عدالت جب کہے گی صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرادینں گے قائم علی شاہ
احتساب کیلیے ہروقت تیار ہیں،185ارب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے اب تک 83 ارب روپے جاری کرچکے ہیں،وزیر اعلیٰ سندھ
کراچی: وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: آن لائن
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے بجٹ میں کوئی خسارہ نہیں ہے اور نہ ہی مالی بحران ہے۔
185 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام ( اے ڈی پی ) میں سے اب تک ہم83 ارب روپے جاری کرچکے ہیں ۔ہم اپنے احتساب کے لیے ہر وقت تیار ہیں ۔ بلدیاتی انتخابات کے التواکے ذمے دار ہم نے بلکہ حلقہ بندیوں کے خلاف سپریم کورٹ کے رجوع کرنے والے ہیں ۔ سپریم کورٹ جب حکم دے گی ، ہم بلدیاتی انتخابات کرادیں گے۔وہ منگل کو سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کی خاتون رکن ہیراسماعیل سوہو کی تحریک التوا پر بیان دے رہے تھے ۔ تحریک التوا میں کہا گیا کہ حکومت سندھ کا مالیاتی خسارہ 66 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ مالی بحران کی وجہ سے ترقیاتی اسکیمیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ میں کوئی خسارہ نہیں ہے ۔
اے ڈی پی کے جاری کردہ 83 میں سے 70 ارب روپے خرچ بھی ہو چکے ہیں ۔ پورے صوبے کی سڑکوں کیلیے60 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ اب تک سندھ کے ہر ضلع میں ایک ارب روپے سے زیادہ ترقیاتی اسکیموں پرخرچ ہوئے ہیں ۔ ہم نے اب تک ایسی131 اسکیمیں مکمل کی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہمارے دور میں ترقیاتی کام نہیں ہوئے ۔ صرف تعلیم کے شعبے میں ہم نے9 نئی یونیورسٹیز قائم کی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے یا غیر ملکی ادارے سندھ کو قرضہ یا امداد دینے کیلیے تیار نہیں ہیں ۔ یوایس ایڈ تعلیم کے شعبے کیلیے155ارب روپے فراہم کررہا ہے جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے آبپاشی کیلیے406 ملین ڈالرز فراہم کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم سے پہلے اے ڈی پی صرف 25ارب روپے تھا ، ہم نے اسے 185 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات ہم نے ملتوی نہیں کرائے ۔
یہ ان لوگوں نے ملتوی کرائے ، جنھوں نے حلقہ بندیوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ سپریم کورٹ ہمیں جب بھی کہے گی ، ہم بلدیاتی انتخابات کرادیںگے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دور میں سندھ میں جو کام ہوئے ، وہ پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ قبل ازیں تحریک التوا پر بحث کرتے ہوئے ہیر اسماعیل سوہو نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کیلیے فنڈزکا اجرا بہت سست ہے۔ 2012-13میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) 140ارب روپے کا تھا لیکن اس پر صرف87ارب روپے خرچ ہوئے۔ رواں مالی سال کے دوران بھی صورت حال بہتر نہیں ہوئی ہے۔ 10ماہ گزر گئے ہیں۔ اس کے باوجود بعض اسکیموں کے لیے فنڈز جاری نہیں ہوئے۔ فنکنشل لیگ کے سعید نظامانی نے کہا کہ ضلع سانگھڑکوکھنڈر بنا دیا گیا ہے۔
وزیر جیل خانہ جات و اینٹی کرپشن منظور حسین وسان نے کہا کہ 2002سے 2007کے دوران پیر صدرالدین شاہ وزیر ورکس اینڈ سروسز تھے، کئی اسکیموں کے لیے پیسے جاری ہوئے لیکن استعمال نہیں ہوئے۔ فنکنشل لیگ کے پارلیمانی لیڈر امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ جب صدر الدین شاہ وزیر تھے سانگھڑ میں سڑکوں کی بہترین حالت تھی ۔اس موقع پر پیپلز پارٹی اور فنکنشل لیگ کے ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر ظفر کمالی نے کہا کہ سندھ میں سڑکوں کی حالت دیگر صوبوں کے مقابلے بہت خراب ہے۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی امور سید سردار احمد نے کہا کہ بجٹ پر نظر ثانی کرنے کا عمل اب تبدیل ہونا چاہیے۔ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ارکان سندھ اسمبلی کو بجٹ کی تفصیلات فوراً فراہم کی جائیں ۔ بعدازاں اسپیکر نے اجلاس جمعے کی صبح تک ملتوی کردیا ۔
185 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام ( اے ڈی پی ) میں سے اب تک ہم83 ارب روپے جاری کرچکے ہیں ۔ہم اپنے احتساب کے لیے ہر وقت تیار ہیں ۔ بلدیاتی انتخابات کے التواکے ذمے دار ہم نے بلکہ حلقہ بندیوں کے خلاف سپریم کورٹ کے رجوع کرنے والے ہیں ۔ سپریم کورٹ جب حکم دے گی ، ہم بلدیاتی انتخابات کرادیں گے۔وہ منگل کو سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کی خاتون رکن ہیراسماعیل سوہو کی تحریک التوا پر بیان دے رہے تھے ۔ تحریک التوا میں کہا گیا کہ حکومت سندھ کا مالیاتی خسارہ 66 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ مالی بحران کی وجہ سے ترقیاتی اسکیمیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ میں کوئی خسارہ نہیں ہے ۔
اے ڈی پی کے جاری کردہ 83 میں سے 70 ارب روپے خرچ بھی ہو چکے ہیں ۔ پورے صوبے کی سڑکوں کیلیے60 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ اب تک سندھ کے ہر ضلع میں ایک ارب روپے سے زیادہ ترقیاتی اسکیموں پرخرچ ہوئے ہیں ۔ ہم نے اب تک ایسی131 اسکیمیں مکمل کی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہمارے دور میں ترقیاتی کام نہیں ہوئے ۔ صرف تعلیم کے شعبے میں ہم نے9 نئی یونیورسٹیز قائم کی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے یا غیر ملکی ادارے سندھ کو قرضہ یا امداد دینے کیلیے تیار نہیں ہیں ۔ یوایس ایڈ تعلیم کے شعبے کیلیے155ارب روپے فراہم کررہا ہے جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے آبپاشی کیلیے406 ملین ڈالرز فراہم کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم سے پہلے اے ڈی پی صرف 25ارب روپے تھا ، ہم نے اسے 185 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات ہم نے ملتوی نہیں کرائے ۔
یہ ان لوگوں نے ملتوی کرائے ، جنھوں نے حلقہ بندیوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ سپریم کورٹ ہمیں جب بھی کہے گی ، ہم بلدیاتی انتخابات کرادیںگے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دور میں سندھ میں جو کام ہوئے ، وہ پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ قبل ازیں تحریک التوا پر بحث کرتے ہوئے ہیر اسماعیل سوہو نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کیلیے فنڈزکا اجرا بہت سست ہے۔ 2012-13میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) 140ارب روپے کا تھا لیکن اس پر صرف87ارب روپے خرچ ہوئے۔ رواں مالی سال کے دوران بھی صورت حال بہتر نہیں ہوئی ہے۔ 10ماہ گزر گئے ہیں۔ اس کے باوجود بعض اسکیموں کے لیے فنڈز جاری نہیں ہوئے۔ فنکنشل لیگ کے سعید نظامانی نے کہا کہ ضلع سانگھڑکوکھنڈر بنا دیا گیا ہے۔
وزیر جیل خانہ جات و اینٹی کرپشن منظور حسین وسان نے کہا کہ 2002سے 2007کے دوران پیر صدرالدین شاہ وزیر ورکس اینڈ سروسز تھے، کئی اسکیموں کے لیے پیسے جاری ہوئے لیکن استعمال نہیں ہوئے۔ فنکنشل لیگ کے پارلیمانی لیڈر امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ جب صدر الدین شاہ وزیر تھے سانگھڑ میں سڑکوں کی بہترین حالت تھی ۔اس موقع پر پیپلز پارٹی اور فنکنشل لیگ کے ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر ظفر کمالی نے کہا کہ سندھ میں سڑکوں کی حالت دیگر صوبوں کے مقابلے بہت خراب ہے۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی امور سید سردار احمد نے کہا کہ بجٹ پر نظر ثانی کرنے کا عمل اب تبدیل ہونا چاہیے۔ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ارکان سندھ اسمبلی کو بجٹ کی تفصیلات فوراً فراہم کی جائیں ۔ بعدازاں اسپیکر نے اجلاس جمعے کی صبح تک ملتوی کردیا ۔