الیکشن ٹریبونل کو وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف کارروائی سے روک دیا گیا
الیکشن کمیشن اورغوث علی شاہ کو 6مارچ کیلیے نوٹس، جواب داخل کرنے کی ہدایت
ہائیکورٹ نے انگوٹھوں کے نشانات سے متعلق فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت ملتوی کردی۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور نواب علی وسان کی درخواست پرالیکشن ٹریبونل کوان کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے۔
درخواست گزاروں کے خلاف سابق وزیراعلیٰ سندھ اور مسلم لیگ کے رہنما سیدغوث علیشاہ نے ٹریبونل میں انتخابی عذرداریاں دائر کی ہوئی ہیں ۔عدالت نے ٹریبونل میں جاری سماعت کے خلاف دائر کردہ درخواست پرالیکشن کمیشن اور سابق وزیراعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ کو6مارچ کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ چیف جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے عام انتخابات میں پی ایس 29سے کامیاب ہونے والے سید قائم علی شاہ اوراین اے 245سے کامیاب امیدوار نواب وسان کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مخالف امیدوارسید غوث علی شاہ نے الیکشن ٹریبونل میں درخواست گزاروں کی کامیابی کے خلاف درخواست دائر کررکھی ہے جوکہ ناقابل سماعت ہے،مخالف امیدوار نے ٹریبونل کو مطلوبہ شواہد اور معلومات فراہم نہیں کیں ،اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی اورعوامی نمائندگی ایکٹ1976کی دفعہ63کے تحت درخواست قابل سماعت نہیں۔
اس حوالے سے الیکشن ٹریبونل میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی مگر ٹریبونل نے اس سماعت کے خلاف درخواست6دسمبر2013کو مستردکردی تھی۔ٹریبونل کی سماعت کوغیرقانونی قراردیا جائے۔عدالت نے ٹریبونل کی کارروائی کے خلاف آئندہ سماعت تک حکم امتناع جاری کردیا ہے۔علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں3 رکنی فل بینچ نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 29-کے ووٹوں کی انگوٹھوں کے نشان سے تصدیق کے الیکشن ٹریبونل کے حکم کے خلاف وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور نواب وسان کی درخواست مسترد کیے جانے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست کی سماعت ملتوی کردی ہے۔ منگل کوفل بینچ نے ہدایت کی ہے کہ اس حوالے سے باقاعدہ نظرثانی کی درخواست دائرکی جائے۔ فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائردرخواست میں کہاگیا تھا کہ الیکشن ٹریبونل کی جانب سے مذکورہ حلقوں کے ووٹوں کی نادرا سے تصدیق کرانے کے فیصلے پر عملدرآمد روکا جائے۔ پرامن اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا، کوئی شکایت سامنے نہیں آئی اس لیے ووٹوں کی نادرا سے تصدیق کا کوئی جوازنہیں۔
درخواست گزاروں کے خلاف سابق وزیراعلیٰ سندھ اور مسلم لیگ کے رہنما سیدغوث علیشاہ نے ٹریبونل میں انتخابی عذرداریاں دائر کی ہوئی ہیں ۔عدالت نے ٹریبونل میں جاری سماعت کے خلاف دائر کردہ درخواست پرالیکشن کمیشن اور سابق وزیراعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ کو6مارچ کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ چیف جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے عام انتخابات میں پی ایس 29سے کامیاب ہونے والے سید قائم علی شاہ اوراین اے 245سے کامیاب امیدوار نواب وسان کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مخالف امیدوارسید غوث علی شاہ نے الیکشن ٹریبونل میں درخواست گزاروں کی کامیابی کے خلاف درخواست دائر کررکھی ہے جوکہ ناقابل سماعت ہے،مخالف امیدوار نے ٹریبونل کو مطلوبہ شواہد اور معلومات فراہم نہیں کیں ،اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی اورعوامی نمائندگی ایکٹ1976کی دفعہ63کے تحت درخواست قابل سماعت نہیں۔
اس حوالے سے الیکشن ٹریبونل میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی مگر ٹریبونل نے اس سماعت کے خلاف درخواست6دسمبر2013کو مستردکردی تھی۔ٹریبونل کی سماعت کوغیرقانونی قراردیا جائے۔عدالت نے ٹریبونل کی کارروائی کے خلاف آئندہ سماعت تک حکم امتناع جاری کردیا ہے۔علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں3 رکنی فل بینچ نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 29-کے ووٹوں کی انگوٹھوں کے نشان سے تصدیق کے الیکشن ٹریبونل کے حکم کے خلاف وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور نواب وسان کی درخواست مسترد کیے جانے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست کی سماعت ملتوی کردی ہے۔ منگل کوفل بینچ نے ہدایت کی ہے کہ اس حوالے سے باقاعدہ نظرثانی کی درخواست دائرکی جائے۔ فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائردرخواست میں کہاگیا تھا کہ الیکشن ٹریبونل کی جانب سے مذکورہ حلقوں کے ووٹوں کی نادرا سے تصدیق کرانے کے فیصلے پر عملدرآمد روکا جائے۔ پرامن اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا، کوئی شکایت سامنے نہیں آئی اس لیے ووٹوں کی نادرا سے تصدیق کا کوئی جوازنہیں۔