ہائی پروفائل قتل کیسز میں کلاشنکوف کا ہی استعمال کیا گیا
مذکورہ واقعات میں کلاشنکوف کا استعمال حیران کن ہے اور متعدد وارداتوں میں ایک ہی گروپ کے بھی ملوث ہونے کے شبہات ہیں۔
ہائی پروفائل قتل کیسز میں کلاشنکوف کا ہی استعمال کیا گیا۔ فوٹو فائل
شہر میں قتل کی وارداتوں میں کلاشنکوف کا استعمال ممتاز شیخ کیس میں پہلی مرتبہ نہیں ہے۔
اس سے قبل بھی بیشتر ہائی پروفائل قتل کیسز میں کلاشنکوف کا ہی استعمال کیا گیا ہے ، تفصیلات کے مطابق 7 ستمبر کو گذری میں ممبر لیگل سندھ ریونیو بورڈ ممتاز شیخ کے قتل میں ملزمان نے کلاشنکوف کا استعمال کیا۔
اس سے قبل بھی متعدد وارداتوں میں ملزمان کی جانب سے کلاشنکوف کا استعمال دیکھنے میں آیا، 31 جنوری 2012 کو بلوچستان کے رکن اسمبلی بختیار ڈومکی کے اہل خانہ کو گذری میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا جس میں ملزمان نے کلاشنکوف بھی استعمال کی ، 22 جولائی 2008 کو ڈیفنس خیابان شجاعت میں خالد شہنشاہ کے قتل میں بھی ملزمان کلاشنکوف سے مسلح تھے ۔
6 اگست 2009 کو گلستان جوہر میں بلوچستان کے وزیر ایکسائز رستم جمالی کے قتل میں بھی ملزمان نے کلاشنکوف استعمال کی ، 18 مئی 2000 کو فیڈرل بی ایریا کے علاقے میں مولانا یوسف لدھیانوی کو ملزمان نے کلاشنکوف سے فائرنگ کرکے شہید کیا ، 23 جولائی 2008 کو طارق روڈ کے قریب میڈی کیئر چورنگی پر پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما طارق خان کو بھی ملزمان نے کلاشنکوف سے فائرنگ کرکے ہلاک کیا ۔
اس کے علاوہ بھی قتل کے متعدد واقعات میں کلاشنکوف استعمال کی گئی ہے ، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عموماً نائن ایم ایم یا ٹی ٹی پستول قتل کی وارداتوں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن مذکورہ واقعات میں کلاشنکوف کا استعمال حیران کن ہے اور متعدد وارداتوں میں ایک ہی گروپ کے بھی ملوث ہونے کے شبہات ہیں ۔
اس سے قبل بھی بیشتر ہائی پروفائل قتل کیسز میں کلاشنکوف کا ہی استعمال کیا گیا ہے ، تفصیلات کے مطابق 7 ستمبر کو گذری میں ممبر لیگل سندھ ریونیو بورڈ ممتاز شیخ کے قتل میں ملزمان نے کلاشنکوف کا استعمال کیا۔
اس سے قبل بھی متعدد وارداتوں میں ملزمان کی جانب سے کلاشنکوف کا استعمال دیکھنے میں آیا، 31 جنوری 2012 کو بلوچستان کے رکن اسمبلی بختیار ڈومکی کے اہل خانہ کو گذری میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا جس میں ملزمان نے کلاشنکوف بھی استعمال کی ، 22 جولائی 2008 کو ڈیفنس خیابان شجاعت میں خالد شہنشاہ کے قتل میں بھی ملزمان کلاشنکوف سے مسلح تھے ۔
6 اگست 2009 کو گلستان جوہر میں بلوچستان کے وزیر ایکسائز رستم جمالی کے قتل میں بھی ملزمان نے کلاشنکوف استعمال کی ، 18 مئی 2000 کو فیڈرل بی ایریا کے علاقے میں مولانا یوسف لدھیانوی کو ملزمان نے کلاشنکوف سے فائرنگ کرکے شہید کیا ، 23 جولائی 2008 کو طارق روڈ کے قریب میڈی کیئر چورنگی پر پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما طارق خان کو بھی ملزمان نے کلاشنکوف سے فائرنگ کرکے ہلاک کیا ۔
اس کے علاوہ بھی قتل کے متعدد واقعات میں کلاشنکوف استعمال کی گئی ہے ، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عموماً نائن ایم ایم یا ٹی ٹی پستول قتل کی وارداتوں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن مذکورہ واقعات میں کلاشنکوف کا استعمال حیران کن ہے اور متعدد وارداتوں میں ایک ہی گروپ کے بھی ملوث ہونے کے شبہات ہیں ۔