتھی سہ ماہی (اپریل تا جون 2012) میں برانچ لیس بینکنگ کی نمو متاثر کن رہی۔
اور موبائل بینکنگ اکاؤنٹس کی تعداد 14لاکھ50ہزار تک پہنچ گئی یعنی 37 فیصد نمو ہوئی۔
اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین برانچ لیس بینکنگ نیوز لیٹر کے مطابق اکاؤنٹس کی سرگرمی کی سطح زیر جائزہ سہ ماہی کے دوران خاصی بہتر ہوئی اور فعال اکاؤنٹس کی تعداد 66 فیصد بڑھ گئی، اپریل سے جون تک 115.3 ارب روپے کی مالیت کے28ملین سودے ہوئے، اس دوران سودوں کی تعداد اور مالیت تیزی سے بڑھی، ان میں بالترتیب 12 فیصد اور 36 فیصد اضافہ ہوا۔
سودوں کی مالیت کی نمو سودوں کی تعداد کی نمو سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ زیر جائزہ سہ ماہی میں سودوں کا اوسط سائز 3367 روپے سے بڑھ کر 4065 روپے ہو گیا، 30 جون 2012 کو ایجنٹس نیٹ ورک 29525 تک پہنچ گیا جبکہ 31 مارچ 2012 کو 26792 تھا، اس طرح 10 فیصد اضافہ ہوا، اب ایجنٹس ملک کے 90 فیصد اضلاع میں موجود ہیں۔
مجموعی سودوں میں بلوں کی ادائیگیوں اور موبائل ٹاپ۔اپس کا تناسب 50 فیصد رہا،جس کے بعد (دکان پر) فرد سے فرد کو رقم کی منتقلی کا نمبر آتا ہے جو 36 فیصد ہوئی، سہ ماہی کے دوران برانچ لیس بینکنگ کے ایجنٹوں کے ذریعے 464 ملین روپے کے قرضے واپس اکٹھا کیے گئے جن میں بنیادی حصہ مائیکرو فنانس اداروں کا تھا۔ نیوزلیٹر کے مطابق آئندہ سہ ماہیوں کے دوران نمو کی توقعات خاصی بلند ہیں۔
کیونکہ برانچ لیس بینکنگ کے 2 موجودہ ادارے اپنے آپریشنز کا دائرہ بڑھا رہے ہیں جبکہ 6 دیگر بینک تجرباتی مرحلے میں ہیں جو امید ہے کہ جلد ہی اپنے برانچ لیس بینکنگ آپریشنز شروع کر دیں گے، نیز بینک اپنے صارفین کیلیے m-wallets کی جانب ترغیب بڑھانے کی غرض سے نئے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں اور انہیں نئی خدمات کی پیشکش کر رہے ہیں جن میں ہوائی ٹکٹ کی خریداری، تنخواہ/پنشن کی وصولی، ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے اے ٹی ایم کا استعمال اور انٹرنیٹ بینکنگ شامل ہیں۔
اور موبائل بینکنگ اکاؤنٹس کی تعداد 14لاکھ50ہزار تک پہنچ گئی یعنی 37 فیصد نمو ہوئی۔
اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین برانچ لیس بینکنگ نیوز لیٹر کے مطابق اکاؤنٹس کی سرگرمی کی سطح زیر جائزہ سہ ماہی کے دوران خاصی بہتر ہوئی اور فعال اکاؤنٹس کی تعداد 66 فیصد بڑھ گئی، اپریل سے جون تک 115.3 ارب روپے کی مالیت کے28ملین سودے ہوئے، اس دوران سودوں کی تعداد اور مالیت تیزی سے بڑھی، ان میں بالترتیب 12 فیصد اور 36 فیصد اضافہ ہوا۔
سودوں کی مالیت کی نمو سودوں کی تعداد کی نمو سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ زیر جائزہ سہ ماہی میں سودوں کا اوسط سائز 3367 روپے سے بڑھ کر 4065 روپے ہو گیا، 30 جون 2012 کو ایجنٹس نیٹ ورک 29525 تک پہنچ گیا جبکہ 31 مارچ 2012 کو 26792 تھا، اس طرح 10 فیصد اضافہ ہوا، اب ایجنٹس ملک کے 90 فیصد اضلاع میں موجود ہیں۔
مجموعی سودوں میں بلوں کی ادائیگیوں اور موبائل ٹاپ۔اپس کا تناسب 50 فیصد رہا،جس کے بعد (دکان پر) فرد سے فرد کو رقم کی منتقلی کا نمبر آتا ہے جو 36 فیصد ہوئی، سہ ماہی کے دوران برانچ لیس بینکنگ کے ایجنٹوں کے ذریعے 464 ملین روپے کے قرضے واپس اکٹھا کیے گئے جن میں بنیادی حصہ مائیکرو فنانس اداروں کا تھا۔ نیوزلیٹر کے مطابق آئندہ سہ ماہیوں کے دوران نمو کی توقعات خاصی بلند ہیں۔
کیونکہ برانچ لیس بینکنگ کے 2 موجودہ ادارے اپنے آپریشنز کا دائرہ بڑھا رہے ہیں جبکہ 6 دیگر بینک تجرباتی مرحلے میں ہیں جو امید ہے کہ جلد ہی اپنے برانچ لیس بینکنگ آپریشنز شروع کر دیں گے، نیز بینک اپنے صارفین کیلیے m-wallets کی جانب ترغیب بڑھانے کی غرض سے نئے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں اور انہیں نئی خدمات کی پیشکش کر رہے ہیں جن میں ہوائی ٹکٹ کی خریداری، تنخواہ/پنشن کی وصولی، ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے اے ٹی ایم کا استعمال اور انٹرنیٹ بینکنگ شامل ہیں۔