گیس کی کمی کے سبب سی این جی سیکٹر کو بند کیا حماد اظہر

حکومت سی این جی سیکٹر کے مسائل سے آگاہ اور مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہے، وفاقی وزیر

حماد اظہر فائل فوٹو

CHAMAN:
وفاقی وزیر پٹرولیم حماد اظہر نے کہا ہے کہ حکومت کو سی این جی سیکٹر کی اہمیت کا احساس ہے، ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے اس شعبے کو ملک میں گیس کی کمی کے سبب بند کیا گیا جسے جلد کھول دیا جائے گا۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر غیاث عبداللہ پراچہ کی سربراہی میں آنے والے ایک وفد سے بات چیت کے دوران کہی۔ اس موقع پر سیکریٹری پٹرولیم علی رضا، ڈی جی گیس عبدالرشید جوکھیو، ایڈیشنل سیکرٹری ہارون رفیق، ڈی جی اسٹاف فریدون شیخ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت سی این جی سیکٹر کے مسائل سے آگاہ ہے اور اس کے مسائل جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


اس موقع پرغیاث پراچہ نے کہا کہ سی این جی اسٹیشنز کی بندش سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا جبکہ لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہوا، اگر سی این جی سیکٹر کو گیس درآمد کرنے کی اجازت دی جاتی تو نہ حکومت کو نقصان نہ پہنچتا اور سی این جی مالکان بھی بھاری نقصانات سے بچ جاتے جبکہ عوام کو سستا اور ماحول دوست ایندھن میسر رہتا۔

انھوں نے کہا کہ سی این جی سیکٹر کی بندش اور شہروں میں پیٹرول کا استعمال بڑھنے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا اور اسموگ کا مسئلہ بن گیا، سی این جی کی بندش سے حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں بھی بھاری نقصان پہنچا اور اس شعبہ میں سرکایہ کاری کی خواہشمند کمپنیوں کا اعتماد متاثر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اگر سی این جی سیکٹر کو صرف پچاس ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جائے تو آئل امپورٹ بل میں چوراسی ارب روپے سالانہ کی کمی آئے گی، سی این جی سیکٹر گزشتہ تین ماہ سے بند ہے جبکہ دیگر شعبوں کو گیس فراہم کی جا رہی ہے، ہم بھی پاکستان کے شہری ہیں، ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔
Load Next Story