ایف بی آرنے ٹیکسٹائل سیکٹر پر 17 فیصد ٹیکس کی پلاننگ کرلی

ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تحفظات، برآمدکنندگان کے 74 ارب روپے پھنس جائیں گے، چیئرمین اپٹما

ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تحفظات، برآمدکنندگان کے 74 ارب روپے پھنس جائیں گے، چیئرمین اپٹما فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے محصولات کی وصولیاں بڑھانے کی غرض سے مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری پرآئندہ 3 سال کے دوران سیلزٹیکس کی شرح 17 فیصد تک پہنچانے کی حکمت عملی وضح کرلی ہے، مجوزہ حکمت عملی کے تحت پہلے مرحلے میں سیلزٹیکس کی شرح 2 فیصد سے بڑھاکر5 فیصد کر دیا جائے گی۔


تاہم ٹیکسٹائل انڈسٹری نے ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس پالیسی میں متوقع تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمدکے نتیجے میں یورپین یونین کی جانب سے حال ہی میں ملنے والے تجارتی رعایتوں (جی ایس پی پلس) کے ثمرات محدود جبکہ انڈسٹری کو سرمائے کی قلت کا سامنا ہوگا۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین یاسین صدیق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ٹیکس پالیسی میں تبدیلی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی میں بدترین رکاوٹ ثابت ہو گی، مجوزہ حکمت عملی کے تحت سیلزٹیکس کی شرح2 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کیے جانے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان کے74 ارب روپے مالیت کی رقم ایف بی آر میں منجمد ہوکر رہ جائے گی جو ایف بی آر اور اسکے ماتحت محکمہ جات کی بلاتاخیر پروسیس اور ریفنڈ کرنے کی صلاحیت سے کہیں گنا زیادہ ہے۔

ماضی میں بھی اسی نوعیت کے سیلزٹیکس ریفنڈسسٹم کے تجربات سے کرپشن میں نمایاں فروغ اور فلائنگ انوائسز کے ذریعے ریفنڈز کی مد میں بھاری ادائیگیوں کے واقعات رونما ہوئے، جعلساز درآمدکنندگان نے جعلی ریفنڈ حاصل کرکے قومی خزانے کو بھاری نقصانات سے دوچار کیا۔ یاسین صدیق نے بتایا کہ مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری طویل اور مہنگے ریفنڈسسٹم کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ خطے کے دیگر ممالک سے پاکستان کی صنعتی پیداواری لاگت پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور ساتھ ہی توانائی بحران اور بدامنی کا بھی سامنا ہے جس سے مسائل مزید گبھیر ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آرکو اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ قومی ادارے کی ٹیکس وصولیوں کا نظام بہتر اور شفاف ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے قابل ٹیکس آمدنی کے حامل افراد اورشعبوں کو نیٹ میں لانے کی ٹھوس حکمت عملی وضح کریں۔ یاسین صدیق نے وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے اس ضمن میں فوری مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں حتمی فیصلہ کرنے سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔
Load Next Story