بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

جمہوریت کے سب سے بڑ ے دعویدار بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے

جمہوریت کے سب سے بڑ ے دعویدار بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے فوٹوفائل

STOCKHOLM:
پاکستان نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے لیے بھارت کا احتساب کریں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے 2020 کے ہولناک دہلی فسادات کی دوسری برسی اور 1991 میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے کنان اور پوش پورہ گاؤں میں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی 31 ویں برسی کے موقعے پر جاری ایک بیان میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو روکنے، مقبوضہ وادی میں غیر انسانی فوجی محاصرہ ختم کرنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت کا حق استعمال کرنے پر مجبورکرے۔

بلاشبہ جمہوریت کے سب سے بڑ ے دعویدار اور خطے کی بڑی فوجی طاقت بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور عالمی اداروں کی طرف سے بھارت کو اقلیتوں سمیت بہت سے طبقات کے لیے خطرناک ملک قرار دیا جاچکا ہے، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آر ایس ایس کے ایجنڈے نے بھارت میں مذہبی اور معاشرتی اقلیتوں خاص کر مسلمانوں اور دلتوں کا جینا محال کر دیا ہے۔

بالخصوص کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے انسانیت سوز واقعات کا تسلسل گواہ ہے کہ بھارت کی حکومت کو کسی کی پروا نہیں ہے۔ کشمیر کی آزاد اور خود مختار حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے وادی کو جیل میں تبدیل کرنا مودی سرکارکا بھیانک ترین کارنامہ ہے۔

مودی کے بطور وزیر اعظم پہلے دور میں ہندوستان میں پرتشدد سیاست کا محض ٹریلر چلا تھا۔ 2014 سے لے کر اب تک اور ان کی پہلی اور اب دوسری مدت کے دوران، تشدد ایک ایسا معمول بن گیا ہے کہ اب اس کی اطلاع بمشکل ہی ملتی ہے۔

صرف مسلمان ہی ہندو توا کی دہشت گردی کا شکار نہیں ہیں، دائیں بازو کے ہندو قوم پرستوں کے مسیحیوں کے خلاف بھی حملے تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں اور جوابدہی کے فقدان کی وجہ سے انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ بھارت حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں سے نہ صرف مسلمان بلکہ بھارتی کسان بھی متاثر ہوئے ہے اور پچھلے کئی سالوں سے پنجاب، ہریانہ، بنگال اور جنوبی اور مغربی بھارت میں کسانوں نے احتجاجی تحریکیں چلائی ہیں اور اب بھی کسان مطمئن نہیں ہیں ۔

فارن پالیسی میگزین کے مطابق انڈیا میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ہے چاہے وہ مسلمان ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو، یا جین ہو اور اقلیتوں کے علاوہ نچلے درجے کے ہندوؤں پر بھی مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے ہیں، جس کی واضح مثال بھارت سرکار کی طرف سے لائے گئے شہریت کے دو بل این سی آر اور سی اے اے ہیں۔

بھارتی اداروں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں صرف کشمیر تک ہی محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں یہی صورتحال ہے۔ انسانی حقوق کی اس سے بڑھ کر اورکون سی خلاف ورزی ہو سکتی ہے کہ کسی بھی راہ چلتے شہری کو ریاستی ادارے گولیوں کا نشانہ بنا کر اس سے زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ یہ ایک ایسا کالا قانون ہے جس کے تحت بھارتی پولیس کسی بھی شہری کو ریاست دشمن قرار دے کر، مقدمہ درج کیے بغیر اور وجہ بتائے بغیر دو سال تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔

اسی طرح ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی سرحد پر تعینات بی ایس ایف کے ہاتھوں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں پر بھی آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ تنظیم کے مطابق انسانی حقوق کی کھُلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے بی ایس ایف کے ہاتھوں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوتی ہیں ، جن کی تحقیقات نہیں کی جاتیں۔

مقبوضہ کشمیر میں عالمی اداروں نے بہت سی اجتماعی قبروں کا سراغ بھی لگا یا ہے۔ انسان حقوق کے کارکنوں کے مطابق ان قبروں میں وہ افراد دفن ہیں جنھیں سیکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں سے گرفتارکیا اور ہلاک کرکے اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا۔ کچھ عرصہ پہلے مودی حکومت نے آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے سٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ (CAA) پارلیمنٹ سے منظورکروایا تھا۔


یہ بل بھارتی مسلمانوں کے مفادات کے سو فیصد خلاف تھا۔ اس بل کا مختصر تعارف یہی ہے کہ اس کے نفاذ سے مسلمان مزید اقلیت میں تبدیل ہوتے چلے جائیں گے۔ اس پر پورے ملک میں احتجاج کی لہر اٹھی لیکن مودی حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اس سے قبل مودی حکومت نے آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (NRC) کا کھلواڑ کیا جس کا مقصد لاکھوں آسامی مسلمانوں کو ملک بدر کرنا تھا۔

بھارت میں انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں میں ریاستی ادارے براہِ ِراست ملوث ہیں اور آر ایس ایس جیسی متشدد تنظیموں کی سرپرستی کر کے بھی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر زمین تنگ کی جارہی ہے۔آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کو بھرپور ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔ نریندر مودی خو د بھی آر ایس ایس کا سرگرم کا رکن رہاہے۔ اس وقت پورے بھارت میں آر ایس ایس کے 57ہزار سے زائد دفاتر موجود ہیں۔

اس میں بہت سے سابق فوجی اہلکار اور افسران بھی شامل ہیں۔ آر ایس ایس کا بنیادی منشور یہ ہے کہ بھارت سے مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتیں نکل جائیں۔ آر ایس ایس اس معاملے میں کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

براہ راست اقلیتی آبادیوں پر حملے کیے جاتے ہیں اور'' گاؤکشی '' کے نام پر لوگوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کے گوالکر نے بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے لیے فرقہ وارانہ خطوط پر کام کرنے کی راہ دکھائی تھی۔ گرو گوالکر نے کھلم کھلا ہٹلر کے پیروکار ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ آج مودی سرکار بھی گوالکر کے انھی افکار پر عمل پیرا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دی تھی ۔

اس وقت مقبوضہ کشمیر سمیت مختلف بھارتی ریاستوں آسام ، تریپورہ ، ہماچل پردیش، میزورام ، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ ، بہار، جھاڑ کھنڈ ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، اڑیسہ ، مدھیا پردیش، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش میں درجنوں علیحدگی پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں در اصل بھارتی حکمرانوں کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے رد عمل میں سامنے آئی ہیں۔

بھارت کی بہت سی پسماندہ ریاستوں کی ناگفتہ بہ حالت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ وہاں بنیادی انسانی سہولتیں بھی میسر نہیں، اسکول و کالجز اور دیگر عوامی و فلاحی اداروں کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے، پسماندگی و غربت کا دور دورہ ہے ا ور ہر جانب سیکیورٹی اداروں کا راج ہے۔

بھارت میں سات دہائیوں بعد بھی زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر کے ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔

بھارتی حکومت کی سر پرستی میں کام کرنے والی درجنوں انتہا پسند تنظیموں کی کوشش ہے کہ مسلمانوں ، عیسائیوں ، بدھ مت اور سکھوں کو تعلیم، روزگار، تجارت غرض ہر شعبے میں پسماندہ رکھا جائے تاکہ یہ ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ بھارت میں مسیحی برادری بھی ایک بڑی اقلیت ہے جو ہندوؤں کے رحم و کرم پر ہے۔ ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنا، جلانا، مذہبی کتابوں کی بے حرمتی اور انھیں زبردستی ہندو دھرم میں شامل کرنا جیسے واقعات عام ہیں۔

انسانی حقوق کی پامالی میں متشدد ہندو تنظیمیں اور بھارت سرکار تو براہ راست ملوث ہیں ، تاہم اس میں بھارتی میڈیا بھی ملوث ہے جو حقائق سے انحراف کر کے گمراہ کن اطلاعات فراہم کر تا ہے۔

بھارتی میڈیا اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کو ہمیشہ فسادات کا نام دیتا ہے۔ حالانکہ فسادات کا مطلب فریقین کا ایک جیسی طاقت کا حامل ہونا اور ایک جیسے ہتھیاروں سے مسلح ہونا ہے ، جب کہ مسلمان اور دیگر اقلیتیں تو بالکل نہتی اور بے بس ہیں۔

مغربی طاقتیں اکثر انسانی حقوق کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے بھارت کو انسانی حقوق کے خراب ریکارڈ کے لیے جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام رہی ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کہ بڑی طاقتیں اپنے مالی مفادات سے باہر نکل کر آر ایس ایس کی قیادت میں بھارت کو انسانیت کے خلاف جرائم کرنے سے روک نہیں دیتیں۔
Load Next Story