روس یوکرین تنازع کے دنیا پر اثرات

بدقسمتی سے یوکرین امریکا اور اس کے حلیف ملکوں کی اسی کمزور حکمت عملی کا شکار ہوا ہے

بدقسمتی سے یوکرین امریکا اور اس کے حلیف ملکوں کی اسی کمزور حکمت عملی کا شکار ہوا ہے۔ فوٹو: فائل

روس جیسی سپرپاور نے یوکرین جیسے چھوٹے ملک پر حملہ کرکے ایک بار اس حقیقت کو ثابت کردیا ہے کہ طاقتور ممالک کسی بین الاقوامی اصول، ضابطے یا اقوام متحدہ کو خاطر میں لانا ضروری نہیں سمجھتے۔ یوکرین میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روسی طیاروں کی مسلسل بمباری اور میزائل حملوں کے نتیجے میں جاری ہے۔

روسی بری فوج اور فضائیہ نے یوکرائن پر مشرق اور شمال کی جانب سے چڑھائی کردی ہے، روسی فضائیہ دارالحکومت کیف سمیت متعدد علاقوں پر بمباری کر رہی ہے، آنے والے وقت میں جنگ جاری رہنے کی صورت میں ایک بڑا انسانی المیہ بھی جنم لے سکتا ہے، کیونکہ مالی وجانی نقصانات ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں۔

یوکرین کی تباہی اور اس علاقے میں طویل المدت جنگ شروع کی جا چکی ہے لیکن اسے ختم کرنا شاید روس کے اختیار میں نہ ہو۔ بڑی طاقتوں کی ایک نفسیات ہے کہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے کمزور ممالک پر جب چاہیں اپنی مرضی سے حملہ کردیتے ہیں، جیسے امریکا نے ان گنت کمزور ملک میں براہ راست مداخلت کی، حملے کیے اور ان حملوں کے لیے اقوام متحدہ کو بطور'' ٹول'' استعمال کیا، لیکن روس نے یوکرین پر حملہ اقوام متحدہ کی حمایت حاصل کیے بغیر کیا ہے۔

گوکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئیترس نے روس سے جنگ بند کرنے اور اپنی فوجوں کو یوکرین کی سرزمین سے واپس بلانے کی اپیل کی ہے لیکن اب معاملہ اپیلوں اور مذمت کی کارروائی سے آگے بڑھ چکا ہے۔اس جنگ کے تباہ کن اثرات عالمی معیشت پر براہ راست مرتب ہونگے، جس سے عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہوگی، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس حملے کی تیاری تو کئی ماہ پہلے کی ہوئی تھی لیکن اس کا باقاعدہ اعلان دو روز قبل مشرقی یوکرائن کے دو باغی علاقوں لوہانسک اور ڈونیسک کو خود مختار ریاستوں کے طور پر تسلیم کر کے کیا گیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی صدر پوتن نے اعلان کیا کہ روسی ''امن فوج'' ان دونوں علاقوں کی حفاظت کے لیے بھیجی جائے گی، تاہم یوکرین پر حملہ کا حکم دیتے ہوئے صدر پوتن نے واضح کیا کہ ان کا اصل مقصد یوکرین کو 'ڈی ملٹرائز' کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ روس یوکرائن پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم مغربی مبصرین کا خیال ہے کہ صدر پوتن دارالحکومت کیف پر قبضہ کر کے وہاں روس نواز حکومت مسلط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یوکرین کو مغربی بلاک میں جانے سے روکا جا سکے۔

امریکی صدر جو بائیڈن، نیٹو کے جنرل سیکریٹری اور اس کے حلیف ممالک نے روس پر باقاعدہ اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکا اور اس کے حلیف ممالک کی حکمت عملی ہے کہ روس پر اقتصادی گھیرا تنگ کیا جائے اور اسے عالمی معیشت سے باہر کر کے پسپا ہونے پر مجبور کیا جائے، تاہم موجودہ حالات میں کمزور امریکی پالیسی کی وجہ سے صدر پوتن اب ''گریٹر روس'' کے منصوبے پر باقاعدہ عمل کا آغاز کرچکے ہیں۔

صدر پوتن نے سوویت یونین کے شکست و ریخت کی ہزیمت کا انتقام لینے کے لیے سوچ سمجھ کر یوکرین پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، البتہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ کسی بھی مرحلے پر کسی معمولی غلطی کی وجہ سے معاملہ قابو سے باہر بھی ہو سکتا ہے۔روس اس جنگ کے ذریعے علیحدہ ہوجانے والے بعض علاقوں پر تسلط بحال کرنے اور انھیں اپنے زیراثر لانے کے منصوبے پر ضرور عمل کرے گا لیکن اس ایک فیصلہ سے ملکی معیشت اور روسی عوام کی خوشحالی پر مرتب ہونے والے اثرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی کے بارے میں شاید کوئی بھی ماہر درست اندازے قائم نہ کرسکے، اس کا جواب بہر حال آنے والا وقت ہی دے گا۔

تاریخ کے ورق پلٹیں تو یوکرین سابقہ سوویت یونین میں شامل اہم علاقہ تھا، دیگر علاقوں کی طرح یہ بھی سوویت یونین ٹوٹنے سے آزاد ہوگیا۔ پچھلے کچھ عرصے سے یوکرین داخلی طور پر روس نواز اور روس مخالف گروہوں میں تقسیم رہا ہے۔ روسی اثرات یوکرین کے معاشرے پر کافی زیادہ ہیں اور یوکرین بڑی تیزی سے امریکا اور یورپ کے قریب ہو رہا ہے، اگر ایسا فقط تجارت اور معیشت کے لیے ہوتا تو اتنا مسئلہ نہیں تھا۔

اصل تنازع تب شروع ہوا، جب یوکرین کے نیٹو کا ممبر بننے کی خبریں آنے لگیں۔ امریکا اور یورپ یہ چاہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو کا حصہ بن جائے، روس کسی بھی طرح سے اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

روسی موقف یہ ہے کہ وہ ریاستیں جو سوویت یونین کا حصہ رہیں، وہ نیٹو کا حصہ بن کر امریکا اور یورپ کی اتحادی نہیں بن سکتیں۔ روس ان ریاستوں میں امریکی اور یورپی مداخلت کو اپنے گرد گھیرا تنگ کرنے کے مترادف سمجھتا ہے، اگر غور کیا جائے تو سابق سوویت ریاستیں ایک طرح کا روس کے اردگرد بفر زون ہیں، جو دفاعی لحاظ سے روس کے لیے بہت اہم ہیں۔ امریکا اور یورپ روس کی یہی دفاعی لائن توڑنا چاہتے ہیں۔


دوسری جانب اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دینے کے بجائے اگر امریکا سفارتی ذرایع سے روس تک یہ پیغام پہنچا دیتا کہ ایک خود مختار ریاست یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی کی صورت میں امریکا اور اس کے حلیف یوکرین کا ''دفاع'' کریں گے، تو صدر پوتن کو کبھی یوکرین پر حملہ کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا۔ روس کی طرف سے ہمسایہ ملکوں کو فوجی لحاظ سے دھمکانا ضرور مسئلہ ہے۔ اب یہ حملہ حقیقت بن چکا ہے اور جو بائیڈن اور مغربی ممالک یوکرائن کی مدد کرنے کے بجائے، یہ بیان دے رہے ہیں کہ اس روسی کارروائی سے بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہو گا اور اس کی ذمے داری روس پر عائد ہوگی۔

بدقسمتی سے یوکرین امریکا اور اس کے حلیف ملکوں کی اسی کمزور حکمت عملی کا شکار ہوا ہے، اگر امریکا یوکرین کی بے بنیاد حوصلہ افزائی سے گریز کرتا اور یہ واضح کیا جاتا کہ اپنے بڑے اور طاقت ور ہمسایہ ملک کے ساتھ اسے خود ہی معاملات طے کرنا ہوں گے تو کیف کی قیادت بھی شاید نیٹو میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کر کے ماسکو کو بالواسطہ طور سے للکارنے کی کوشش نہ کرتی۔

اس پہلو سے جائزہ لیا جائے تو یوکرین میں ہونے والی تباہی کا صرف روس یا ولادیمیر پوتن ذمے دار نہیں ہوں گے بلکہ اس کی اخلاقی اور اسٹرٹیجک ذمے داری امریکا اور اس کے حلیف ممالک پر بھی عائد ہوگی۔ یوکرین کو ایک بڑے اور طاقت ور ہمسائے کو اشتعال دلانے پر آمادہ کر کے اب یہ ممالک اقتصادی پابندیوں کے ذریعے یوکرین کی ''حفاظت'' کرنا چاہتے ہیں۔

اگر ہم اس حقیقت کو جاننے کی کوشش کریں کہ روسی صدر پوتن کو بھی اس جنگ جوئی کے مضمرات کا اندازہ ہو گا اور وہ اس کے اقتصادی بوجھ، سفارتی عواقب اور ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات سے بھی آگاہ ہوں گے لیکن انھیں یہ بھی علم ہے کہ یورپ اپنی انرجی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس سے فراہم ہونے والے تیل و گیس کا محتاج ہے اور وہ غیر معینہ مدت تک روس کے ساتھ دوری برقرار نہیں رکھ سکتا۔

روس کے موجودہ صدر پیوٹن کے حوالے سے کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس نے مغرب اور امریکا کو ایک بار پھر مشکل میں ڈال دیا ہے۔ یوکرین پر حملہ جیسا بھی اقدام ہے مگر اس میں شک نہیں امریکا اور مغرب نے اس کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیا اور اگر یہ ان کی سازش ہے تو وہ اس میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

صدر پیوٹن نے روس کو جس طرح تیزی سے مستحکم کیا اور اس کی مالی حالت قابل رشک بنا دی تو یہ امریکا اور اس کے اتحادیوں سے ہضم نہیں ہورہا تھا اس لیے تو انھوں نے یوکرین کی صورت میں روس کے لیے ایک ایسا مسئلہ کھڑا کیا کہ جس سے نمٹنا روس کے لیے کسی بھی صورت آسان نہیں ہو،اگر وہ کچھ نہیں کرتا اور یوکرین کو نیٹو کا رکن بننے دیتا ہے تو یہ دشمن کے دروازے پر آنے والی بات ہے اور اگر وہ یوکرین پر حملہ کرتا ہے جیسا کہ اس نے کیا تو پھر اس کے معاشی اثرات ایک بار پھر روس کو کمزور کرنے کا باعث ہوں گے اور یہ امریکا اور نیٹو ممالک چاہتے ہیں۔

پیوٹن کی شکل میں جس دن سے ماسکو میں جو شخص برسراقتدار ہے وہ ایک سخت گیر قسم کا قوم پرست ہے اورلگ یہ رہا ہے کہ وہ وسطی ایشیا کی ان ریاستوں کو دوبارہ سویت یونین کے جھنڈے کے نیچے ایک دن جمع کر کے رہے گا ،جن کو چند سال قبل امریکا نے ایک سازش کے تحت سوویت یونین سے توڑا تھا۔

دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بعد عالمی مارکیٹوں میں تیل کی قیمت بڑھنے کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہونگے ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 102 ڈالرفی بیرل سے اوپر جاچکی ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 7 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ روس کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ انٹرنیشنل کمیونٹی کے ساتھ بیٹھے اور اس مسئلے کا حل نکالے یا پھر مذاکرات کی میز پر آئے،لیکن کیا روس ایسا فوری طور پر کرے گا، جس کا جواب نفی میں ہے ، یہ عالمی طاقتوں کا کھیل ہے ، کون ،کیا چال چل جائے کچھ پتہ نہیں ،تاریخ بتاتی ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد لیگ آف نیشن وجود میں آئی جب کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کا ادارہ وجود میں آیا ، لیکن دونوں ادارے طاقتوروں کے جنگی جنون کو روکنے میں ناکام رہے۔

انسانیت کے حوالے سے دیکھا جائے تو جنگ تباہی ہے، بربادی ہے، نقصان صرف اور صرف یوکرین کے عوام کا ہورہا ہے، لہٰذا اقوام عالم جنگ رکوانے کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لائے، تاکہ امن کی راہ ہموار ہوسکے ۔
Load Next Story