دہشت گردی اور چیلنجز کا حصار

پاکستان کو ایک ایسی دنیا کا چیلنج درپیش ہے جو عجیب و غریب چیلنجز سے دوچار ہے

پاکستان کو ایک ایسی دنیا کا چیلنج درپیش ہے جو عجیب و غریب چیلنجز سے دوچار ہے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
پاکستان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات پر ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی، دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، پاکستان دنیا کے دیگر ممالک کی طرح دہشت گردی کا شکار رہا ہے، پاکستان نے بڑی بہادری سے اس جنگ کا مقابلہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ سرحد پار سے بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، پاکستان افغان عبوری حکومت کے ساتھ اس بارے میں رابطے میں ہے، ایرانی وزیرِ داخلہ نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا، ترجمان نے کہا کہ ایران کے ساتھ بھی یہ معاملہ اٹھایا ہے، بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف بھی پاکستان نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، بھارت سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے منفی پروپیگنڈہ کر رہا ہے، پاکستان ایک ذمے دار ملک ہے، ہم ایف اے ٹی ایف پر میڈیا میں تبصرے سے گریز کرتے ہیں، پاکستان اہم ملک ہے اور ہم اپنے مفادات کا تحفظ جانتے ہیں،ایف اے ٹی ایف کے تمام اہداف پورے کریںگے، امید ہے ایف اے ٹی ایف اصولوں کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری وزارت کی کارکردگی ہمیشہ سے ٹاپ پر رہی ہے، بھارت میں سمجھوتہ ایکسپریس پر جو عدالتی ٹرائل ہوا وہ غیر مطمئن ہے، سانحے میں ملوث کرداروں کو باعزت بری کر دیا گیا جو قابل مذمت ہے، بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردانہ حملے کے مرتکب اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، متاثرین کو انصاف کی عدم فراہمی اور بھارتی حکومت کی بے حسی پر پاکستان نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، سمجھوتہ ایکسپریس پر دہشتگردی کے واقعہ میں 44 پاکستانی شہریوں سمیت 68 بے گناہ مسافروں کی جانیں گئیں۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے رکھی گئی شرائط پر مکمل عملدرآمد کرلیا ہے اور غیر قانونی مالی معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے کے ارکان کی جانب سے سیاسی سوچ بچار ہی پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا ہم نے ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں تمام تکنیکی تقاضوں پر مکمل عمل درآمد کیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ نتیجہ مثبت سمت میں نکلے گا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پاکستان ایک ذمے دار ملک کے طور پر ایف اے ٹی ایف کے طریقہ کار پر عوامی سطح پر تبصرہ نہیں کرتا انھوں نے خبردار کیا کہ کچھ ممالک کی جانب سے سیاست کرنے کے معاملات ہیں جو بدستور ایک مسئلہ ہے۔ پاکستان جون 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے ابتدائی ایکشن پلان میں 27 نکات شامل تھے، جن میں سے پاکستان نے 26 نکات پر عمل کیا تھا۔ تاہم جون میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک اضافی ایکشن پلان دیا تھا ۔ ایف اے ٹی ایف یکم فروری کو ایشیا پیسیفک گروپ آن منی لانڈرنگ کی طرف سے پیش کردہ تازہ ترین رپورٹ کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کرے گا۔

دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں خاص طور پر بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں سے متعلق سوال کے جواب میں عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ حکومت سرحد پار سے دہشت گردی اور اس کے اسپانسر خاص کر بھارت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات پر پاکستان طالبان حکومت کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین دھماکے کی 15 ویں برسی کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے متاثرین کے لیے انصاف کے مطالبے کو دہرایا اور بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی سے باز رہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین دھماکے میں 44 پاکستانی شہریوں سمیت 68 مسافر مارے گئے تھے۔ بھارتی عدالتوں نے ایک قابل اعتراض اور متنازع عمل کے بعد سوامی اسیمانند سمیت دیگر ملزمان کو سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین دھماکے کے الزام سے بری کر دیا تھا جنھوں نے عوامی سطح پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا اعتراف کیا تھا۔


در حقیقت پاکستان دہشت گردی کے عالمی مسئلہ سے نمٹ رہا ہے، عالمی ماہرین جانتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد سے دنیا غیر محفوظ ہوئی ہے، امریکا نے افغانستان کی جنگ کا ملبہ جن مفروضوں پر گرایا ہے اس کا ہدف زیادہ تر پاکستان بنا، اسے افغان جنگ میں فرنٹ لائن ریاست بنایا گیا حالانکہ افغانستان کی سلامتی کے خلاف پاکستان کا کوئی عسکری کردار نہیں تھا، جہادی تنظیموں نے امریکا اور افغانستان کے درمیان ایک جنگ چھیڑی جس کے جواز پر امریکی مدبرین، عسکری اسٹیبلشمنٹ اور جنگی ماہرین سمیت امریکی حکمراں بھی مختلف النوع انداز نظر پیش کرتے رہے ہیں۔

صدر جو بائیڈن سمیت دیگر امریکی تھنک ٹینکس نے افغان جنگ میں امریکی کردار، اس کی شمولیت، مالیاتی معاملات اور ہلاکتوں پر جو رپورٹیں دی ہیں ان میں افغان امریکی جنگ کو ایک غلط تجربہ سے تعبیر کیا گیا، امریکی جنرلز نے اسے مضرت رساں قرار دیا، اگر صدر جو بائیڈن کے تھیسس اور نقطہ نظر کی تحلیل نفسی کی جائے تو اکثر ماہرین ایک ایسی جنگ کے نتیجہ پر پہنچتے ہیں جو امریکا کے عسکری اسٹرٹیجکل مفادات اور عالمی امن کے حوالے سے انسانیت کے لیے ہولناک کہی جاسکتی ہے، افغانستان نے امریکا سے جنگ میں نقصانات کا سامنا کیا، تاہم جنگ افغانستان سے پاکستانی عوام، پاک فوج، پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالر کے نقصانات ہوئے، امن کے مقاصد کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا ہوا۔

دنیا جہادی قوتوں، مسلح دہشت گردانہ تنظیموں، انسانی ہلاکتوں اور ہولناک کارروائیوں کے حوالہ سے امن کے مشترکہ مفادات کو زبردست دھچکے لگے، خطے کے وسائل تباہ و برباد ہوئے، افغانستان پر نائن الیون کے بعد جو مصائب ٹوٹ پڑے ان کا ملبہ پاکستان پر گرا، پہلی بار خطے میں غیر ملکی جہادی مسلح تنظیموں کا غلبہ بڑھا، امن عالم کو انسانیت کے بچائو کے لیے کثیر ملکی اقدامات کرنا پڑے، امن کے لیے بھی پاکستان ہی کو زیادہ انسانی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دہشتگردی کے پیر تسمہ پا نے پاکستان کی سالمیت کا گھیراؤ کرلیا، داخلی طور پر پاکستان میں دہشتگردی بڑھی، معاشی اور اقتصادی معاملات تلپٹ ہوئے، جمہوریت کو شدید دبائو کا سامنا ہوا اور آج بھی پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہے، خطے میں افغانستان کی صورتحال سے نئے چیلنجز در پیش ہیں، افغانستان کو ابھی تک سنبھلنے کا موقع نہیں ملا، لاکھوں افغان بچے، خواتین کو غیر انسانی صورت حال کا سامنا ہے، افغان کرنسی کو بحران کا سامنا ہے، امریکا نے اس کے اثاثوں کی افغانوں میں تقسیم شروع کردی ہے۔

دوسی طرف اقتصادی اور معاشی مسائل پاکستان کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں، فیٹف کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومت ہر وہ جمہوری۔ سیاسی اور انتظامی مساعی جمیلہ سے کام لے رہی ہے کہ دہشتگردی کا حصار ٹوٹے اور لیکن بھارت کی پاکستان کو مشکلات اور سازشوں سے مستقل الجھائے رکھنے میں ریشہ دوانیاں ختم نہیں ہوتیں، پاکستان کے داخلی امن کو بھارت کی طرف سے خطرات لاحق ہیں، علاوہ ازیں جمہوری حکومت کو عالمی، مقامی اور علاقائی سطح پر بے پناہ مسائل کا سامنا ہے۔

معیشت کے مسائل، سیاسی، اقتصادی چیلنجز اور کورونا وائرس کے معاملات نے پاکستان کی توانائیوں کو منقسم کرتے ہوئے عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، امن پاکستان کے لیے بنیادی مسئلہ بنا ہوا ہے، جسے دشمن قوتیں اور حریف سیاسی ملک پوائنٹ اسکورنگ کے لیے مسلسل استعمال ہیں، بھارت کی مخاصمت روز اول سے جاری ہے، لیکن پاکستان اپنی سلامتی، وقار و خود مختاری سے کبھی غافل نہیں رہ سکتا، بھارت کو ہر وقت جواب دینے کی نہ صرف ضرورت ہے بلکہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کے جمہوری حقوق اور جمہوری ثمرات کی عوام تک رسائی کے لیے بھی جمہوری حکومت کو ہر ممکن سپورٹ مہیا کرنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے ۔

لمحہ موجود میں پاکستان کو ضرورت ہمہ جہت اتحاد، یکجہتی، جمہوریت سے کمٹمنٹ اور عوام کو ریلیف مہیا کرنے کی ہے، پاکستان کو سیاسی حالات کے رحم و کرم پر نہیں رہنا بلکہ جمہوری نظام کی استقامت کے لیے استحکام اور معاشی ترقی اور خوشحالی کی ضرورت ہے، حکمرانوں کو بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دور اندیشی، تدبر اور جمہوری بصیرت سے کام لینا ہے، سنگین مسائل کے ہوش مندانہ حل کے لیے رہنمائوں کو کلیدی کردار کی ادائیگی جب کہ اہم بریک تھرو کے لیے سیاسی جمود اور تشدد کی سیاسی فضا میں جمہوری اسپرٹ کا مظاہرہ کرنا گزیر ہے، ساتھ ہی اسے دشمنوں اور عالمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو ایک ایسی دنیا کا چیلنج درپیش ہے جو عجیب و غریب چیلنجز سے دوچار ہے۔ دنیا حقیقت میں دلیل و بے دلیلی کے تذبذب میں گرفتار ہے۔ اس حقیقت کا ادراک ناگزیر ہے۔
Load Next Story