پاک ایران ورکنگ گروپ کی تشکیل
وزیر اعظم عمران خان نے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی معاشی ترقی کے لیے سرحدی منڈیوں کی جلد تکمیل اور فعالیت پر زور دیا
وزیر اعظم عمران خان نے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی معاشی ترقی کے لیے سرحدی منڈیوں کی جلد تکمیل اور فعالیت پر زور دیا۔ فوٹو:سوشل میڈیا
پاکستان اور ایران نے سرحدوں سے متعلق معاملات سے نمٹنے کے لیے اپنی وزارت داخلہ کا مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا ہے۔ یہ مشترکہ ورکنگ گروپ ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی کے ایک روزہ دورے کے دوران تشکیل دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم عمران خان، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کی۔ اس دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں ہونے والی بات چیت میں زیادہ تر سرحدوں کی سیکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
مشترکہ ورکنگ گروپ کا وسیع مینڈیٹ ہے جس میں سرحد سے متعلق سیکیورٹی اور غیر سیکیورٹی دونوں طرح کے معاملات شامل ہیں، جس کا مقصد دو طرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔
مشترکہ ورکنگ گروپ دہشت گردی سے متعلق خدشات، سرحد کے اطراف جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، سرحدیں پار کرنے سے متعلق معاملات اور سرحدوں پر بازاروں کی تعمیر اور انتظامی معاملات پر کام کرے گا۔ وزیر اعظم آفس اور انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کی جانب سے جاری کردہ بیانات نے بھی بارڈر سیکیورٹی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
ایرانی وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے سیکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون پر زور دیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ایرانی وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران ان ہی معاملات پر بات کی۔
پاک ایران سیاسی تعلقات کو بڑی باریک بینی سے دیکھنے اور خارجہ معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاک ایران سیاست کی تہیں بہت سے تضادات اور سیاسی حکومتوں کی سیاسی موشگافیوں اور مسئلہ کی بنیادی تضادات اور تاریخی مسائل کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے بھی الجھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ سب سے بنیادی حقائق پاکستان کے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی دور اندیشی سے ماورا پالیسیاں ہیں۔
بعض عناصر نے نائن الیون کے بعد سے پاکستان کوکئی حوالوں سے میدان جنگ بنانے کے لیے گروہی اور مفادات کی سیاست کی۔ اس سیاسی انداز نظر نے بلوچ قوم پرستی کی ایسی خلیج پیدا کی جسے ختم کرنے کے لیے بڑے جہاں دیدئہ سیاسی وژن کی ضرورت تھی، تاہم بلوچ قوم پرستی کا مسئلہ بھی سیاسی مسئلہ تھا جسے حل کرنے کے لیے کسی افلاطونی فلسفے کی ضرورت نہ تھی، سیاسی مسائل مکالمے سے حل ہو سکتے ہیں۔
نواب اکبر بگٹی ، جام غلام قادر ، جام یوسف، ڈاکٹر عبدالمالک، سردار عطاللہ مینگل، سردار خیر بخش مری، براہم داغ بگٹی، خیر بخش مری مابعد طبیعی یا مافوق الفطرت سیاست دان نہ تھے، انھیں مفاد پرست سیاسی عناصر نے کبھی بھی ملنے نہ دیا اور ہمیشہ کوشش ہوتی رہی کہ اسٹیبلشمنٹ کبھی بھی بلوچ سیاستدانوں سے مفاہمت کے لیے تیار نہ ہوں، جب کہ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ گوادر اور مری کے علاقے سیاسی اختلافات کا مرکز رہے، میر غوث بخش بزنجو اور اکبر بگٹی وفاقی کابینہ میں بھی رہے، وزارت اعلیٰ بھی انھوں نے قبول کی۔
بھٹو کی سیاست اور دیگر عسکری معاملات کو الگ رکھتے ہوئے اگر صرف اس نکتہ پر غور کیا جائے کہ بلوچ سیاست دان اگر پاکستان کی جمہوری حکومتوں سے برسر پیکار رہے تو ان کی بنیادی وجوہات کیا تھیں۔ ان معاملات کو ٹھنڈے دل و دماغ سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر بلوچستان اور پاکستان کی سیاست میں گردشی مسائل کا سیاسی حل نکالنے کے لیے کوئی فطری سیاسی اصول وضع کرتے ہوئے کوئی گول میزکانفرنس بلا لی گئی ہوتی تو گوادر سمیت بلوچستان، ایران اور ہمسایہ ملکوں کے مابین گریٹر مفاہمت کا خواب برسوں پہلے حل ہو چکا ہوتا۔
بدقسمتی سے پاکستان کو ایسے سیاسی عناصر نے سیاسی طور پر حالت جنگ میں رکھا کہ آج بھی جمہوریت قوم کے لیے سب سے بنیادی مسئلہ ہے۔ اس وقت ضرورت پاک ایران معاملات کو خطے کی سیاست کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کے حل کی طرف مراجعت کرتی نظر آئے گی۔
موجودہ حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں اہم فیصلے کیے، انھوں نے ایران اور پاکستان کو قریب لانے کے لیے معاشی استقامت پر زور دیا، ان کا بنیادی مکالمہ یہ ہے کہ معاشی معاملات ہی سیاسی طاقت کا محور ہوںگے، اسلحے کی دوڑ سے انسانیت کے مسائل مزید پیچیدگی کا شکار ہو ںگے۔ ایران کو عالمی طاقتیں عرصہ دراز سے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔
امریکا نے عراق سے قبل ایران کے گرد دائرہ لگا دیا تھا، اسے عراق سے بڑا خطرہ ثابت کرنے کے لیے مغربی اخبارات اور جرائد نے ایران کو مہلک اسلحہ کا مرکز ثابت کرنے کے لیے رپورٹوں اور تحقیقاتی مقالوں کے انبار لگائے لیکن ایران نے دور اندیشی سے امریکا کا مقابلہ کیا اور جنگ سے بچتے ہوئے نہایت ذہانت، دلیری اور سفارت کارانہ چابک دستی سے ایٹمی معاہدے پر دستخط کیے، اور آج بھی ایران ایک امن پسند دنیا میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے فعال ترین ڈپلومیسی اور سیاسی دور اندیشی سے کام لے رہا ہے۔
پاکستان اور ایران کو امن، معاشی ترقی، گریٹر خوشحالی کے لیے جنگ سے نفرت پر مبنی پالیسی پر چل کر خطے میں دوطرفہ مفاہمت اور ترقی کے امکانات کو حقیقت کا روپ دینا ہوگا۔ یاد رکھیے خطے میں ایران اور پاکستان امن، ترقی اور مستحکم معیشت کا استعارہ ہیں۔
اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سرحد پر باڑ کی تنصیب جلد مکمل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ایران اور پاکستان کے علاقے ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کیے جاسکتے۔
سرحدوں سے متعلق سیکیورٹی کے معاملات طویل عرصے سے پاک ایران تعلقات میں عدم اعتماد کی بڑی وجوہ ہیں، دونوں ممالک کے درمیان 909 کلومیٹر طویل سرحد ہے جہاں بڑی تعداد میں جرائم پیشہ گروہ، عسکریت پسند اور منشیات کے اسمگلر موجود ہیں، جب کہ کئی پرتشدد واقعات بھی پیش آچکے ہیں جن میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
دونوں ممالک کی جانب سے کئی بارڈر میکانزم بنانے سمیت متعدد اقدامات کیے گئے جب کہ سرحد پر باڑ لگانے سے صورتحال کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملی ہے، تاہم اب بھی وقتاً فوقتاً رونما ہونے والے واقعات تعلقات میں تناؤ پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ایرانی وزیر داخلہ نے دو طرفہ سرحدی کمیشن کو مزید فعال بنانے اور دونوں ممالک کے سرحدی محافظوں کے درمیان بات چیت اور تعاون کے عمل کو مزید موثر بنانے کی تجویز پیش کی۔
دونوں ممالک کے نمایندوں نے اپنی ملاقاتوں کے دوران سرحدی مارکیٹس کو فعال کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرحدی مارکیٹیں بنانے اور علاقے میں کاروباری سرگرمیوں میں پھیلاؤ کے امکانات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ علاقے میں میکانیکل افرادی قوت بھی اکنامک ایکٹیوٹی کے لیے اہم مقامی طاقت کا کردار ادا کرسکتی ہے اور دوطرفہ غربت کا مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے، ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ محنت کش افرادی طاقت اس علاقے میں انسانی اثاثہ ہیں، انھیں ترقی اور کاروباری وسعتوں کے لیے استعمال کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی کا کہنا تھا کہ بازاروں کو فعال کرنا سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے اہم ہے، اور اس معاملے پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے تھا، تاہم انفرا اسٹرکچر سے متعلق کچھ بنیادی مسائل ہیں جنھیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انفرا اسٹرکچر سے متعلق ایرانی معروضات قابل غور ہیں، حقیقت میں پاک ایران زمینی مسائل کو پاکستان کے کل رقبہ کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے رقبے پر محیط بلوچستان کی فزیکل، سماجی، اقتصادی سیاسی بساط نے دہشت گردی و بد امنی کا شکار کر دیا جس کے باعث خطے کی سیاست متاثر رہی۔
گزشتہ چند دہائیوں میں ملکی سیاست گونا گوں مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہے، دہشت گردوں کی فعالیت غیرمعمولی ہے، بے پناہ کشت و خوں ہوتے رہے ہیں، بلوچ قوم پرست علیحدگی پسندوں کی تہ در تہ تنظیمیں سرگرم عمل ہیں، پاکستان کی صائب کوشش رہی ہے کہ ان دہشت گرد پارٹیزکی سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچائیں، ہمہ جہتی کی کوششوں کو دوطرفہ کوششوں سے با ثمر بنائیں۔
اس ضمن میں ایرانی حکام نے پاکستان سے پاک ایران بارڈر اجلاسوں میں مسائل پر سیر حاصل غوروفکر کیا، پاکستان سے ہزاروں کاروباری اور مسافر لگژری ٹرانسپورٹ بسیں کراچی سے بلوچستان اور ایران کے مختلف سرحدی علاقوں میں مسافر اور سازوسامان لے جاتی ہیں، درمیان میں ایک وسیع کاروباری زون ہے۔
ان روٹس پر مزید داخلی سہولتوں کی ضرورت ہے، کراچی اور لیاری کے کئی افراد اور خاندان ان روٹس پر سفرکرتے ہیں، روزگار کے بہتر ذرایع دستیاب ہوتے ہیں، امن برائے ترقی و روزگار کے مزید امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، بس ضرورت سفر کو مزید محفوظ بنانے کی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی معاشی ترقی کے لیے سرحدی منڈیوں کی جلد تکمیل اور فعالیت پر زور دیا۔ اس فعالیت کو مستحکم بنانے کے لیے دو طرفہ اقدامات میں بارڈر کراسنگ پر حفاظتی اقدامات کو مکمل کاروباری اور ہمہ گیر اقتصادی بنیاد مہیا ہو تو اس علاقے کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم عمران خان، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کی۔ اس دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں ہونے والی بات چیت میں زیادہ تر سرحدوں کی سیکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
مشترکہ ورکنگ گروپ کا وسیع مینڈیٹ ہے جس میں سرحد سے متعلق سیکیورٹی اور غیر سیکیورٹی دونوں طرح کے معاملات شامل ہیں، جس کا مقصد دو طرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔
مشترکہ ورکنگ گروپ دہشت گردی سے متعلق خدشات، سرحد کے اطراف جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، سرحدیں پار کرنے سے متعلق معاملات اور سرحدوں پر بازاروں کی تعمیر اور انتظامی معاملات پر کام کرے گا۔ وزیر اعظم آفس اور انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کی جانب سے جاری کردہ بیانات نے بھی بارڈر سیکیورٹی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
ایرانی وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے سیکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون پر زور دیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ایرانی وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران ان ہی معاملات پر بات کی۔
پاک ایران سیاسی تعلقات کو بڑی باریک بینی سے دیکھنے اور خارجہ معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاک ایران سیاست کی تہیں بہت سے تضادات اور سیاسی حکومتوں کی سیاسی موشگافیوں اور مسئلہ کی بنیادی تضادات اور تاریخی مسائل کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے بھی الجھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ سب سے بنیادی حقائق پاکستان کے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی دور اندیشی سے ماورا پالیسیاں ہیں۔
بعض عناصر نے نائن الیون کے بعد سے پاکستان کوکئی حوالوں سے میدان جنگ بنانے کے لیے گروہی اور مفادات کی سیاست کی۔ اس سیاسی انداز نظر نے بلوچ قوم پرستی کی ایسی خلیج پیدا کی جسے ختم کرنے کے لیے بڑے جہاں دیدئہ سیاسی وژن کی ضرورت تھی، تاہم بلوچ قوم پرستی کا مسئلہ بھی سیاسی مسئلہ تھا جسے حل کرنے کے لیے کسی افلاطونی فلسفے کی ضرورت نہ تھی، سیاسی مسائل مکالمے سے حل ہو سکتے ہیں۔
نواب اکبر بگٹی ، جام غلام قادر ، جام یوسف، ڈاکٹر عبدالمالک، سردار عطاللہ مینگل، سردار خیر بخش مری، براہم داغ بگٹی، خیر بخش مری مابعد طبیعی یا مافوق الفطرت سیاست دان نہ تھے، انھیں مفاد پرست سیاسی عناصر نے کبھی بھی ملنے نہ دیا اور ہمیشہ کوشش ہوتی رہی کہ اسٹیبلشمنٹ کبھی بھی بلوچ سیاستدانوں سے مفاہمت کے لیے تیار نہ ہوں، جب کہ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ گوادر اور مری کے علاقے سیاسی اختلافات کا مرکز رہے، میر غوث بخش بزنجو اور اکبر بگٹی وفاقی کابینہ میں بھی رہے، وزارت اعلیٰ بھی انھوں نے قبول کی۔
بھٹو کی سیاست اور دیگر عسکری معاملات کو الگ رکھتے ہوئے اگر صرف اس نکتہ پر غور کیا جائے کہ بلوچ سیاست دان اگر پاکستان کی جمہوری حکومتوں سے برسر پیکار رہے تو ان کی بنیادی وجوہات کیا تھیں۔ ان معاملات کو ٹھنڈے دل و دماغ سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر بلوچستان اور پاکستان کی سیاست میں گردشی مسائل کا سیاسی حل نکالنے کے لیے کوئی فطری سیاسی اصول وضع کرتے ہوئے کوئی گول میزکانفرنس بلا لی گئی ہوتی تو گوادر سمیت بلوچستان، ایران اور ہمسایہ ملکوں کے مابین گریٹر مفاہمت کا خواب برسوں پہلے حل ہو چکا ہوتا۔
بدقسمتی سے پاکستان کو ایسے سیاسی عناصر نے سیاسی طور پر حالت جنگ میں رکھا کہ آج بھی جمہوریت قوم کے لیے سب سے بنیادی مسئلہ ہے۔ اس وقت ضرورت پاک ایران معاملات کو خطے کی سیاست کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کے حل کی طرف مراجعت کرتی نظر آئے گی۔
موجودہ حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں اہم فیصلے کیے، انھوں نے ایران اور پاکستان کو قریب لانے کے لیے معاشی استقامت پر زور دیا، ان کا بنیادی مکالمہ یہ ہے کہ معاشی معاملات ہی سیاسی طاقت کا محور ہوںگے، اسلحے کی دوڑ سے انسانیت کے مسائل مزید پیچیدگی کا شکار ہو ںگے۔ ایران کو عالمی طاقتیں عرصہ دراز سے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔
امریکا نے عراق سے قبل ایران کے گرد دائرہ لگا دیا تھا، اسے عراق سے بڑا خطرہ ثابت کرنے کے لیے مغربی اخبارات اور جرائد نے ایران کو مہلک اسلحہ کا مرکز ثابت کرنے کے لیے رپورٹوں اور تحقیقاتی مقالوں کے انبار لگائے لیکن ایران نے دور اندیشی سے امریکا کا مقابلہ کیا اور جنگ سے بچتے ہوئے نہایت ذہانت، دلیری اور سفارت کارانہ چابک دستی سے ایٹمی معاہدے پر دستخط کیے، اور آج بھی ایران ایک امن پسند دنیا میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے فعال ترین ڈپلومیسی اور سیاسی دور اندیشی سے کام لے رہا ہے۔
پاکستان اور ایران کو امن، معاشی ترقی، گریٹر خوشحالی کے لیے جنگ سے نفرت پر مبنی پالیسی پر چل کر خطے میں دوطرفہ مفاہمت اور ترقی کے امکانات کو حقیقت کا روپ دینا ہوگا۔ یاد رکھیے خطے میں ایران اور پاکستان امن، ترقی اور مستحکم معیشت کا استعارہ ہیں۔
اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سرحد پر باڑ کی تنصیب جلد مکمل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ایران اور پاکستان کے علاقے ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کیے جاسکتے۔
سرحدوں سے متعلق سیکیورٹی کے معاملات طویل عرصے سے پاک ایران تعلقات میں عدم اعتماد کی بڑی وجوہ ہیں، دونوں ممالک کے درمیان 909 کلومیٹر طویل سرحد ہے جہاں بڑی تعداد میں جرائم پیشہ گروہ، عسکریت پسند اور منشیات کے اسمگلر موجود ہیں، جب کہ کئی پرتشدد واقعات بھی پیش آچکے ہیں جن میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
دونوں ممالک کی جانب سے کئی بارڈر میکانزم بنانے سمیت متعدد اقدامات کیے گئے جب کہ سرحد پر باڑ لگانے سے صورتحال کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملی ہے، تاہم اب بھی وقتاً فوقتاً رونما ہونے والے واقعات تعلقات میں تناؤ پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ایرانی وزیر داخلہ نے دو طرفہ سرحدی کمیشن کو مزید فعال بنانے اور دونوں ممالک کے سرحدی محافظوں کے درمیان بات چیت اور تعاون کے عمل کو مزید موثر بنانے کی تجویز پیش کی۔
دونوں ممالک کے نمایندوں نے اپنی ملاقاتوں کے دوران سرحدی مارکیٹس کو فعال کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرحدی مارکیٹیں بنانے اور علاقے میں کاروباری سرگرمیوں میں پھیلاؤ کے امکانات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ علاقے میں میکانیکل افرادی قوت بھی اکنامک ایکٹیوٹی کے لیے اہم مقامی طاقت کا کردار ادا کرسکتی ہے اور دوطرفہ غربت کا مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے، ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ محنت کش افرادی طاقت اس علاقے میں انسانی اثاثہ ہیں، انھیں ترقی اور کاروباری وسعتوں کے لیے استعمال کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی کا کہنا تھا کہ بازاروں کو فعال کرنا سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے اہم ہے، اور اس معاملے پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے تھا، تاہم انفرا اسٹرکچر سے متعلق کچھ بنیادی مسائل ہیں جنھیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انفرا اسٹرکچر سے متعلق ایرانی معروضات قابل غور ہیں، حقیقت میں پاک ایران زمینی مسائل کو پاکستان کے کل رقبہ کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے رقبے پر محیط بلوچستان کی فزیکل، سماجی، اقتصادی سیاسی بساط نے دہشت گردی و بد امنی کا شکار کر دیا جس کے باعث خطے کی سیاست متاثر رہی۔
گزشتہ چند دہائیوں میں ملکی سیاست گونا گوں مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہے، دہشت گردوں کی فعالیت غیرمعمولی ہے، بے پناہ کشت و خوں ہوتے رہے ہیں، بلوچ قوم پرست علیحدگی پسندوں کی تہ در تہ تنظیمیں سرگرم عمل ہیں، پاکستان کی صائب کوشش رہی ہے کہ ان دہشت گرد پارٹیزکی سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچائیں، ہمہ جہتی کی کوششوں کو دوطرفہ کوششوں سے با ثمر بنائیں۔
اس ضمن میں ایرانی حکام نے پاکستان سے پاک ایران بارڈر اجلاسوں میں مسائل پر سیر حاصل غوروفکر کیا، پاکستان سے ہزاروں کاروباری اور مسافر لگژری ٹرانسپورٹ بسیں کراچی سے بلوچستان اور ایران کے مختلف سرحدی علاقوں میں مسافر اور سازوسامان لے جاتی ہیں، درمیان میں ایک وسیع کاروباری زون ہے۔
ان روٹس پر مزید داخلی سہولتوں کی ضرورت ہے، کراچی اور لیاری کے کئی افراد اور خاندان ان روٹس پر سفرکرتے ہیں، روزگار کے بہتر ذرایع دستیاب ہوتے ہیں، امن برائے ترقی و روزگار کے مزید امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، بس ضرورت سفر کو مزید محفوظ بنانے کی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی معاشی ترقی کے لیے سرحدی منڈیوں کی جلد تکمیل اور فعالیت پر زور دیا۔ اس فعالیت کو مستحکم بنانے کے لیے دو طرفہ اقدامات میں بارڈر کراسنگ پر حفاظتی اقدامات کو مکمل کاروباری اور ہمہ گیر اقتصادی بنیاد مہیا ہو تو اس علاقے کا نقشہ بدل سکتا ہے۔