کورونا وباء… پابندیوں میں نرمی
گزشتہ روز این سی او سی نے 10 فیصد سے کم کورونا والے شہروں میں پابندیوں میں نرمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے
گزشتہ روز این سی او سی نے 10 فیصد سے کم کورونا والے شہروں میں پابندیوں میں نرمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان میں کورونا وباء کی روک تھام کے لیے حکومت نے جو پابندیاں عائد کررکھی تھیں، اب ان میں بتدریج نرمی لائی جارہی ہے۔گزشتہ روز این سی او سی نے 10 فیصد سے کم کورونا والے شہروں میں پابندیوں میں نرمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
کراچی، حیدر آباد، پشاور سے پابندیاں اٹھا دی گئی ہیں جب کہ گلگت ،مردان ،مظفرآباد میں پابندیاں برقرار رہیں گی۔پیر کو این سی او سی کے جائزہ اجلاس میں پاکستان بھر میں کورونا وبا کا تناسب دیکھا گیا، اس کے بعد پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
این سی او سی کے اعلامیہ کے مطابق ان ڈور اجتماعات میں شرکاء کی تعداد 300 سے بڑھا کر 500 تک کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جب کہ آوٹ ڈور تقریبات اور اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت ہوگی۔
پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے مسافروں کی گنجائش 70 سے بڑھا کر 80 فیصد کرنے کی اجازت دی گئی ہے، ٹرین میں سفر کرنے والے مسافروںکی گنجائش 100 فیصد کر دیگئی تاہم دوران سفر بیوریج کی تقسیم پر 28 فروری تک پابندی رہے گی۔تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کے تحت مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
این سی او سی نے جو فیصلے کیے ہیں ' اس سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ کورونا وبا کی شدت میں کمی آ رہی ہے اور حکومتی اقدامات موثر ثابت ہوئے ہیں۔ این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں پیر کو کورونا وائرس کے باعث مزید 31 ہلاکتیں ہوئی ہیں جب کہ ایک ہزار360 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کورونا سے اب تک 15لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 14 لاکھ سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ کورونا وبا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 30 ہزار سے کچھ زائد ہے۔
جب سے کورونا وبا کا آغاز ہوا ہے، پوری دنیا خوف اور معاشی بحران کی زد میں آگئی۔ اب اس وباء کا زور ٹوٹ رہا ہے تاہم کورونا نے ابھی تک دنیا کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے، یہ وائرس خاصا سخت جان ہے اور ماحول کے مطابق بڑی تیزی سے شکلیں تبدیل کرتا ہے۔ اسی وجہ سے کورونا کے کئی ویرینٹ سامنے آئے ہیں۔
اسی وجہ سے اس وباء پر قابو پانے میں مشکلات سامنے آئیں تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ اس وباء پر بہت جلد قابو پا لیا جائے گا۔ پاکستان میں حکومت کورونا وباء پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہی ہے' حکومت کی کوشش ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے کورونا وباء کو بھی کنٹرول میں رکھا جائے اور کاروباری سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ لیکن اس کے باوجود کورونا وباء نے پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا۔
اس وجہ سے بیروز گاری ' مہنگائی ' غربت اور اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوا۔ اب این سی او سی کے فیصلوں سے لگتا ہے کہ کورونا وباء کا دباؤ کم ہو رہا ہے' کورونا وباء کی جزوی واپسی پاکستان کے عوام اور معیشت دونوں کے لیے اچھی خبر ہے۔ کورونا کی وجہ سے پاکستان کی معاشی صورتحال خاصی ابتری کا شکار ہے۔درمیانے طبقے کی اقتصادی اور معاشی صورتحال اعصاب شکنی کی انتہائی سطح سے بھی نیچے آ چکی ہے۔
بیروزگاری، غربت، ماہانہ آمدنی میں جمود اور مہنگائی نے کاروباری سرگرمیوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ عوام کی صحت زندگی کے عمومی تقاضے بھی پورے کرنے کے قابل نہیں، بھوک کے مسائل نے ملک کے شہری علاقوں میںاندوہ ناک اثرات ظاہر کر دیے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا اس بات پر مکمل اتفاق رائے ہے کہ حکومتوں کا معاشی حقائق کی روزمرہ صداقتوں کی بنیاد پر ایک مربوط، مستقل اور استحکام کی سمت سازی کی نشاندہی کرنے کا ادارہ جاتی نظام ہوتا ہے جو ریاستی اور حکومتی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا ہے، حکومت کا اس ادارہ جاتی سسٹم پر مکمل انحصار ہوتا ہے۔
ان کے ماہرین تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں پر رپورٹیں تیار کرتے ہیں ، معیشت کی رفتار پر ان کی نگاہ ہوتی ہے ، یہی ادارہ ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور اسمگلنگ و دیگر مالیاتی مجرمانہ گٹھ جوڑ سے حکومت کو خبردار کرتا ہے اور ملکی معیشت اسی ادارہ جاتی انتظامات کی روشنی میں معاشی معاملات میں باضابطگی پیدا کرنے کے عوام کو معاشی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہوتا ہے۔
مگر معاشی اور اقتصادی استحکام کے ملکی اور قومی تناظر میں یہ شفافیت، فعالیت ہمارے ادارہ جاتی سسٹم میں کم نظر آتی' اسی وجہ سے اقتصادی اور معاشی ترقی کے خواب شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں نہ ایک مستحکم معیشت تشکیل پاتی ہے اور نہ عوام کے معیار زندگی میں کوئی بامعنی اور بنیادی تبدیلی رونما ہوتی ہے، عوام ایک جمود، معاشی پسماندگی، بے سمتی، بیروزگاری، غربت اور مہنگائی کا شکار ہیں۔
معاشی اور اقتصادی استحکام، ملازمت اور معیار زندگی میں غیر معمولی بہتری نظر نہیں آتی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اقتصادی سسٹم میں تسلسل، اعتباریت، استقامت، تنوع ، پیداواریت اور ساکھ کیوں جنم نہیں لیتی، عوام بے روزگارکیوں ہیں، مہنگائی کا زور کیوں نہیںٹوٹتا ، غربت ختم کیوں نہیں ہوتی، ایک مستحکم معیشت کی نوید ہمارے حکام ہمیں کیوں نہیں سناتے اور اگر سناتے بھی ہیں تو ان پر قوم کو یقین کیوں نہیں آتا۔
افریقہ سے خبریں آتی ہیں کہ وہاں عوام نے اپنے معاشی حالات میں بہتری کے خود اتنے اچھے اقدامات اور منصوبہ بندی کی ہے کہ حکومتی ادارے ان کی امداد کے لیے ان سے رابطے کرتے ہیں، تعلیم، صحت، فنون لطیفہ، سائنسی ادارے، کاسمیٹکس، آرائش گیسو، مشروبات و ملبوسات، کھلونوں اور سیکڑوں صنعتوں سے وابستگی کے لیے رہنما ادارے موجود ہیں، غربت وہاں بھی ہے لیکن معاشرے میں وسعت، تنوع، تکثیریت اور علم و عمل کے بے شمار وسائل میسر ہیں،بے کاری سے بچانے کے لیے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے علاوہ بھی بالغان کی کلاسیں ہوتی ہیں وہاں پڑھائی کے بعد ملازمت کے مواقع بھی موجود ہیں۔
اب کورونا وباء بتدریج اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے ' ملک میں کاروباری سرگرمیاں بھی خاصی حد تک شروع ہو چکی ہیں۔ جیسے جیسے حالات بہتر ہوتے جائیں گے کاروباری سرگرمیاں مزید زور پکڑتی جائیں گی جس سے یقینی طور پر بیروز گاری اور غربت میں کمی آئے گی۔
سرکاری اور نجی شعبے میں وسعت ہو گی ' جس کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ تصویر انتہائی خوش کن ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ارباب اختیار کورونا وباء میں کمی سے پیدا ہونے والے مواقع سے کتنا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کر کے ملکی معیشت کو بہتر کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اب ہمارے پالیسی سازوں کی قابلیت اور معاملہ فہمی کا امتحان ہے کہ وہ قرضوں میں جکڑی ہوئی معیشت کو کیسے آزاد کراتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان غیرملکی قرضوں سے چھٹکارا نہیں حاصل کر سکتا۔ پاکستان کے پاس پوٹینشل موجود ہے۔ ضرورت صرف میرٹ اور شفافیت کا اعلیٰ معیار قائم کرنا اوربیوروکریسی کے سرخ فیتے کا خاتمہ ہے۔
پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں لیکن بیوروکریسی کے بے جا اختیارات نے سرمایہ کاری کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ حکومت کو اس حوالے سے اپنی پالیسیوں اور قوانین کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ سرمایہ کار اگر کوئی صنعت لگانا چاہتا ہے یا کوئی کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ون ونڈو آپریشن کی سہولت مہیا ہونی چاہیے۔ درجنوں قسم کے محکموں سے این او سی لینے کے گورکھ دھندوں سے پاک میکنزم ہی سرمایہ کاری کا ضامن ہے۔
دوسری طرف پاکستان کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ گو حالیہ برسوں میں دہشت گردی میں کمی آئی ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوئی جب کہ مذہبی انتہا پسندی کا کلچر تاحال غالب ہے۔
انھی وجوہات کی بناء پر پاکستان ابھی تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود ہے۔ گزشتہ روز ایف اے ٹی ایف شرائط پوری ہونے کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے خدشات اوراپوزیشن کے متوقع حکومت مخالف مارچ کی وجہ سے سیاسی افق پر غیریقینی کیفیت کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کے اثرات غالب رہے ہیں۔پاکستان کو اس صورت حال سے ہر صورت میں باہر آنا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آ کر پوری دنیا کے ساتھ چلنا ہی ملکی معیشت کو بہتری کی طرف گامزن کر سکتا ہے۔
کراچی، حیدر آباد، پشاور سے پابندیاں اٹھا دی گئی ہیں جب کہ گلگت ،مردان ،مظفرآباد میں پابندیاں برقرار رہیں گی۔پیر کو این سی او سی کے جائزہ اجلاس میں پاکستان بھر میں کورونا وبا کا تناسب دیکھا گیا، اس کے بعد پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
این سی او سی کے اعلامیہ کے مطابق ان ڈور اجتماعات میں شرکاء کی تعداد 300 سے بڑھا کر 500 تک کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جب کہ آوٹ ڈور تقریبات اور اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت ہوگی۔
پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے مسافروں کی گنجائش 70 سے بڑھا کر 80 فیصد کرنے کی اجازت دی گئی ہے، ٹرین میں سفر کرنے والے مسافروںکی گنجائش 100 فیصد کر دیگئی تاہم دوران سفر بیوریج کی تقسیم پر 28 فروری تک پابندی رہے گی۔تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کے تحت مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
این سی او سی نے جو فیصلے کیے ہیں ' اس سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ کورونا وبا کی شدت میں کمی آ رہی ہے اور حکومتی اقدامات موثر ثابت ہوئے ہیں۔ این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں پیر کو کورونا وائرس کے باعث مزید 31 ہلاکتیں ہوئی ہیں جب کہ ایک ہزار360 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کورونا سے اب تک 15لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 14 لاکھ سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ کورونا وبا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 30 ہزار سے کچھ زائد ہے۔
جب سے کورونا وبا کا آغاز ہوا ہے، پوری دنیا خوف اور معاشی بحران کی زد میں آگئی۔ اب اس وباء کا زور ٹوٹ رہا ہے تاہم کورونا نے ابھی تک دنیا کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے، یہ وائرس خاصا سخت جان ہے اور ماحول کے مطابق بڑی تیزی سے شکلیں تبدیل کرتا ہے۔ اسی وجہ سے کورونا کے کئی ویرینٹ سامنے آئے ہیں۔
اسی وجہ سے اس وباء پر قابو پانے میں مشکلات سامنے آئیں تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ اس وباء پر بہت جلد قابو پا لیا جائے گا۔ پاکستان میں حکومت کورونا وباء پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہی ہے' حکومت کی کوشش ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے کورونا وباء کو بھی کنٹرول میں رکھا جائے اور کاروباری سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ لیکن اس کے باوجود کورونا وباء نے پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا۔
اس وجہ سے بیروز گاری ' مہنگائی ' غربت اور اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوا۔ اب این سی او سی کے فیصلوں سے لگتا ہے کہ کورونا وباء کا دباؤ کم ہو رہا ہے' کورونا وباء کی جزوی واپسی پاکستان کے عوام اور معیشت دونوں کے لیے اچھی خبر ہے۔ کورونا کی وجہ سے پاکستان کی معاشی صورتحال خاصی ابتری کا شکار ہے۔درمیانے طبقے کی اقتصادی اور معاشی صورتحال اعصاب شکنی کی انتہائی سطح سے بھی نیچے آ چکی ہے۔
بیروزگاری، غربت، ماہانہ آمدنی میں جمود اور مہنگائی نے کاروباری سرگرمیوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ عوام کی صحت زندگی کے عمومی تقاضے بھی پورے کرنے کے قابل نہیں، بھوک کے مسائل نے ملک کے شہری علاقوں میںاندوہ ناک اثرات ظاہر کر دیے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا اس بات پر مکمل اتفاق رائے ہے کہ حکومتوں کا معاشی حقائق کی روزمرہ صداقتوں کی بنیاد پر ایک مربوط، مستقل اور استحکام کی سمت سازی کی نشاندہی کرنے کا ادارہ جاتی نظام ہوتا ہے جو ریاستی اور حکومتی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا ہے، حکومت کا اس ادارہ جاتی سسٹم پر مکمل انحصار ہوتا ہے۔
ان کے ماہرین تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں پر رپورٹیں تیار کرتے ہیں ، معیشت کی رفتار پر ان کی نگاہ ہوتی ہے ، یہی ادارہ ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور اسمگلنگ و دیگر مالیاتی مجرمانہ گٹھ جوڑ سے حکومت کو خبردار کرتا ہے اور ملکی معیشت اسی ادارہ جاتی انتظامات کی روشنی میں معاشی معاملات میں باضابطگی پیدا کرنے کے عوام کو معاشی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہوتا ہے۔
مگر معاشی اور اقتصادی استحکام کے ملکی اور قومی تناظر میں یہ شفافیت، فعالیت ہمارے ادارہ جاتی سسٹم میں کم نظر آتی' اسی وجہ سے اقتصادی اور معاشی ترقی کے خواب شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں نہ ایک مستحکم معیشت تشکیل پاتی ہے اور نہ عوام کے معیار زندگی میں کوئی بامعنی اور بنیادی تبدیلی رونما ہوتی ہے، عوام ایک جمود، معاشی پسماندگی، بے سمتی، بیروزگاری، غربت اور مہنگائی کا شکار ہیں۔
معاشی اور اقتصادی استحکام، ملازمت اور معیار زندگی میں غیر معمولی بہتری نظر نہیں آتی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اقتصادی سسٹم میں تسلسل، اعتباریت، استقامت، تنوع ، پیداواریت اور ساکھ کیوں جنم نہیں لیتی، عوام بے روزگارکیوں ہیں، مہنگائی کا زور کیوں نہیںٹوٹتا ، غربت ختم کیوں نہیں ہوتی، ایک مستحکم معیشت کی نوید ہمارے حکام ہمیں کیوں نہیں سناتے اور اگر سناتے بھی ہیں تو ان پر قوم کو یقین کیوں نہیں آتا۔
افریقہ سے خبریں آتی ہیں کہ وہاں عوام نے اپنے معاشی حالات میں بہتری کے خود اتنے اچھے اقدامات اور منصوبہ بندی کی ہے کہ حکومتی ادارے ان کی امداد کے لیے ان سے رابطے کرتے ہیں، تعلیم، صحت، فنون لطیفہ، سائنسی ادارے، کاسمیٹکس، آرائش گیسو، مشروبات و ملبوسات، کھلونوں اور سیکڑوں صنعتوں سے وابستگی کے لیے رہنما ادارے موجود ہیں، غربت وہاں بھی ہے لیکن معاشرے میں وسعت، تنوع، تکثیریت اور علم و عمل کے بے شمار وسائل میسر ہیں،بے کاری سے بچانے کے لیے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے علاوہ بھی بالغان کی کلاسیں ہوتی ہیں وہاں پڑھائی کے بعد ملازمت کے مواقع بھی موجود ہیں۔
اب کورونا وباء بتدریج اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے ' ملک میں کاروباری سرگرمیاں بھی خاصی حد تک شروع ہو چکی ہیں۔ جیسے جیسے حالات بہتر ہوتے جائیں گے کاروباری سرگرمیاں مزید زور پکڑتی جائیں گی جس سے یقینی طور پر بیروز گاری اور غربت میں کمی آئے گی۔
سرکاری اور نجی شعبے میں وسعت ہو گی ' جس کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ تصویر انتہائی خوش کن ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ارباب اختیار کورونا وباء میں کمی سے پیدا ہونے والے مواقع سے کتنا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کر کے ملکی معیشت کو بہتر کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اب ہمارے پالیسی سازوں کی قابلیت اور معاملہ فہمی کا امتحان ہے کہ وہ قرضوں میں جکڑی ہوئی معیشت کو کیسے آزاد کراتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان غیرملکی قرضوں سے چھٹکارا نہیں حاصل کر سکتا۔ پاکستان کے پاس پوٹینشل موجود ہے۔ ضرورت صرف میرٹ اور شفافیت کا اعلیٰ معیار قائم کرنا اوربیوروکریسی کے سرخ فیتے کا خاتمہ ہے۔
پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں لیکن بیوروکریسی کے بے جا اختیارات نے سرمایہ کاری کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ حکومت کو اس حوالے سے اپنی پالیسیوں اور قوانین کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ سرمایہ کار اگر کوئی صنعت لگانا چاہتا ہے یا کوئی کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ون ونڈو آپریشن کی سہولت مہیا ہونی چاہیے۔ درجنوں قسم کے محکموں سے این او سی لینے کے گورکھ دھندوں سے پاک میکنزم ہی سرمایہ کاری کا ضامن ہے۔
دوسری طرف پاکستان کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ گو حالیہ برسوں میں دہشت گردی میں کمی آئی ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوئی جب کہ مذہبی انتہا پسندی کا کلچر تاحال غالب ہے۔
انھی وجوہات کی بناء پر پاکستان ابھی تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود ہے۔ گزشتہ روز ایف اے ٹی ایف شرائط پوری ہونے کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے خدشات اوراپوزیشن کے متوقع حکومت مخالف مارچ کی وجہ سے سیاسی افق پر غیریقینی کیفیت کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کے اثرات غالب رہے ہیں۔پاکستان کو اس صورت حال سے ہر صورت میں باہر آنا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آ کر پوری دنیا کے ساتھ چلنا ہی ملکی معیشت کو بہتری کی طرف گامزن کر سکتا ہے۔