بل گیٹس کا دورہ بلوچستان اور پولیو مہم

وزیراعظم عمران خان کی دعوت پربل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک بانی بل گیٹس نے اپنے وفدکے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا

وزیراعظم عمران خان کی دعوت پربل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک بانی بل گیٹس نے اپنے وفدکے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا۔ فوٹو: ٹوئٹر

وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر جمعرات کو بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک بانی بل گیٹس نے اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا۔ اپنے دورہ کے دوران انھوں نے پاکستان میں انسداد پولیو کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا اور موذی مرض کے خاتمے کے لیے کوششوں میں اپنی جانیں قربان کرنے والے فرنٹ لائن ورکرزکو خراج عقیدت پیش کیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان صدر میں ایک پروقار تقریب کے دوران انھیں ہلال پاکستان کے ایوارڈ سے نوازا۔ بل گیٹس نے صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

وزیر اعظم سے ہونے والی ون آن ون ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان کی حکومت ملک سے پولیو کے مکمل خاتمہ کے لیے پرعزم ہے۔ افغانستان ہمارے دو سرحدی صوبوں میں پولیو کے واقعات کا بنیادی ذریعہ ہے۔ وہاں صحت کی ہنگامی سہولیات سمیت انسانی بحران سے بچنے کے لیے فوری بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے جب کہ پاکستان 40 ملین افغان عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں بھرپور مدد کر رہا ہے۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق افغانستان میں صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف چار اسپتالوں میں بنیادی انسانی سہولتیں میسر ہیں جب کہ انسانی المیے کی اطلاعات کے باعث افغان عوام کو خوراک، حفظان صحت، پولیو اور دیگر امراض سے بچاؤ کے لیے مزید سہولتوں کی اشد ضرورت ہے، سردی کے باعث جوتوں، کمبلوں، ادویات اور گرم ملبوسات کی فوری فراہمی بھی بے حد ضروری ہے۔

بل گیٹس نے پاکستان کے دورے پر مدعو کرنے اورگرم جوشی سے مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ بل گیٹس نے کہا کہ کوڈ 19کی پابندیوں کے باوجود پاکستان نے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیو قطرے پلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

بل گیٹس نے جمعرات کو قومی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔ انھوں نے ملک بھر میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے دوران جان کی بازی ہارنے والے 36 فرنٹ لائن ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے 14 اہلکاروں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں پولیو کے زیرو واقعات کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے تاہم خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان کے جنوبی اضلاع میں ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کا پتہ چلا ہے۔ اس ماحولیاتی وائرس کی فوری تحقیق ضروری ہے، کیونکہ زمینی فاصلوں کے باعث ضروری طبی امداد کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔اس لیے یہ تحقیقی کام بہت جلد مکمل ہونا چاہیے۔

ٹاسک فورس کو بتایا گیا کہ قومی سطح پر پولیو کے قطرے پلانے کی مہم دسمبر 2021 اور جنوری 2022میں شروع کی گئی ہے جس میں بچوں کے لیے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ خطرے والے علاقوں میں سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر ہم آہنگی موجود ہے۔

صحت ورکرز کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں صحت منصوبوں میں ہم آہنگی کے کاموں میں وہ، تاخیر اور تساہل کے باعث یا افسر شاہی کے لیت و لعل کی وجہ سے ہفتے کا کام مہینوں اور سالوں میں مکمل ہوتا ہے، بیورو کریسی کی فعالیت کے لیے مانیٹرنگ ضروری ہے۔

وزیر اعظم نے بل گیٹس کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا جس میں وفاقی وزراء شوکت ترین، اسد عمر، فواد احمد، خسرو بختیار، ڈاکٹر فیصل سلطان، گورنر خیبر پختونخوا، وزراء اعلیٰ پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم نے شرکت کی۔

بل گیٹس نے جمعے کو این سی او سی کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر انھوں نے چیئرمین این سی او سی اسد عمر اور ڈاکٹر فیصل سلطان سے ملاقات کی۔ بل گیٹس نے اپنے وفد کے ساتھ این سی او سی کے صبح میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی۔


بل گیٹس اور ان کے وفد کو این سی او سی کے کردار اور طریقہ کار، وبائی امراض کے آغاز سے اب تک کی کامیابیوں سے آگاہ کیا گیا۔ وفد کو پاکستان بھر میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال اور این سی او سی کی جانب سے بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پانے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔وفد کو جینوم سیکوینسنگ کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

بل گیٹس نے این سی او سی کے مختلف اقدامات بالخصوص اسمارٹ لاک ڈاؤن اور مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے نفاذ میں گہری دلچسپی لی۔ انھوں نے آپریشنز روم اور ہیلپ لائن 1166 کا دورہ بھی کیا۔ بل گیٹس نے پولیو پروگرام کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے بیماری کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر زور دیا۔

مہمانوں کو بتایا گیا کہ کوئٹہ سمیت کئی اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا یہ آخری دن تھا، ضلع عبداللہ، ضلع سیف اللہ اور پشین میں انسداد پولیو مہم کے حوالہ سے قومی پولیو مہم ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں پولیو افراد کے حوالہ سے ساتواں اور آخری روز تھا، ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ بلوچستان کے دس اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا 91 فیصد ہدف حاصل کرلیا گیا ہے۔

اس دورہ کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ میری دعوت پر پاکستان آنے والے بل گیٹس کا خیر مقدم میرے لیے باعثِ مسرت تھا۔ بہت سے دیگر کارناموں کے علاوہ انسانی بہبود کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر بل گیٹس کی دنیا بھر میں پذیرائی کی جاتی ہے۔

وزیر اعظم نے پولیو کے انسداد اور غربت میں تخفیف کے منصوبوں میں غیر معمولی تعاون پر قوم کی جانب سے بل گیٹس کا شکریہ ادا کیا۔

بل گیٹس سے ملاقات کے دوران صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی طرف سے پولیو کے خاتمے کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت کو سرا ہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں پورے ایک سال سے پولیو وائرس کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے اور صورتحال امید افزا نظر آتی ہے تاہم ہم اس حوالے سے اقدامات جاری رکھیں گے۔ تاہم کامیابی کے اس ٹمپو کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ طے شدہ ہدف تک پہنچنے کے لیے ہمیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔

بل گیٹس فاؤنڈیشن کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے بلوچستان کے مسیحاؤں نے کہا کہ بلوچستان کی دور افتادہ آبادیوں میں سروے کی ضرورت ہے، صوبہ میں ایسے سیکڑوں علاقے ہیں جن کی مردم شماری نہیں ہوئی ہے، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعداد بہت کم ہے، ان علاقوں میں رسائی ممکن نہیں، بعض اوقات کمسن بچوں، خواتین اور بوڑھے افراد کو صحت کی سہولتیں نہ ہونے سے بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، راستے دشوار ہیں، ٹرانسپورٹ کی سہولیات ناپید جب کہ وبائی امراض پھوٹ پڑنے کے بعد ان علاقوں میں ڈاکٹروں کا پہنچنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے، انھیں بچوں اور حاملہ خواتین کو اسپتالوں تک رسائی کے لیے ایمبولینس کی فراہمی ناگزیر ہے۔

پولیو کے ورکرز نے پولیو مہم کے دوران ورکرز کی سیکیورٹی کے لیے ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ارباب اختیار پولیو مہم میں جانیں نثارکرنے والے ورکرز کے لیے بھی کیش ایوارڈ اور حوصلہ افزائی کے لیے ضروری اقدامات کریں، کیونکہ بلوچستان کے دشوار گزار علاقوں میں کام کرنا سخت آزمائش ہے۔ رقبہ بہت پھیلاؤ پر محیط ہے اور سرکاری ٹرانسپورٹ کی فراہمی سے پولیو مہم یا دیگر ہنگامی صورتحال میں ضرورت مند افراد کو بڑی مدد مل سکتی ہے۔

دور افتادہ علاقوں میں کام کرنے والے مسیحاؤں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو صحت، خوراک اور ٹرانسپورٹ کی بنیادی سہولتیں ملے بغیر صوبہ میں سماجی ترقی محض ایک خواب ہوگی، جب کہ عوام کی خوشحالی کے منصوبوں میں عملی شمولیت ممکن بنائی جائے تو غریب عوام کے مصائب کم ہوجائیں گے۔

بلوچستان میں غربت کے خاتمے کے لیے غیر روایتی اسپرٹ اور جذبہ کی ضرورت ہے، بلوچستان میں افرادی طاقت کو برسر روزگار کرنے سے سیکڑوں بے روزگار نوجوان جرائم، منشیات اور بیکار کے مشغلوں سے نجات پا سکتے ہیں، کمسن لڑکوں میں منشیات کی علت پھیلانے والے سماج دشمن عناصر پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

فٹبال کلبوں کے منتظمین نے بتایا کہ ارباب اختیار گوادر اسپورٹس اسٹیڈیم میں فٹبال کھیل کی ترقی و ترویج کے لیے ٹورنامنٹس منعقد کرنے پر توجہ دے گوادر میں بہترین فٹ بالرز پیدا کیے جاسکتے ہیں، اسی طرح باکسرز اورکرکٹرز کی بہترین ٹیم بنائی جا سکتی ہے، فٹ بال کے لیے فیڈریشن فنڈز مہیا کرسکتی ہے۔
Load Next Story