حکومت آئینی ذمے داریوں کا احساس کرے عدالت کو ایکشن پر مجبور نہ کیا جائے سپریم کورٹ

الیکشن کمشنر،چیئرمین فیڈرل سروسزٹریبونل کےعہدے2013سےخالی ہیں،حکومت بتائےکیاملک کو ایڈہاک ازم پر ہی چلانا ہے؟ جسٹس ثاقب

وزیر اعظم نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلیے مشاورت شروع کر دی،اٹارنی جنرل، ایک ہفتے میں رپورٹ طلب ، سماعت4مارچ تک ملتوی۔ فوٹو: فائل

اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیاہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلیے مشاورت کا عمل شروع ہو گیا ہے جبکہ جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ حکومت کو اپنی آئینی ذمے داریوں کا خود احساس ہو نا چاہیے، عدالت کو ایکشن لینے پر مجبور نہ کیا جائے۔

بدھ کو چیئرمین فیڈرل سروسز ٹریبونل (ایف ایس ٹی) اور چیف الیکشن کمشنرکی عدم تقرری کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے دوران فاضل جج نے کہاکہ اخبارات میں سرخیاں چھاپنے کاشوق نہیں لیکن جب حکومت کام نہیں کرے گی تو نوٹس بھی لیں گے اور مداخلت بھی کریں گے، ریاستیں ایڈہاک ازم پر نہیں چلتیں، حکومت سے میرا سوال ہے کہ کیا ملک کو ایڈہاک ازم پر ہی چلانا ہے؟ فاضل جج نے کہا کہ عوام کو انتظامی نااہلیوں کے رحم کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیڈرل سروسز ٹریبونل کی عدم فعالیت اور چیف الیکشن کمشنرکی عدم تقرری کا سخت نوٹس لیا تھا اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اورسیکریٹری قانون کو طلب کیا تھا، بدھ کو دونوں سیکریٹری عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ فیڈرل سروسز ٹریبونل ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے اوراسٹینڈنگ کمیٹی میں مذکورہ بل کا جائزہ لیا جارہا ہے۔


جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ چیئرمین فیڈرل سروسز ٹریبونل کا عہدہ مئی 2013 سے خالی ہے، بل منظور ہوگا یا نہیں لیکن اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ ایک اہم ریاستی ادارے کو غیر فعال رکھا جائے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنرکا آئینی عہدہ گزشتہ6 ماہ سے خالی ہے،کیا حکومت کو اپنی آئینی ذمے داریوں کا احساس نہیں ہے؟ عدالت نے سیکریٹری پارلیمانی امورکو فوری طور پرطلب کرتے ہوئے وضاحت طلب کی کہ اس ضمن میں ضروری انتظامی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔اسپیشل سیکریٹری وزارت قانون جسٹس ریٹائرڈ رضا خان نے کہاکہ ایف ایس ٹی کا قانون سپریم کورٹ نے کالعدم کر دیا ہے اور چیئرمین کی تقرری میں چیف جسٹس سے مشاورت کو لازمی قرار دیا ہے، اس وقت چیئرمین ایف ایس ٹی کی تقرری کاکوئی قانون موجود نہیں۔ اس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ایف ایس ٹی غیر فعال ہوگیا اور ہزاروں مقدمے بند ہوگئے۔

عدالت نے صورتحال پر وضاحت کیلیے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر طلب کر لیا۔ وقفے کے بعد اٹارنی جنرل اور سیکریٹری پارلیمانی امور پیش ہوئے تو جسٹس ثاقب نثار نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ ایف ایس ٹی غیر فعال ہے اور سائلین ہائی کورٹ سے رجوع کررہے ہیں، سائلین کوانتظامیہ کی نااہلیوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ اگست سے خالی ہے، سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی اضافی ذمے داریاں لمبے عرصے کے لیے دینا انتہائی نامناسب ہے، جج کا اصل کام مقدمات کے فیصلے کرنا ہے انتظامی امور چلانانہیں۔

اٹارنی جنرل سلمان بٹ نے کہاکہ وزیر اعظم نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلیے قائد حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت شروع کر دی ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں اور ایک ہفتے میں اب تک کیے گئے اقدامات کے بارے میں جامع جواب جمع کرائیں۔ عدالت نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ ان اہم آئینی عہدوں کی تفصیل دیں جو خالی ہیں، اسپیشل سیکریٹری قانون کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایف ایس ٹی بل کے حوالے سے پیش رفت کی رپورٹ دیں اور ایک جامع جواب میں بتایا جائے کہ اگر قانون نہ ہو تو ایک اہم ریاستی ادارے کی اہم اسامی کو خالی رکھا جاسکتا ہے یا نہیں اور اس کو پر کرنے کا قانونی طریقہ کارکیا ہے، سیکریٹری پارلیمانی امور سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کی سمری میں تاخیر کی وجوہات طلب کی گئیں، مزید سماعت 4 مارچ کو ہو گی۔
Load Next Story