پاکستان میں قلت آب کا مسئلہ شدید ہوتا جارہا ہے ایشیائی بینک
دنیا میں پانی کے مسائل کا سب سے زیادہ سامنا پاکستان کو ہے، آبی ذخائر صرف 30 دن کے ہیں
زراعت اورانسانی ضروریات کیلیے پانی کی دستیابی انتہائی کم ہے، اہم اقدام ضروری ہیں، رپورٹ۔ فوٹو: فائل
ملک میں نہروں کے ذریعے 80فیصد زرعی رقبے کی آبپاشی کی جاتی ہے، زرعی شعبے کی ترقی کے لیے آبپاشی کے نظام کی بہتری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق دنیامیں پانی کے مسائل کاسب سے زیادہ سامناپاکستان کوہے جہاں پانی کی قلت بڑھتی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں نہ صرف زرعی شعبے کوپانی کی قلت درپیش ہے بلکہ انسانی ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی بھی فی کس ایک ہزارکیوبک میٹرسالانہ سے کم ہے۔ پاکستان سے ملتے جلتے موسم کے ممالک میں پانی کے ایک ہزاردن کے ذخیرے کی سفارش کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں آبی ذخائرسے ملک کی 30دن کی ضروریات کوہی پوراکیا جاسکتا ہے۔ اے ڈی بی نے غذائی تحفظ کے استحکام اورزرعی پیداوارمیں اضافے کیلیے پانی کے ذخائر، تقسیم میں شفافیت اورآبپاشی کے پانی کی قیمتوں میں کمی کے اقدام کوانتہائی اہم قراردیا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق دنیامیں پانی کے مسائل کاسب سے زیادہ سامناپاکستان کوہے جہاں پانی کی قلت بڑھتی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں نہ صرف زرعی شعبے کوپانی کی قلت درپیش ہے بلکہ انسانی ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی بھی فی کس ایک ہزارکیوبک میٹرسالانہ سے کم ہے۔ پاکستان سے ملتے جلتے موسم کے ممالک میں پانی کے ایک ہزاردن کے ذخیرے کی سفارش کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں آبی ذخائرسے ملک کی 30دن کی ضروریات کوہی پوراکیا جاسکتا ہے۔ اے ڈی بی نے غذائی تحفظ کے استحکام اورزرعی پیداوارمیں اضافے کیلیے پانی کے ذخائر، تقسیم میں شفافیت اورآبپاشی کے پانی کی قیمتوں میں کمی کے اقدام کوانتہائی اہم قراردیا ہے۔