دھونی کی ٹیسٹ کپتانی ناقابل قبول ہے سارو گنگولی
دیار غیر سیریز میں ایک اور شکست کے ساتھ مہندرا سنگھ دھونی کی کپتانی پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں
وکٹ کیپر بیٹسمین کی حکمت عملی خاصی کمزور نظر آتی ہے، راہول ڈریوڈ۔ فوٹو: فائل
سابق بھارتی اسٹار سارو گنگولی نے مہندرا دھونی کی ٹیسٹ کپتانی کو ناقابل قبول قرار دے دیا، راہول ڈریوڈ کے خیال میں وکٹ کیپر بیٹسمین کی حکمت عملی خاصی کمزور نظر آتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی دیار غیر سیریز میں ایک اور شکست کے ساتھ مہندرا سنگھ دھونی کی کپتانی پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں، منگل کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 1-0 سے ناکامی بھارت کی بیرون ملک چوتھی مسلسل سیریز شکست تھی،اس سے قبل ون ڈے ورلڈچیمپئنز کو اس طرزمیں بھی0-4 کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، ٹیم کو تین ٹورز کے 12 میں سے 10 ٹیسٹ میں ناکامی نصیب ہوئی جبکہ 2 ڈرا ہوئے۔ سارو گنگولی نے دھونی کی ٹیسٹ کپتانی کو ناقابل قبول جبکہ راہول ڈریوڈ نے حکمت عملی کو کمزور قرار دیا ہے، البتہ دونوں انھیں آئندہ برس کے ورلڈ کپ تک عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں،ایک اور سابق کپتان سنیل گاوسکر نے کہاکہ اچھی ٹیم ہی کپتان کو اچھا بناتی ہے ۔
ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے گنگولی نے کہاکہ ورلڈ کپ ایک برس سے کم دوری پر ہے، میں اس بات سے متفق ہوں کہ دھونی کی ٹیسٹ قیادت ناقابل قبول ہے لیکن اس وقت کپتان کی تبدیلی سے ٹیم غیر مستحکم ہو سکتی ہے، ٹیسٹ ٹیم میں ان کی جگہ پر کوئی شبہ نہیں لیکن دھونی کو بیرون ملک دوروں کا ریکارڈ بہتر بنانا ہوگا۔ ڈریوڈ اس بات سے متفق ہیں کہ دھونی ایک دفاعی کپتان ہیں لیکن انھیں ملک سے باہر ٹیسٹ جیتنے کیلیے خطرات کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے مزید کہاکہ دورئہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے بعد دھونی کی ٹیسٹ قیادت کا تجزیہ کرنا چاہیے کیونکہ آئندہ برس فروری، مارچ میں ورلڈ کپ بھی ہونے والا ہے، میں سمجھتا ہوں انھیں رواں برس کھیلنے کا حق حاصل ہے، جس کے بعد آسٹریلین سیریز میں کارکردگی کا جائزہ لیا جائے، اس سیریز کے اختتام پر ہم جان سکیں گے کہ بھارتی کرکٹ کہاں پہنچی اور دھونی نے ایک پلیئر اور کپتان کی حیثیت سے کیا کارکردگی دکھائی۔ گاوسکر نے دھونی کی ذمہ داریوں کو کم کرنے کی ممکنہ تجاویز کو بکواس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اچھا بولنگ اٹیک نہ ہونے کے سبب ایک کپتان بہت کم کارکردگی دکھا سکتا ہے ، عام طور پر ایک اچھی ٹیم ہی کپتان کو اچھا بناتی ہے، وہ بھارت میں برابر جیت رہے ہیں ، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ آپ کا شکریہ ، آپ بھارت میں جیتے ہیں لیکن ہمیں افسوس ہے کارکردگی ملک سے باہر ٹھیک نہیں، اس لیے ہم کپتان تبدیل کرنا چاہتے ہیں، ایسی باتیں مناسب نہیں لگتیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی دیار غیر سیریز میں ایک اور شکست کے ساتھ مہندرا سنگھ دھونی کی کپتانی پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں، منگل کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 1-0 سے ناکامی بھارت کی بیرون ملک چوتھی مسلسل سیریز شکست تھی،اس سے قبل ون ڈے ورلڈچیمپئنز کو اس طرزمیں بھی0-4 کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، ٹیم کو تین ٹورز کے 12 میں سے 10 ٹیسٹ میں ناکامی نصیب ہوئی جبکہ 2 ڈرا ہوئے۔ سارو گنگولی نے دھونی کی ٹیسٹ کپتانی کو ناقابل قبول جبکہ راہول ڈریوڈ نے حکمت عملی کو کمزور قرار دیا ہے، البتہ دونوں انھیں آئندہ برس کے ورلڈ کپ تک عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں،ایک اور سابق کپتان سنیل گاوسکر نے کہاکہ اچھی ٹیم ہی کپتان کو اچھا بناتی ہے ۔
ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے گنگولی نے کہاکہ ورلڈ کپ ایک برس سے کم دوری پر ہے، میں اس بات سے متفق ہوں کہ دھونی کی ٹیسٹ قیادت ناقابل قبول ہے لیکن اس وقت کپتان کی تبدیلی سے ٹیم غیر مستحکم ہو سکتی ہے، ٹیسٹ ٹیم میں ان کی جگہ پر کوئی شبہ نہیں لیکن دھونی کو بیرون ملک دوروں کا ریکارڈ بہتر بنانا ہوگا۔ ڈریوڈ اس بات سے متفق ہیں کہ دھونی ایک دفاعی کپتان ہیں لیکن انھیں ملک سے باہر ٹیسٹ جیتنے کیلیے خطرات کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے مزید کہاکہ دورئہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے بعد دھونی کی ٹیسٹ قیادت کا تجزیہ کرنا چاہیے کیونکہ آئندہ برس فروری، مارچ میں ورلڈ کپ بھی ہونے والا ہے، میں سمجھتا ہوں انھیں رواں برس کھیلنے کا حق حاصل ہے، جس کے بعد آسٹریلین سیریز میں کارکردگی کا جائزہ لیا جائے، اس سیریز کے اختتام پر ہم جان سکیں گے کہ بھارتی کرکٹ کہاں پہنچی اور دھونی نے ایک پلیئر اور کپتان کی حیثیت سے کیا کارکردگی دکھائی۔ گاوسکر نے دھونی کی ذمہ داریوں کو کم کرنے کی ممکنہ تجاویز کو بکواس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اچھا بولنگ اٹیک نہ ہونے کے سبب ایک کپتان بہت کم کارکردگی دکھا سکتا ہے ، عام طور پر ایک اچھی ٹیم ہی کپتان کو اچھا بناتی ہے، وہ بھارت میں برابر جیت رہے ہیں ، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ آپ کا شکریہ ، آپ بھارت میں جیتے ہیں لیکن ہمیں افسوس ہے کارکردگی ملک سے باہر ٹھیک نہیں، اس لیے ہم کپتان تبدیل کرنا چاہتے ہیں، ایسی باتیں مناسب نہیں لگتیں۔