وزیراعظم کی حقائق پر مبنی باتیں

عالمی طاقتوں کی باہمی آویزش اور مفادات کے ٹکراؤ کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے انھوں نے دو ٹوک موقف دیا۔

عالمی طاقتوں کی باہمی آویزش اور مفادات کے ٹکراؤ کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے انھوں نے دو ٹوک موقف دیا۔ فوٹو:فائل

HERAT:
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے منگل کوروس کے ٹی وی چینل آر ٹی کو انٹرویو کے دوران موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان کی پالیسی کے خدوخال بیان کیے اور عالمی امور پر اپنے ملک کا موقف اور پوزیشن کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

عالمی طاقتوں کی باہمی آویزش اور مفادات کے ٹکراؤ کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے انھوں نے دو ٹوک موقف دیا اور واضح کیا کہ پاکستان کسی مخصوص علاقائی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے روس سمیت تمام ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان امریکی بلاک کا حصہ تھا، بلاکس کی سیاست سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا، اس غلطی کو دہرانا نہیں چاہتے۔

جناب وزیراعظم کا موقف درست ہے کیونکہ سرد جنگ کے دور دنیا امریکا اور سوویت یونین کے کیمپ میں تقسیم ہوئی اور پاکستان کی حکومتوں نے بھی ملک کو اس تقسیم کا حصہ بنایا اور امریکا کے بلاک میں شامل ہوا، اس پالیسی کے نقصانات سب کے سامنے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے اس انٹرویو میں مزید کہا ہے کہ ماضی میں سرد جنگ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا،روس، چین اور امریکا سمیت تمام طاقتوں کے درمیان تعاون انسانیت کے مفاد میں ہے۔ اپنے دورہ روس کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ بہترین تعلقات کا خواہاں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو گیس کی قلت کا سامنا ہے، روسی کمپنی پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن تاخیر کا شکار رہی ہے۔ایک سوال پرانھوں نے کہا وہ معاملات کے فوجی حل کے بجائے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ فوجی حل تنازعات کا صحیح حل نہیں ہوتا،ہم چاہتے ہیں کہ یوکرین کا مسئلہ بھی پر امن طریقے سے حل ہو۔

ان کی اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے ،بلاشبہ جنگ سے کوئی تنازعہ حل نہیں ہوتا بلکہ قومیں تباہ ہوتی ہیں، تنازعات اور اختلافات کو حل کرنے کا بہترین اور احسن طریقہ بات چیت، گفتگو اور مذاکرات ہوتے ہیں اور اس کے ذریعے قومیں تباہی اور بردبادی سے بچ جاتی ہیں۔

پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ کشمیرکا ہے، جب اقتدار سنبھالا تو بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن بھارت میں فاشسٹ نظریات رکھنے والی پارٹی کی حکومت ہے ، موجودہ بھارت گاندھی اور نہرو کا نہیں مودی کا ہے،وہ جس بھارت کو جانتے تھے یہ اب ویسا نہیں ہے، انھوں نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا کہ ہندوتوا کے بجائے انسانیت پر توجہ دینی چاہیے، وہ اپنے لوگوں کو غربت سے باہر نکالنے کے لیے اقدامات کرے۔

انھوں نے کہا بھارت میں نسل پرستانہ انتہا پسندی خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے،ہندو اکثریت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف یہ کہہ کر نفرت کو ابھارا جا رہا ہے کہ ہندو بہت عظیم قوم ہے لیکن ان کی ترقی میں یہ دیگر قومیں یا مذاہب رکاوٹ ہیں،یہ سوچ بہت خطرناک ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ وہ بھارتی پالیسیوں پر وزیراعظم نریندر مودی سے ٹی وی پر مباحثہ کرنے کے لیے تیار ہیں، یہ بہت مثبت بات ہوگی کہ ہم برصغیر کے عوام کے لیے مذاکرات اور مباحثے کے ذریعے اپنے اختلافات کو ختم کریں۔

وزیراعظم نے دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم اور منی لانڈرنگ کوترقی پذیر ممالک کے لیے بہت بڑے چیلنج قراردیا اور کہا کہ حکمرانوں کی کرپشن اور پیسے کی منتقلی سے ترقی پذیرملکوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ملک کا پیسہ باہر منتقل کرنا تباہی کے مترادف ہے، حکمرانوں کی کرپشن سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں،غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔انھوں نے کہا ہمارے ملک کے سابق حکمرانوں نے بھی پیسہ باہر منتقل کرکے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں۔

اگر امیر اور ترقی یافتہ ممالک بیرون ملک سے آنے والے پیسے کی تحقیقات کریں کہ پیسہ قانونی ہے یا نہیں تو پیسے کی منتقلی روکی جاسکتی ہے، ترقی یافتہ ملکوں کو ترقی پذیر ممالک کا پیسہ واپس کرنے کے لیے قانون بنانے چاہئیں،ترقی پذیرممالک سے ہر سال ڈیڑھ ٹریلین ڈالر غیر قانونی طریقہ سے آف شور کمپنیوں کو منتقل کیے جاتے ہیں جن کی وجہ سے افلاس اور غربت جیسے عالمی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔


وزیراعظم پاکستان نے اس انٹرویو کے دوران میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے' وہ دور اندیشی اور حقائق کی دنیا میں رہنے کے معیار کے مطابق ہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی صف بندی میں تبدیلی آ رہی ہے۔ امریکا اور نیٹو ممالک کی روس اور چین کے ساتھ نئی سرد جنگ شروع ہونے کے آثار واضح ہو رہے ہیں۔

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھل کر چین پر کورونا وائرس پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا اور وہ اپنے بیانوں میں کورونا وائرس کو چائنہ وائرس کہتے رہے ہیں' اس کی آڑ میں امریکا اور یورپی یونین نے چینی مصنوعات کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کی' چائنہ گھیراؤ پالیسی میں بھارت امریکا کا بڑا اتحادی ملک بن چکا ہے۔ امریکا اور نیٹو ممالک کی روس کے ساتھ آویزش سرد جنگ کے خاتمے کے باوجود ختم نہیں ہوئی' اب یوکرائن کے بحران پر امریکا' یورپی یونین اور روس کے درمیان اختلافات شدید ہو چکے ہیں' عالمی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار یوکرائن کے بحران پر روس اور امریکا کے درمیان جنگ کے خدشات کو ظاہر کر رہے ہیں۔

ایسی نازک اور حساس صورت حال میں وزیراعظم پاکستان کا دورہ روس بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امریکا اور مغربی یورپی ممالک یقیناً اس دورے کے نتائج پر غور و فکر کریں گے' شاید اسی صورت حال کو بھانپتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے روس کے ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا اور اس انٹرویو میں واضح کردیا کہ پاکستان کسی مخصوص علاقائی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان روس سمیت تمام ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے۔ یہ ایک درست حکمت عملی ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت اور حکمران بی جے پی کے نظریات کے حوالے سے بھی حقائق پر مبنی موقف پیش کیا' اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت کی حکمران جماعت ، آر ایس ایس اور جن سنگھ کے نظریات اور افکار سے متاثر ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کی ٹاپ لیڈر شپ ہندوتوا کی علمبردار ہے اور یہ جماعت آر ایس ایس کے نظریات کی جدید شکل ہے' بھارت کے اندر بھی ان نظریات کی شدید مخالفت موجود ہے ۔

ان حقائق کو واضح کرنے کے ساتھ ہی انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بھارت کی پالیسیوں پر مباحثہ کرنے کی پیشکش بھی کر دی۔ اس سے یقینی طور پر بھارت میں آر ایس ایس کے نظریات سے اتفاق نہ کرنے والے طبقات میں پاکستان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہو گا اور حکمران جماعت پر پریشر بڑھے گا۔

قیام پاکستان کے بعد جو بھی حکمران اور حکومت برسراقتدار آئی' اس کی خارجہ اور داخلی پالیسی کسی اعلیٰ آدرش اور عوام کی بھلائی نہیں بلکہ گروہی' معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے بنائی گئی' یہی وجہ ہے کہ آغاز سے ہی ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی متنازعہ رہی ہے اور عوام کی اکثریت کی خواہشات کے برعکس پاکستان کو عالمی سیاست کا مہرہ بنا دیا گیا' اسی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی پیدا نہ ہو سکی۔

بھارت کے ساتھ جنگیں لڑنا پڑیں جب کہ افغانستان نے پہلے روز سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اور ہر عالمی فورم پر پاکستان کی مخالفت کی اور یہ سلسلہ آج طالبان کے دور حکومت میں بھی جاری ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں نے مشرق میں خطرے کو تو محسوس کیا لیکن افغانستان سے امڈتے خطرات کو کبھی محسوس نہیں کیا جس کا نتیجہ آج دہشت گردی کی صورت میں پورا ملک بھگت رہا ہے۔

منگل کے روز ہی پاکستان میں اسکاؤٹس کے عالمی دن کے موقعے پر موسم بہار کی شجر کاری مہم 2022کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں پر زوردیا کہ وہ شجر کاری میں بھرپور حصہ لیں۔

انھوں نے کہا بدقسمتی سے پاکستان ان 10ممالک میں شامل ہے جنھیں موسمیاتی تبدیلی سے خطرہ درپیش ہے،شجر کاری کے ذریعے ہم اپنی آنے والی نسلوں کا تحفظ اور ان کو بہتر ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔ ہر خاندان کم ازکم 5 درخت لگائے اور ان کی پرورش کرے، اس طرح ہم دراصل اپنے مستقبل کی پرورش کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں موسم بہار میں 54کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیاگیا ہے، جس طرح اس سے پہلے تمام اہداف حاصل کیے، یہ بھی کریں گے۔

پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حکومت کی شجر کاری مہم کو ایمانداری اور حب الوطنی کے جذبے کے تحت کامیاب بنانا چاہیے ۔ محض پودا لگا دینا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس پودے کی مسلسل نگہداشت کرنا اور اسے درخت بنانا ہی اصل کام ہے ، سرکاری مشینری اور عوام کو اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
Load Next Story