پاکستانی سیاست کے 2 غیر معمولی کردار
میثاق جمہوریت بلاشبہ پاکستان کا میگنا کارٹا ہے۔ پاکستانی سیاست کے 2 بدترین مخالف رہنماؤں نے اس میثاق کے ۔۔۔
zahedahina@gmail.com
LOS ANGELES:
ہمیں 14 اگست 1947کو آزادی ملی لیکن ہماری تاریخ کا وہ واقعہ مئی 2013 میں وقوع پذیر ہوا جس کی خواہش دل میں لیے کروڑوں پاکستانی دنیا سے رخصت ہوئے اور انھیں وہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوا کہ ایک منتخب حکومت اپنی آئینی میعاد مکمل کر کے اقتدار اعلیٰ دوسری منتخب حکومت کو منتقل کرے۔ ہزاروں سیاسی کارکنوں نے اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، قیدوبند کی سختیاں جھیلیں، تشدد کا نشانہ بنے اور کوڑے کھائے۔ پاکستان کو ایک مہذب جمہوری ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے جن سیاسی کارکنوں یا رہنماؤں نے جدوجہد کی وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ انھیں بار بار یاد کرنا اور خراج عقیدت پیش کرنا ہمارا انفرادی اور اجتماعی فرض ہے۔
وہ پاکستان جس نے 1947 میں جنم لیا تھا وہ 1971 میں ختم ہوا۔ موجودہ پاکستان جس میں ہم بستے ہیں اس میں اولین جمہوری انتقال اقتدار کا یہ تاریخ ساز واقعہ ہم کبھی نہ دیکھ سکتے اگر ہمارے سیاسی منظرنامے پر دو غیر معمولی سیاسی کردار، بے نظیر بھٹو اور محمد نواز شریف موجود نہ ہوتے۔ ہوسکتا ہے میرا یہ جملہ کچھ لوگوں کو پسند نہ آئے، یہ بھی ممکن ہے کہ بعض حلقے اسے غیر معمولی مبالغہ آرائی سے تعبیر کریں۔ جمہوریت اور عوام کی حکمرانی سے نفرت کرنے والوں نے ان دونوں رہنماؤں پر کون سی تہمت نہیں لگائی، لیکن سچ تو یہی ہے کہ جمہوریت کی بحالی اور اس کے تسلسل میں ان دونوں کا کردار بنیادی ہے۔
2000 کو 21 ویں صدی کا آغاز ہوا۔ اسی سال فروری کے مہینے میں اس تاریخی عمل کا آغاز ہوا جو اگر نہ ہوتا تو ہم پاکستان میں جمہوری تبدیلی اور تسلسل کے خواب کو کبھی شرمندہ تعبیر ہوتے نہ دیکھ سکتے۔ 12 اکتوبر 1999 کو پاکستان پر چوتھا فوجی آمر قبضہ کرچکا تھا اور عوام کے مقبول ترین دو سیاسی رہنما جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ یہ فروری 2000 کی 10 ویں تاریخ اور جمعرات کا دن تھاجب بے نظیر بھٹو جدہ پہنچیں جہاں معزول وزیر اعظم نواز شریف ان کے منتظر تھے۔ یہ وہ دو قومی سیاست دان تھے جو اس سے پہلے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے اور ہاتھ ملانے تک کے روا دار نہیں تھے لیکن اب ان کی قلب ماہیت ہوچکی تھی۔ ان دونوں کے دلوں کے اندر سے ایک دوسرے کے لیے کینہ و کدورت ختم ہوچکی تھی۔ دراصل بڑا رہنما وہی ہوتا ہے جس کی نظر تاریخ کے بہتے دھاروں پر ہوتی ہے جو آج کے غیر مقبول اور آنے والی کل کے مقبول فیصلے کرنے کی صلاحیت اور جرأت رکھتے ہیں خواہ اس کی مخالفت ان کی اپنی جماعت کے اندر ہی کیوں نہ موجود ہو۔ بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے جدہ آئیں تو آصف علی زرداری ان کے ہم راہ تھے۔ دونوں کی میزبانی بیگم کلثوم نواز نے کی، وہی کلثوم جنہوں نے فوجی انقلاب کے بعد سڑک پر آکر غاصب آمر کو للکارا تھا۔ یہ ملاقات کئی گھنٹے جاری رہی۔ نہ گلے نہ شکوے نہ الزامات اور نہ جوابی الزامات۔ بات کا آغاز یہاں سے ہوا کہ ہم دونوں نے غلطی کی جو غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوئے ان کے آلہ کار بنے، اب آیندہ ایسا نہیں ہوگا۔
ہم مل کر پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کریں گے۔ اس ملاقات نے فوجی آمر کو یقیناً کچھ پریشان کیا ہوگا، اس نے اپنے غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اقدام کو ''جواز'' دینے کے لیے حسب روایت سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا جس نے 12مئی 2002 کو متفقہ طور پر جنرل پرویز مشرف کو اکتوبر 2002 تک بلا شرکت غیرے حکمرانی کی اجازت ''مرحمت'' فرما دی۔ بن مانگے کی مہلت ملتے ہی آمر مطلق نے سیاسی بساط بچھائی۔ سیاسی مہروں کو استعمال کیا جانے لگا۔ 2002میں ریفرنڈم کرایا گیا۔ جنرل صاحب کی حمایت میں عمران خان بھی پیش پیش تھے جو بعد میں ''تبدیلی اور انقلاب'' کے ''عظیم داعی'' بنے۔ وقت ضایع کیے بغیر 2002میں ہی عام انتخابات کرائے گئے اور فوجی آمر کے بوٹوں کے تسمے باندھنے والی ایک تابعدار حکومت معرض وجود میں لائی گئی۔ جمہوریت کے تمام مخالف یک جا ہوئے۔ کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا۔ عمران خان جنہوں نے ریفرنڈم میں آمر کی پُر جوش حمایت کی تھی، لیکن 2002 کے ''صاف اور شفاف'' انتخابات میں انھیں صرف ایک نشست ملی۔
وہ ان نتائج کے خلاف دھاندلی کا راگ الاپتے ہوئے نہ سپریم کورٹ میں گئے، نہ دھرنے دیے اور نہ سڑکوں پر آکر آمریت کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ نو منتخب اسمبلی نے 17 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی اور آمر کے تمام اقدامات کو آئینی تحفظ فراہم کردیا۔ جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کے لیے صوبوں میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان کی قو م پرست جماعتوں کے مخالفین کو اقتدار میں لایا گیا اور مرکز میں بھی ان سب نے مل جل کر آمریت کی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ اس سیاسی بندوبست کو امریکا کی حمایت حاصل تھی جسے فوجی آمر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔ یہ تو بعد میں دنیا کو معلوم ہوا کہ موصوف امریکا اور اس کے مخالفین دونوں کو بیک وقت ڈبل کراس کررہے تھے۔ بہرحال 9/11 کے بعد پاکستان میں اقتدار پر جنرل پرویز مشرف اور ان کی حامی جمہوریت مخالف قوتوں کا مکمل غلبہ ہوچکا تھا۔
یہ وقت بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی سیاسی دانش کا کڑا امتحان تھا۔ دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ فروری 2002 کی ملاقات میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے ابتدائی نکتے پر جو اتفاق رائے ہوا تھا اسے ایک میثاق کی شکل دی جائے، ماضی کی کوتاہیوں پر پاکستان کے عوام سے معافی مانگ کر ایک نئی جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے 14 مئی 2005 کو لندن میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے رحمان ملک کی رہائش گاہ پر مذاکرات کیے۔ کئی گھنٹوں تک دونوں رہنماؤں نے مجوزہ عہد نامے کے ہر نکتے پر سیر حاصل بحث کی اور پھر وہ لمحہ آیا جب دونوں رہنماؤں نے ''میثاق جمہوریت'' پر اپنے دستخط ثبت کردیے۔ 1973 کے آئین کے بعد بلاشبہ یہ پاکستان کی سب سے اہم سیاسی دستاویز ہے۔ اس میثاق کی تمہید میں کہا گیا کہ پاکستان پر فوجی آمریت کے تسلط کی وجہ سے وفاق کی یک جہتی خطرے میں ہے، ریاستی ادارے، فوج کے ماتحت ہیں، سول سوسائٹی کی آواز ختم کی جارہی ہے، آئین کو ایک مذاق بنادیا گیا اور ملک مکمل تباہی اور انتشار کے دھانے پر آگیا ہے۔ ابتدایئے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ملک اور فوجی آمریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ سیاست اور اقتدار میں فوج کے ملوث ہونے سے جمہوری اور معاشی اداروں اور فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے عوام سے کہا کہ وہ وطن کو فوجی آمریت سے نجات دلانے، اپنے بنیادی سماجی ، سیاسی اور معاشی حقوق کے تحفظ اور پاکستان کو ایک جمہوری، وفاقی جدید اور ترقی پسند ملک بنانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ یہ میثاق 36 نکات پر مشتمل ہے جس کے چند اہم نکات یہ ہیں:
٭ : فوج کے 12 اکتوبر 1999 کو اقتدار میں آنے سے قبل 1973 کا جو آئین تھا اسے بحال کیا جائے گا تاہم مخلوط انتخابات، اقلیتوں اورخواتین کے لیے پارٹی فہرست کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں نشستیں ہوں گی، ووٹروں کی عمرکم، پارلیمنٹ کی نشستوں میں اضافے کی شقیں برقرار رہیں گی۔ ٭ : گورنروں، افواج کے تین سربراہوں اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تقرری 1973کے مطابق وزیراعظم کرے گا۔ ٭ : آئین میں کنکرنٹ لسٹ ختم کردی جائے گی اور نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے گا۔ ٭ : کسی وزیراعظم پر تیسری مرتبہ انتخاب میں حصہ نہ لینے کی پابندی ختم کردی جائے گی۔ ٭ : یہ عہد کیا گیا کہ ہم نمایندہ حکومتوں کا انتخابی مینڈیٹ قبول کریں گے۔ اسی طرح اپوزیشن کا کردار بھی تسلیم کیا جائے گا اور ہم میں سے کوئی بھی کسی دوسرے کی غیر آئینی طریقے سے حیثیت کم نہیں کرے گا۔ ٭ : ہم فوجی حکومت میں یا فوج کی سرپرستی والی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔ کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آنے کے لیے یا ایک جمہوری حکومت کو ختم کرنے کے لیے فوج کو طلب نہیں کرے گی۔ ٭ : ایک آزادخود مختار او غیر جانبدار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے گا۔ ٭ : آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے ایک غیر جانبدار نگراں حکومت ہوگی جس کے ارکان اور ان کے رشتے دار الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے۔
میثاق جمہوریت بلاشبہ پاکستان کا میگنا کارٹا ہے۔ پاکستانی سیاست کے 2 بدترین مخالف رہنماؤں نے اس میثاق کے وسیلے سے وہ کام کر دکھایا جس کا تصور بھی محال تھا۔ اس دستاویز نے پاکستانی سیاست کی کایا پلٹ دی۔
ہمیں 14 اگست 1947کو آزادی ملی لیکن ہماری تاریخ کا وہ واقعہ مئی 2013 میں وقوع پذیر ہوا جس کی خواہش دل میں لیے کروڑوں پاکستانی دنیا سے رخصت ہوئے اور انھیں وہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوا کہ ایک منتخب حکومت اپنی آئینی میعاد مکمل کر کے اقتدار اعلیٰ دوسری منتخب حکومت کو منتقل کرے۔ ہزاروں سیاسی کارکنوں نے اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، قیدوبند کی سختیاں جھیلیں، تشدد کا نشانہ بنے اور کوڑے کھائے۔ پاکستان کو ایک مہذب جمہوری ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے جن سیاسی کارکنوں یا رہنماؤں نے جدوجہد کی وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ انھیں بار بار یاد کرنا اور خراج عقیدت پیش کرنا ہمارا انفرادی اور اجتماعی فرض ہے۔
وہ پاکستان جس نے 1947 میں جنم لیا تھا وہ 1971 میں ختم ہوا۔ موجودہ پاکستان جس میں ہم بستے ہیں اس میں اولین جمہوری انتقال اقتدار کا یہ تاریخ ساز واقعہ ہم کبھی نہ دیکھ سکتے اگر ہمارے سیاسی منظرنامے پر دو غیر معمولی سیاسی کردار، بے نظیر بھٹو اور محمد نواز شریف موجود نہ ہوتے۔ ہوسکتا ہے میرا یہ جملہ کچھ لوگوں کو پسند نہ آئے، یہ بھی ممکن ہے کہ بعض حلقے اسے غیر معمولی مبالغہ آرائی سے تعبیر کریں۔ جمہوریت اور عوام کی حکمرانی سے نفرت کرنے والوں نے ان دونوں رہنماؤں پر کون سی تہمت نہیں لگائی، لیکن سچ تو یہی ہے کہ جمہوریت کی بحالی اور اس کے تسلسل میں ان دونوں کا کردار بنیادی ہے۔
2000 کو 21 ویں صدی کا آغاز ہوا۔ اسی سال فروری کے مہینے میں اس تاریخی عمل کا آغاز ہوا جو اگر نہ ہوتا تو ہم پاکستان میں جمہوری تبدیلی اور تسلسل کے خواب کو کبھی شرمندہ تعبیر ہوتے نہ دیکھ سکتے۔ 12 اکتوبر 1999 کو پاکستان پر چوتھا فوجی آمر قبضہ کرچکا تھا اور عوام کے مقبول ترین دو سیاسی رہنما جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ یہ فروری 2000 کی 10 ویں تاریخ اور جمعرات کا دن تھاجب بے نظیر بھٹو جدہ پہنچیں جہاں معزول وزیر اعظم نواز شریف ان کے منتظر تھے۔ یہ وہ دو قومی سیاست دان تھے جو اس سے پہلے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے اور ہاتھ ملانے تک کے روا دار نہیں تھے لیکن اب ان کی قلب ماہیت ہوچکی تھی۔ ان دونوں کے دلوں کے اندر سے ایک دوسرے کے لیے کینہ و کدورت ختم ہوچکی تھی۔ دراصل بڑا رہنما وہی ہوتا ہے جس کی نظر تاریخ کے بہتے دھاروں پر ہوتی ہے جو آج کے غیر مقبول اور آنے والی کل کے مقبول فیصلے کرنے کی صلاحیت اور جرأت رکھتے ہیں خواہ اس کی مخالفت ان کی اپنی جماعت کے اندر ہی کیوں نہ موجود ہو۔ بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے جدہ آئیں تو آصف علی زرداری ان کے ہم راہ تھے۔ دونوں کی میزبانی بیگم کلثوم نواز نے کی، وہی کلثوم جنہوں نے فوجی انقلاب کے بعد سڑک پر آکر غاصب آمر کو للکارا تھا۔ یہ ملاقات کئی گھنٹے جاری رہی۔ نہ گلے نہ شکوے نہ الزامات اور نہ جوابی الزامات۔ بات کا آغاز یہاں سے ہوا کہ ہم دونوں نے غلطی کی جو غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوئے ان کے آلہ کار بنے، اب آیندہ ایسا نہیں ہوگا۔
ہم مل کر پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کریں گے۔ اس ملاقات نے فوجی آمر کو یقیناً کچھ پریشان کیا ہوگا، اس نے اپنے غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اقدام کو ''جواز'' دینے کے لیے حسب روایت سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا جس نے 12مئی 2002 کو متفقہ طور پر جنرل پرویز مشرف کو اکتوبر 2002 تک بلا شرکت غیرے حکمرانی کی اجازت ''مرحمت'' فرما دی۔ بن مانگے کی مہلت ملتے ہی آمر مطلق نے سیاسی بساط بچھائی۔ سیاسی مہروں کو استعمال کیا جانے لگا۔ 2002میں ریفرنڈم کرایا گیا۔ جنرل صاحب کی حمایت میں عمران خان بھی پیش پیش تھے جو بعد میں ''تبدیلی اور انقلاب'' کے ''عظیم داعی'' بنے۔ وقت ضایع کیے بغیر 2002میں ہی عام انتخابات کرائے گئے اور فوجی آمر کے بوٹوں کے تسمے باندھنے والی ایک تابعدار حکومت معرض وجود میں لائی گئی۔ جمہوریت کے تمام مخالف یک جا ہوئے۔ کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا۔ عمران خان جنہوں نے ریفرنڈم میں آمر کی پُر جوش حمایت کی تھی، لیکن 2002 کے ''صاف اور شفاف'' انتخابات میں انھیں صرف ایک نشست ملی۔
وہ ان نتائج کے خلاف دھاندلی کا راگ الاپتے ہوئے نہ سپریم کورٹ میں گئے، نہ دھرنے دیے اور نہ سڑکوں پر آکر آمریت کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ نو منتخب اسمبلی نے 17 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی اور آمر کے تمام اقدامات کو آئینی تحفظ فراہم کردیا۔ جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کے لیے صوبوں میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان کی قو م پرست جماعتوں کے مخالفین کو اقتدار میں لایا گیا اور مرکز میں بھی ان سب نے مل جل کر آمریت کی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ اس سیاسی بندوبست کو امریکا کی حمایت حاصل تھی جسے فوجی آمر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔ یہ تو بعد میں دنیا کو معلوم ہوا کہ موصوف امریکا اور اس کے مخالفین دونوں کو بیک وقت ڈبل کراس کررہے تھے۔ بہرحال 9/11 کے بعد پاکستان میں اقتدار پر جنرل پرویز مشرف اور ان کی حامی جمہوریت مخالف قوتوں کا مکمل غلبہ ہوچکا تھا۔
یہ وقت بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی سیاسی دانش کا کڑا امتحان تھا۔ دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ فروری 2002 کی ملاقات میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے ابتدائی نکتے پر جو اتفاق رائے ہوا تھا اسے ایک میثاق کی شکل دی جائے، ماضی کی کوتاہیوں پر پاکستان کے عوام سے معافی مانگ کر ایک نئی جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے 14 مئی 2005 کو لندن میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے رحمان ملک کی رہائش گاہ پر مذاکرات کیے۔ کئی گھنٹوں تک دونوں رہنماؤں نے مجوزہ عہد نامے کے ہر نکتے پر سیر حاصل بحث کی اور پھر وہ لمحہ آیا جب دونوں رہنماؤں نے ''میثاق جمہوریت'' پر اپنے دستخط ثبت کردیے۔ 1973 کے آئین کے بعد بلاشبہ یہ پاکستان کی سب سے اہم سیاسی دستاویز ہے۔ اس میثاق کی تمہید میں کہا گیا کہ پاکستان پر فوجی آمریت کے تسلط کی وجہ سے وفاق کی یک جہتی خطرے میں ہے، ریاستی ادارے، فوج کے ماتحت ہیں، سول سوسائٹی کی آواز ختم کی جارہی ہے، آئین کو ایک مذاق بنادیا گیا اور ملک مکمل تباہی اور انتشار کے دھانے پر آگیا ہے۔ ابتدایئے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ملک اور فوجی آمریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ سیاست اور اقتدار میں فوج کے ملوث ہونے سے جمہوری اور معاشی اداروں اور فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے عوام سے کہا کہ وہ وطن کو فوجی آمریت سے نجات دلانے، اپنے بنیادی سماجی ، سیاسی اور معاشی حقوق کے تحفظ اور پاکستان کو ایک جمہوری، وفاقی جدید اور ترقی پسند ملک بنانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ یہ میثاق 36 نکات پر مشتمل ہے جس کے چند اہم نکات یہ ہیں:
٭ : فوج کے 12 اکتوبر 1999 کو اقتدار میں آنے سے قبل 1973 کا جو آئین تھا اسے بحال کیا جائے گا تاہم مخلوط انتخابات، اقلیتوں اورخواتین کے لیے پارٹی فہرست کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں نشستیں ہوں گی، ووٹروں کی عمرکم، پارلیمنٹ کی نشستوں میں اضافے کی شقیں برقرار رہیں گی۔ ٭ : گورنروں، افواج کے تین سربراہوں اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تقرری 1973کے مطابق وزیراعظم کرے گا۔ ٭ : آئین میں کنکرنٹ لسٹ ختم کردی جائے گی اور نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے گا۔ ٭ : کسی وزیراعظم پر تیسری مرتبہ انتخاب میں حصہ نہ لینے کی پابندی ختم کردی جائے گی۔ ٭ : یہ عہد کیا گیا کہ ہم نمایندہ حکومتوں کا انتخابی مینڈیٹ قبول کریں گے۔ اسی طرح اپوزیشن کا کردار بھی تسلیم کیا جائے گا اور ہم میں سے کوئی بھی کسی دوسرے کی غیر آئینی طریقے سے حیثیت کم نہیں کرے گا۔ ٭ : ہم فوجی حکومت میں یا فوج کی سرپرستی والی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔ کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آنے کے لیے یا ایک جمہوری حکومت کو ختم کرنے کے لیے فوج کو طلب نہیں کرے گی۔ ٭ : ایک آزادخود مختار او غیر جانبدار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے گا۔ ٭ : آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے ایک غیر جانبدار نگراں حکومت ہوگی جس کے ارکان اور ان کے رشتے دار الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے۔
میثاق جمہوریت بلاشبہ پاکستان کا میگنا کارٹا ہے۔ پاکستانی سیاست کے 2 بدترین مخالف رہنماؤں نے اس میثاق کے وسیلے سے وہ کام کر دکھایا جس کا تصور بھی محال تھا۔ اس دستاویز نے پاکستانی سیاست کی کایا پلٹ دی۔