پلیئرز کے دل سے شکست کا خوف نکالنے کی کوشش شروع
ایشیا کپ میں فتح ہدف ہے، اسکواڈ کو ناقابل شکست بنانے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا، ٹیم جان لڑاتی نظر آئے گی،چیف کوچ
لاہور: تربیتی کیمپ کے پہلے روز عمر گل تھرو کررہے ہیں، آل رائونڈر شاہد آفریدی بھی ساتھ موجود۔ فوٹو: اے ایف پی
نو منتخب کوچ معین خان نے پلیئرزکے دل سے شکست کا خوف نکالنے کی کوشش شروع کر دی، ان کا کہنا ہے کہ میں ٹیم میں جیت کی لگن لے کر آؤں گا۔
بطور کپتان گرین شرٹس کو پہلی بار ایشیائی چیمپئن بنوانے والے معین نے اعزاز کے دفاع کو ہدف بنالیا،ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے منفی اثرات کو بہترین پرفارمنس سے ہی زائل کیا جا سکتا ہے،بطور منیجر کام کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے تکنیکی اور نفسیاتی مسائل سے آگاہی ملی، بہتری لانے پر بھرپور توجہ دوں گا، ناقابل شکست بنانے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا تاہم ٹیم جان لڑاتی نظر آئے گی، کوشش ہو گی کہ مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کا آپس میں تال میل بڑھے اور ایک دوسرے پر الزامات کا کلچر ختم ہو جائے،کسی کی سفارش کی وجہ سے نہیں آیا، سسٹم کے مطابق کوچ کمیٹی نے بطور ہیڈ کوچ انتخاب کیا۔ تفصیلات کے مطابق تربیتی کیمپ کے افتتاحی روز ہیڈ کوچ معین خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پلیئرز کی خامیاں دور کرنے کیلیے سخت محنت کروں گا، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ قومی ٹیم ہر میچ میں ناقابل شکست رہے گی، البتہ گراؤنڈ میں فائٹ کرتی ضرورنظر آئے گی، چند میچز کے دوران شکست کے خوف نے مہم کمزور بنائی، میں نے جیت کی لگن لانے کی کوشش شروع کردی ہے۔
پاکستان پہلی بار ایشیائی چیمپئن بنا تو میں کپتان تھا،گذشتہ ایونٹ کی ٹائٹل فتح مصباح الحق کی زیرقیادت ملی، اب ان کے ساتھ مل کر اعزاز کے دفاع کی مہم مکمل کرنے کی ٹھان لی ہے، بگ تھری کے تناظر میں موجودہ ایونٹس کی اہمیت کے سوال پر انھوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال کے منفی اثرات کو بہترین پرفارمنس سے ہی زائل کیا جاسکتا ہے، قبل ازیں قومی ٹیم کے ساتھ بطورمینجر کام کر تے ہوئے کھلاڑیوں کی تکنیکی کمزوریاں اور نفسیات جانچنے کا موقع ملا، اب میرا کردار مختلف ہے، اپنے سابق تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوشش کروں گا کہ کھلاڑیوں کی خامیاں دور کروں۔ معین خان نے کہا کہ سابق ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور نے بھی اچھا کام کیا اور ان کی موجودگی میں ٹیم نے سیریز جیتیں، چند میچز ہارے بھی مگر انھوں نے پروفیشنل انداز میں کام کیا، انھیں قبل از وقت ہی حکمت عملی تیار کرنے کی اچھی عادت تھی جسے میں اپنانا چاہوں گا۔
سابق کپتان نے کہاکہ ٹیم کی تشکیل میں میری مشاورت بھی شامل رہی، ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ پرفارمنس کے باوجود یونس خان کو نظر انداز کیے جانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ سینئر بیٹسمین کی صلاحیتوں پر کسی کو کوئی شک نہیں ہے، اگر وہ ایک روزہ کرکٹ میں مسلسل اچھا پرفارم کریں تو ضرورت پڑنے پر دوبارہ قومی ٹیم کیلیے خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں،انھیں ڈراپ کرنے میں مصباح کے کردار پر انھوں نے کہاکہ میٹنگ میں سب رائے دیتے ہیں، کس کا نام لینا درست نہیں ہوتا، جب کوئی بات اجتماعی طور پر طے ہو جائے تو کسی کے اختلاف رائے کے باوجود وہ سب کا فیصلہ ہوتا ہے۔ معین خان نے کہا کہ ڈومیسٹک سیزن میں شاہ زیب سمیت مختلف کھلاڑیوں کا اچھی کارکردگی دکھانا مسابقتی کرکٹ کی فضا پروان چڑھانے کیلیے اچھا شگون ہے، مگر قومی ٹیم میں یکدم زیادہ تبدیلیاں نہیں کی جا سکتیں،1،2 کھلاڑیوں کو ہی موقع دیا جاسکتا ہے، فواد عالم بھی ڈومیسٹک میں اچھی کارکردگی دکھاکر ہی واپس آئے ہیں، قومی ٹیم کا اچھا کمبی نیشن بن گیا اور ہماری کوشش ہے کہ اسے طویل عرصے چلایا جائے، سلیکشن میں تسلسل لانے سے ہی ٹیمیں بنتی ہیں۔
نجم سیٹھی سے قربت کی وجہ سے بطور کوچ تقرری کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میرے لیے تمام چیئرمین ہی قابل عزت ہیں، میں کسی سے تعلق کی وجہ سے نہیں بلکہ سسٹم کے اندر رہتے ہوئے کوچ فائنڈنگ کمیٹی کی جانب سے منتخب ہو کر آگے آیا، اگر اچھاکام کیا تو مستقل ہیڈ کوچ بن سکتا ہوں اور اگر نکال دیا گیا تو بھی کوئی دکھ نہیں ہو گا، امید ہے میری جگہ کسی کا بھی انتخاب کیا گیا تو ملک کی بہتری ہی پیش نظر رکھی جائے گی، انھوں نے کہا کہ میرا وقار یونس سے موازنہ بھی درست نہیں،جتنا بھی وقت ملے صرف اپنے کردار سے انصاف کرنے کیلیے محنت کروں گا۔ سینئرزکی موجودگی میں کوچنگ کے بارے میں سوال پر معین خان نے کہا کہ میں کئی سینئر کرکٹرز کی موجودگی میں 24سال کی عمر میں قومی ٹیم کاکامیاب کپتان بنا تھا،اب بھی شعیب محمد اور ظہیر عباس کے ساتھ کام کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہو گی، دونوں کے تجربے کا فائدہ ہی ہو گا، شعیب اپنے دور کے بہترین فیلڈر تھے، ان کی جانب سے پہلے روز کھلاڑیوں کو لیکچر متاثر کن اور مفید تھا، ظہیر عباس ایشن بریڈ مین ہیں، ان کی رہنمائی میں بیٹنگ بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
بطور کپتان گرین شرٹس کو پہلی بار ایشیائی چیمپئن بنوانے والے معین نے اعزاز کے دفاع کو ہدف بنالیا،ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے منفی اثرات کو بہترین پرفارمنس سے ہی زائل کیا جا سکتا ہے،بطور منیجر کام کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے تکنیکی اور نفسیاتی مسائل سے آگاہی ملی، بہتری لانے پر بھرپور توجہ دوں گا، ناقابل شکست بنانے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا تاہم ٹیم جان لڑاتی نظر آئے گی، کوشش ہو گی کہ مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کا آپس میں تال میل بڑھے اور ایک دوسرے پر الزامات کا کلچر ختم ہو جائے،کسی کی سفارش کی وجہ سے نہیں آیا، سسٹم کے مطابق کوچ کمیٹی نے بطور ہیڈ کوچ انتخاب کیا۔ تفصیلات کے مطابق تربیتی کیمپ کے افتتاحی روز ہیڈ کوچ معین خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پلیئرز کی خامیاں دور کرنے کیلیے سخت محنت کروں گا، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ قومی ٹیم ہر میچ میں ناقابل شکست رہے گی، البتہ گراؤنڈ میں فائٹ کرتی ضرورنظر آئے گی، چند میچز کے دوران شکست کے خوف نے مہم کمزور بنائی، میں نے جیت کی لگن لانے کی کوشش شروع کردی ہے۔
پاکستان پہلی بار ایشیائی چیمپئن بنا تو میں کپتان تھا،گذشتہ ایونٹ کی ٹائٹل فتح مصباح الحق کی زیرقیادت ملی، اب ان کے ساتھ مل کر اعزاز کے دفاع کی مہم مکمل کرنے کی ٹھان لی ہے، بگ تھری کے تناظر میں موجودہ ایونٹس کی اہمیت کے سوال پر انھوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال کے منفی اثرات کو بہترین پرفارمنس سے ہی زائل کیا جاسکتا ہے، قبل ازیں قومی ٹیم کے ساتھ بطورمینجر کام کر تے ہوئے کھلاڑیوں کی تکنیکی کمزوریاں اور نفسیات جانچنے کا موقع ملا، اب میرا کردار مختلف ہے، اپنے سابق تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوشش کروں گا کہ کھلاڑیوں کی خامیاں دور کروں۔ معین خان نے کہا کہ سابق ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور نے بھی اچھا کام کیا اور ان کی موجودگی میں ٹیم نے سیریز جیتیں، چند میچز ہارے بھی مگر انھوں نے پروفیشنل انداز میں کام کیا، انھیں قبل از وقت ہی حکمت عملی تیار کرنے کی اچھی عادت تھی جسے میں اپنانا چاہوں گا۔
سابق کپتان نے کہاکہ ٹیم کی تشکیل میں میری مشاورت بھی شامل رہی، ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ پرفارمنس کے باوجود یونس خان کو نظر انداز کیے جانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ سینئر بیٹسمین کی صلاحیتوں پر کسی کو کوئی شک نہیں ہے، اگر وہ ایک روزہ کرکٹ میں مسلسل اچھا پرفارم کریں تو ضرورت پڑنے پر دوبارہ قومی ٹیم کیلیے خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں،انھیں ڈراپ کرنے میں مصباح کے کردار پر انھوں نے کہاکہ میٹنگ میں سب رائے دیتے ہیں، کس کا نام لینا درست نہیں ہوتا، جب کوئی بات اجتماعی طور پر طے ہو جائے تو کسی کے اختلاف رائے کے باوجود وہ سب کا فیصلہ ہوتا ہے۔ معین خان نے کہا کہ ڈومیسٹک سیزن میں شاہ زیب سمیت مختلف کھلاڑیوں کا اچھی کارکردگی دکھانا مسابقتی کرکٹ کی فضا پروان چڑھانے کیلیے اچھا شگون ہے، مگر قومی ٹیم میں یکدم زیادہ تبدیلیاں نہیں کی جا سکتیں،1،2 کھلاڑیوں کو ہی موقع دیا جاسکتا ہے، فواد عالم بھی ڈومیسٹک میں اچھی کارکردگی دکھاکر ہی واپس آئے ہیں، قومی ٹیم کا اچھا کمبی نیشن بن گیا اور ہماری کوشش ہے کہ اسے طویل عرصے چلایا جائے، سلیکشن میں تسلسل لانے سے ہی ٹیمیں بنتی ہیں۔
نجم سیٹھی سے قربت کی وجہ سے بطور کوچ تقرری کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میرے لیے تمام چیئرمین ہی قابل عزت ہیں، میں کسی سے تعلق کی وجہ سے نہیں بلکہ سسٹم کے اندر رہتے ہوئے کوچ فائنڈنگ کمیٹی کی جانب سے منتخب ہو کر آگے آیا، اگر اچھاکام کیا تو مستقل ہیڈ کوچ بن سکتا ہوں اور اگر نکال دیا گیا تو بھی کوئی دکھ نہیں ہو گا، امید ہے میری جگہ کسی کا بھی انتخاب کیا گیا تو ملک کی بہتری ہی پیش نظر رکھی جائے گی، انھوں نے کہا کہ میرا وقار یونس سے موازنہ بھی درست نہیں،جتنا بھی وقت ملے صرف اپنے کردار سے انصاف کرنے کیلیے محنت کروں گا۔ سینئرزکی موجودگی میں کوچنگ کے بارے میں سوال پر معین خان نے کہا کہ میں کئی سینئر کرکٹرز کی موجودگی میں 24سال کی عمر میں قومی ٹیم کاکامیاب کپتان بنا تھا،اب بھی شعیب محمد اور ظہیر عباس کے ساتھ کام کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہو گی، دونوں کے تجربے کا فائدہ ہی ہو گا، شعیب اپنے دور کے بہترین فیلڈر تھے، ان کی جانب سے پہلے روز کھلاڑیوں کو لیکچر متاثر کن اور مفید تھا، ظہیر عباس ایشن بریڈ مین ہیں، ان کی رہنمائی میں بیٹنگ بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔