روس یوکرین جنگ… کیا رخ اختیار کرے گی
روس کے حلیف ممالک ظاہری طورپر ابھی تک خاموش ہیں اور مذاکرات کے ذریعے اس تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی بات کررہے ہیں
روس کے حلیف ممالک ظاہری طورپر ابھی تک خاموش ہیں اور مذاکرات کے ذریعے اس تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی بات کررہے ہیں۔ فوٹو: فائل
کراچی:
روس کے یوکرین پر حملے جاری ہیں، وسیع پیمانے پر تباہی کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔تباہ شدہ عمارتیں،بنیادی اسٹرکچر کی بربادی،فوجی و شہری ہلاکتوں اور بے گناہ بچوں کی اموات دردد ناک المیہ ہے ، یوکرین کی تباہی وبربادی کی تمام تر ذمے داری ان عالمی طاقتوں پر عاید ہوتی ہے، جنھوں نے یوکرین کو جنگ کے لیے اکسایا اور وقت پڑنے پر اسے تنہا چھوڑدیا۔
اس کی بنیادی وجہ روس کی فوجی اور معاشی طاقت کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ روسی سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں صدرپوتن کا کہنا تھا کہ نیٹو کے اہم رکن ممالک کی جانب سے ہمارے ملک کے خلاف جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
اس لیے میں نے وزیر دفاع اور آرمی چیف کو حکم دیا ہے کہ وہ نیوکلیئر فورس کو تیار رکھیں۔چین کا کہنا ہے کہ روس یوکرین کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے ماسکو پر مغربی پابندیوں کی حمایت نہیں کرتے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن کی سربراہ نے یوکرین پر روسی حملے کے چوتھے روز روسی پروازوں کے یورپ کی فضائی حدود کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیاہے۔
حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ تنازع دو ملکوں نہیں، دو نظاموں کی بقا کی جنگ ہے ،سرمایہ دارانہ نظام کو اِس وقت مختلف نوعیت کے خطرات لاحق ہیں انھی خطرات سے بچانے کے لیے نیٹو کی صورت میں محافظ سرگرم ہیں،یوکرین میں یہی جنگ لڑی جارہی ہے۔روس بالکل تنہا نہیں ہے اور نہ کسی ملک میں اس پر حملہ کرنے کی طاقت موجود ہے۔
روس کے حلیف ممالک ظاہری طورپر ابھی تک خاموش ہیں اور مذاکرات کے ذریعے اس تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی بات کررہے ہیں،لیکن اگر عالمی طاقتیں یوکرین کی حمایت میں میدان جنگ میں اتریں گی تو کیا روس کے دوست اسے تنہا چھوڑ دیں گے؟ یہ کیسے ممکن ہے!یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں یوکرین کی حمایت میں روس کے خلاف میدان میں اترنے سے بچ رہی ہیں۔
خاص طورپر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک۔ روس اور اس کے اتحادیوں نے شام، یمن، عراق اورافغانستان جیسے ملکوں میں امریکی اتحادی افواج کو دھول چٹائی ہے،لہٰذا 'نیٹوافواج' کبھی روس کی طرف نظریں اٹھاکر نہیں دیکھ سکتیں،یہ دنیا جانتی ہے۔ بعض ماہرین یہ دعویٰ کہ روس اور یوکرین کی طاقت آزمائی تیسری جنگ عظیم کا شاخسانہ تو نہیں۔اول تو یوکرین ابھی 'نیٹو ممالک' میں شامل نہیں ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو نیٹو افواج کو اپنے حلیف کے وقار کی حفاظت کے لیے میدان جنگ میں اتر نا پڑتا۔ نیٹو معاہدے کے آرٹیکل پانچ کے تحت اگر کوئی اس کی حلیف ریاست پر حملہ آور ہوتا ہے تو نیٹو میں شامل تمام ممالک کو اس کے دفاع کے لیے آنا ہوگا،اگرچہ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ نیٹو کا حصہ بننا چاہتا ہے لیکن وہ ابھی تک نیٹو اتحاد کا حصہ نہیں ہے اور صدر پوتن یوکرین کی نیٹو اتحاد میں شمولیت کے سخت مخالف ہیں۔البتہ چار ایسی ریاستیں نیٹو اتحاد میں شامل ہو چکی ہیں جو ماضی میں سوویت یونین کے وقت ماسکو کے دائرہ اثر میں تھیں۔
ان میں پولینڈ، ایسٹونیا، لٹویا اور لیتھونیا شامل ہیں،جو روس کے لیے باعث تشویش ہے۔ماضی میں ماسکو کے دائرہ اثر میں رہنے والے ممالک کو خدشہ ہے کہ روس یوکرین تک محدود نہیں رہے گا اور وہ ان ممالک میں بسنے والے روسی نسل کے باشندوں کی مدد کے بہانے ان پر بھی حملہ آور ہو سکتا ہے، جیساکہ یوکرین جنگ کے موقعے پر روسی صدر کے بیانات سے اندازہ ہوتاہے۔
اسی وجہ سے نیٹو نے حالیہ دنوں میں بالٹک ریاستوں میں اضافی فوجی تعینات کیے ہیں،چونکہ یوکرین نیٹو میں شامل نہیں ہے اس لیے نیٹو ممالک کبھی براہ راست روس کے ساتھ پنجہ آزمائی نہیں کرسکتے،لہٰذا تیسری جنگ عظیم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔جس وقت روس نے یوکرین کی سرحدوں پر اپنی فوجوں کو تعینات کیا اسی وقت امریکا اور اس کے حلیف ممالک نے اپنے سفیروں،مشیروں اور فوجی تربیت کاروں کو واپس بلالیاتھا۔
فوجی تربیت کاروں کو واپس بلانے کے بعد امریکا کا یہ کہنا کہ ہم یوکرین کی فوجوں کو تربیت دیں گے،یوکرین کے ساتھ کھلا ہوا مذاق ہے۔صدر بائیڈن نے واضح طور پر کہا کہ یوکرین میں صورتحال کتنی بھی سنگین کیوں نہ ہو ہم اپنی فوجوں کو یوکرین کی سرزمین پر تعینات نہیں کریں گے،اس سے امریکی منافقانہ سیاست کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔
امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے اِس جنگ کو ٹالنا بہت آسان تھا اگر نیٹوکی طرف سے یوکرین کو ممبر نہ بنانے کی یقین دہانی کرادی جاتی تو روس ہر گز سرحدوں کو پامال نہ کرتامگر نیٹوکو شایدیقین تھا کہ پولینڈ،لٹویااور ایسٹونیا کی طرح یوکرین کے ممبر بننے پر بھی روس اس حد تک نہیں جائے کہ یوکرین پر حملہ کردے۔
لیکن تمام اندازے غلط ثابت ہوئے اور روس وعدوں سے انحراف کرنے پر مجبورہواجس کے جواب میں سرمایہ دارانہ نظام کے بطور نگہبان امریکا اور مغربی ممالک پر مشتمل نیٹواتحاد نے قدرے سخت موقف اختیار کیا ہے لیکن روس یوکرین تنازع کے عالمی جنگ بننے کا قطعی کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ جب تک نیٹو ممالک کو خطرہ محسوس نہیں ہوتا ، وہ آگے نہیں بڑھیں گے ،مزید یہ کہ عالمی جنگ تبھی ممکن ہے جب روسی اور امریکی فوجیں ٹکراجائیں، روسی فوجوں کا سرحدیں پارکرنے کو دونظاموں کی بقا کی کشاکش کے تناظر میں دیکھیں توروس یوکرین تنازع سمجھنا مشکل نہیں۔
اس سارے تنازع میں اقوام متحدہ بے بس نظر آرہی ہے، نہ صرف روس کو ویٹو کا حق حاصل ہے بلکہ چین جیسے بڑے اتحاد ی کی رفاقت بھی میسر ہے، اسی لیے یو این او اُس کے خلاف قرارداد پاس کرنے یا کارروائی سے قاصر ہے۔ جنرل سیکریٹری انتونیوگوتریس لاکھ اپیل کریں یا کسی فیصلہ کن اقدام کا عندیہ دیں، روس کو باز نہیں رکھا جا سکتا، البتہ مغربی ممالک اور امریکا کی معاشی پابندیاں اُس کی معیشت کو کسی حد تک نقصان پہنچا سکتی ہیں مگریورپ میں توانائی کا بحران بھی یقینی ہے، نیٹو ممالک کی اشتعال انگیزی اور روسی جارحیت سے کسی نظام کا تحفظ تو نہیں ہو سکتا مگر وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے دنیا میں بھوک و افلاس بڑھ جائے گی۔
امریکا نے جس اسلامی ملک پربھی چڑھائی کی فوجی و سویلین آبادی کو بے دریغ کارپٹڈ بمباری سے تباہ وبرباد کردیا مگر روس نے میزائل ڈیفنس سسٹم،بحری وفضائی انفرا اسٹرکچر، ایئرپورٹس سمیت مخصوص اہداف کو نشانہ بنایاہے، اِس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ روس کی کارروائی محتاط ہے اوروہ اپنی سلامتی کو لاحق خطرات کم کر ناچاہتا اور یوکرین کوغیر ملکی مداخلت سے پاک دیکھنا چاہتا ہے۔ یوکرین میں روس کی موجودہ جارحیت سے سرمایہ دارانہ نظام کو نقصان نہیں ہوسکتا ،اسی لیے روس کا کسی طرف سے عملی طور پر جواب کا امکان کم ہے۔
اس وقت عالمی میڈیا کو یوکرین کی مظلومیت نظر آرہی ہے لیکن یمن،شام اور فلسطین کے عوام کی مظلومیت پر ان کی کبھی نگاہ نہیں گئی۔کیا امریکا اور اس کی اتحادی فوجوں نے بے گناہ انسانوں کو بیدردی کے ساتھ قتل نہیں کیا۔کیا یمن کے عوام پر جنگ کے بعد وبائی امراض مسلط نہیں ہیں؟ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور عوام بے گھر صحراؤں اور کیمپوں میں رہنے کے لیے مجبور ہیں۔یمن اس وقت بدترین جنگی جرائم کا شکار ہے مگر عالمی میڈیا کے لیے یمن کے عوام کی مظلومیت قابل توجہ نہیں ہے۔
شام میں جس طرح اسرائیل اور اس کے اتحادی فوجیوں نے اس کی خودمختاری پر حملہ کیا،عالمی اداروں اور میڈیا نے کبھی اس کی مذمت نہیں کی۔عراق کو مفروضات کی بنیاد پر تباہ کردیا گیا،جس کی رپوٹ منظر عام پر آچکی ہے،مگر عراق کے مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔فلسطینی آئے دن اسرائیلی فوجیوں کی جارحیت کا شکار ہوتے رہتے ہیں مگر عالمی میڈیا فلسطین کے ظلم اور اسرائیل کی مظلومیت کا اظہار کرکے اپنے ضمیر کو نیلام کرتارہتاہے۔
عالمی صورتحال اب مکمل طور پر بدل چکی ہے، اسلامی ممالک کے خلاف کارروائیوں کے دوران اقوامِ متحدہ نے بھر پور ساتھ دیا کیونکہ امریکا نے سب طاقتوں کو باور کرادیا تھا کہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے، کسی مذہب یا نظام کے خلاف نہیں، اگردہشت گردوں کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی گئی تو دنیا کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔
اسی لیے سلامتی کونسل کے مستقل ممبران نے ساتھ دیا مگر یوکرین ایشومیں صورتحال مختلف ہے، نہ صرف روس کو ویٹو کا حق حاصل ہے بلکہ چین جیسے بڑے اتحاد ی کی رفاقت بھی میسر ہے، اسی لیے یو این او اُس کے خلاف قرارداد پاس کرنے یا کارروائی سے قاصر ہے۔
امریکا اور اس کے حلیف ممالک کسی کے سگے نہیں ہیں۔انھیں اپنے مفادات سے مطلب ہے، خواہ اس کے لیے کسی مظلوم ملک کو تباہ و برباد ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔اس لیے عالمی طاقتوں کے بہکاوے میں آکریوکرین کو خود کو جنگ کی بھٹی میں نہیں جھونکنا چاہیے تھا ۔روس،یوکرین تنازع سے عالمی منڈی میں خام تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافے سے غذائی اجناس کی قیمتوں میں ہوشرباگرانی آئے گی، جن کے گہرے اثرات سے یورپ سمیت پوری دنیا شدید متاثر ہوگی۔
مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ کے جودرجن بھر ممالک میں یوکرین سے گندم درآمد کرتے ہیں، میں آٹے کا بحران پیداہوگا یورپ کا ایک مخمصہ یہ ہے کہ اگر یوکرین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو دفاعی حوالے سے غیر محفوظ ہونے کے علاوہ گیس،پیٹرول اور اشیائے ضروریہ کے حوالے سے بھی ہر وقت خطرات کی زدمیں رہیں گے، اِس لیے سرمایہ دارانہ نظام کاتحفظ کرنے کے بجائے روس اور یوکرین تنازع جتناجلد ختم کرایا جائے ،دنیا کے لیے یہی بہتر ہے۔
روس کے یوکرین پر حملے جاری ہیں، وسیع پیمانے پر تباہی کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔تباہ شدہ عمارتیں،بنیادی اسٹرکچر کی بربادی،فوجی و شہری ہلاکتوں اور بے گناہ بچوں کی اموات دردد ناک المیہ ہے ، یوکرین کی تباہی وبربادی کی تمام تر ذمے داری ان عالمی طاقتوں پر عاید ہوتی ہے، جنھوں نے یوکرین کو جنگ کے لیے اکسایا اور وقت پڑنے پر اسے تنہا چھوڑدیا۔
اس کی بنیادی وجہ روس کی فوجی اور معاشی طاقت کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ روسی سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں صدرپوتن کا کہنا تھا کہ نیٹو کے اہم رکن ممالک کی جانب سے ہمارے ملک کے خلاف جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
اس لیے میں نے وزیر دفاع اور آرمی چیف کو حکم دیا ہے کہ وہ نیوکلیئر فورس کو تیار رکھیں۔چین کا کہنا ہے کہ روس یوکرین کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے ماسکو پر مغربی پابندیوں کی حمایت نہیں کرتے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن کی سربراہ نے یوکرین پر روسی حملے کے چوتھے روز روسی پروازوں کے یورپ کی فضائی حدود کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیاہے۔
حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ تنازع دو ملکوں نہیں، دو نظاموں کی بقا کی جنگ ہے ،سرمایہ دارانہ نظام کو اِس وقت مختلف نوعیت کے خطرات لاحق ہیں انھی خطرات سے بچانے کے لیے نیٹو کی صورت میں محافظ سرگرم ہیں،یوکرین میں یہی جنگ لڑی جارہی ہے۔روس بالکل تنہا نہیں ہے اور نہ کسی ملک میں اس پر حملہ کرنے کی طاقت موجود ہے۔
روس کے حلیف ممالک ظاہری طورپر ابھی تک خاموش ہیں اور مذاکرات کے ذریعے اس تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی بات کررہے ہیں،لیکن اگر عالمی طاقتیں یوکرین کی حمایت میں میدان جنگ میں اتریں گی تو کیا روس کے دوست اسے تنہا چھوڑ دیں گے؟ یہ کیسے ممکن ہے!یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں یوکرین کی حمایت میں روس کے خلاف میدان میں اترنے سے بچ رہی ہیں۔
خاص طورپر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک۔ روس اور اس کے اتحادیوں نے شام، یمن، عراق اورافغانستان جیسے ملکوں میں امریکی اتحادی افواج کو دھول چٹائی ہے،لہٰذا 'نیٹوافواج' کبھی روس کی طرف نظریں اٹھاکر نہیں دیکھ سکتیں،یہ دنیا جانتی ہے۔ بعض ماہرین یہ دعویٰ کہ روس اور یوکرین کی طاقت آزمائی تیسری جنگ عظیم کا شاخسانہ تو نہیں۔اول تو یوکرین ابھی 'نیٹو ممالک' میں شامل نہیں ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو نیٹو افواج کو اپنے حلیف کے وقار کی حفاظت کے لیے میدان جنگ میں اتر نا پڑتا۔ نیٹو معاہدے کے آرٹیکل پانچ کے تحت اگر کوئی اس کی حلیف ریاست پر حملہ آور ہوتا ہے تو نیٹو میں شامل تمام ممالک کو اس کے دفاع کے لیے آنا ہوگا،اگرچہ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ نیٹو کا حصہ بننا چاہتا ہے لیکن وہ ابھی تک نیٹو اتحاد کا حصہ نہیں ہے اور صدر پوتن یوکرین کی نیٹو اتحاد میں شمولیت کے سخت مخالف ہیں۔البتہ چار ایسی ریاستیں نیٹو اتحاد میں شامل ہو چکی ہیں جو ماضی میں سوویت یونین کے وقت ماسکو کے دائرہ اثر میں تھیں۔
ان میں پولینڈ، ایسٹونیا، لٹویا اور لیتھونیا شامل ہیں،جو روس کے لیے باعث تشویش ہے۔ماضی میں ماسکو کے دائرہ اثر میں رہنے والے ممالک کو خدشہ ہے کہ روس یوکرین تک محدود نہیں رہے گا اور وہ ان ممالک میں بسنے والے روسی نسل کے باشندوں کی مدد کے بہانے ان پر بھی حملہ آور ہو سکتا ہے، جیساکہ یوکرین جنگ کے موقعے پر روسی صدر کے بیانات سے اندازہ ہوتاہے۔
اسی وجہ سے نیٹو نے حالیہ دنوں میں بالٹک ریاستوں میں اضافی فوجی تعینات کیے ہیں،چونکہ یوکرین نیٹو میں شامل نہیں ہے اس لیے نیٹو ممالک کبھی براہ راست روس کے ساتھ پنجہ آزمائی نہیں کرسکتے،لہٰذا تیسری جنگ عظیم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔جس وقت روس نے یوکرین کی سرحدوں پر اپنی فوجوں کو تعینات کیا اسی وقت امریکا اور اس کے حلیف ممالک نے اپنے سفیروں،مشیروں اور فوجی تربیت کاروں کو واپس بلالیاتھا۔
فوجی تربیت کاروں کو واپس بلانے کے بعد امریکا کا یہ کہنا کہ ہم یوکرین کی فوجوں کو تربیت دیں گے،یوکرین کے ساتھ کھلا ہوا مذاق ہے۔صدر بائیڈن نے واضح طور پر کہا کہ یوکرین میں صورتحال کتنی بھی سنگین کیوں نہ ہو ہم اپنی فوجوں کو یوکرین کی سرزمین پر تعینات نہیں کریں گے،اس سے امریکی منافقانہ سیاست کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔
امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے اِس جنگ کو ٹالنا بہت آسان تھا اگر نیٹوکی طرف سے یوکرین کو ممبر نہ بنانے کی یقین دہانی کرادی جاتی تو روس ہر گز سرحدوں کو پامال نہ کرتامگر نیٹوکو شایدیقین تھا کہ پولینڈ،لٹویااور ایسٹونیا کی طرح یوکرین کے ممبر بننے پر بھی روس اس حد تک نہیں جائے کہ یوکرین پر حملہ کردے۔
لیکن تمام اندازے غلط ثابت ہوئے اور روس وعدوں سے انحراف کرنے پر مجبورہواجس کے جواب میں سرمایہ دارانہ نظام کے بطور نگہبان امریکا اور مغربی ممالک پر مشتمل نیٹواتحاد نے قدرے سخت موقف اختیار کیا ہے لیکن روس یوکرین تنازع کے عالمی جنگ بننے کا قطعی کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ جب تک نیٹو ممالک کو خطرہ محسوس نہیں ہوتا ، وہ آگے نہیں بڑھیں گے ،مزید یہ کہ عالمی جنگ تبھی ممکن ہے جب روسی اور امریکی فوجیں ٹکراجائیں، روسی فوجوں کا سرحدیں پارکرنے کو دونظاموں کی بقا کی کشاکش کے تناظر میں دیکھیں توروس یوکرین تنازع سمجھنا مشکل نہیں۔
اس سارے تنازع میں اقوام متحدہ بے بس نظر آرہی ہے، نہ صرف روس کو ویٹو کا حق حاصل ہے بلکہ چین جیسے بڑے اتحاد ی کی رفاقت بھی میسر ہے، اسی لیے یو این او اُس کے خلاف قرارداد پاس کرنے یا کارروائی سے قاصر ہے۔ جنرل سیکریٹری انتونیوگوتریس لاکھ اپیل کریں یا کسی فیصلہ کن اقدام کا عندیہ دیں، روس کو باز نہیں رکھا جا سکتا، البتہ مغربی ممالک اور امریکا کی معاشی پابندیاں اُس کی معیشت کو کسی حد تک نقصان پہنچا سکتی ہیں مگریورپ میں توانائی کا بحران بھی یقینی ہے، نیٹو ممالک کی اشتعال انگیزی اور روسی جارحیت سے کسی نظام کا تحفظ تو نہیں ہو سکتا مگر وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے دنیا میں بھوک و افلاس بڑھ جائے گی۔
امریکا نے جس اسلامی ملک پربھی چڑھائی کی فوجی و سویلین آبادی کو بے دریغ کارپٹڈ بمباری سے تباہ وبرباد کردیا مگر روس نے میزائل ڈیفنس سسٹم،بحری وفضائی انفرا اسٹرکچر، ایئرپورٹس سمیت مخصوص اہداف کو نشانہ بنایاہے، اِس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ روس کی کارروائی محتاط ہے اوروہ اپنی سلامتی کو لاحق خطرات کم کر ناچاہتا اور یوکرین کوغیر ملکی مداخلت سے پاک دیکھنا چاہتا ہے۔ یوکرین میں روس کی موجودہ جارحیت سے سرمایہ دارانہ نظام کو نقصان نہیں ہوسکتا ،اسی لیے روس کا کسی طرف سے عملی طور پر جواب کا امکان کم ہے۔
اس وقت عالمی میڈیا کو یوکرین کی مظلومیت نظر آرہی ہے لیکن یمن،شام اور فلسطین کے عوام کی مظلومیت پر ان کی کبھی نگاہ نہیں گئی۔کیا امریکا اور اس کی اتحادی فوجوں نے بے گناہ انسانوں کو بیدردی کے ساتھ قتل نہیں کیا۔کیا یمن کے عوام پر جنگ کے بعد وبائی امراض مسلط نہیں ہیں؟ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور عوام بے گھر صحراؤں اور کیمپوں میں رہنے کے لیے مجبور ہیں۔یمن اس وقت بدترین جنگی جرائم کا شکار ہے مگر عالمی میڈیا کے لیے یمن کے عوام کی مظلومیت قابل توجہ نہیں ہے۔
شام میں جس طرح اسرائیل اور اس کے اتحادی فوجیوں نے اس کی خودمختاری پر حملہ کیا،عالمی اداروں اور میڈیا نے کبھی اس کی مذمت نہیں کی۔عراق کو مفروضات کی بنیاد پر تباہ کردیا گیا،جس کی رپوٹ منظر عام پر آچکی ہے،مگر عراق کے مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔فلسطینی آئے دن اسرائیلی فوجیوں کی جارحیت کا شکار ہوتے رہتے ہیں مگر عالمی میڈیا فلسطین کے ظلم اور اسرائیل کی مظلومیت کا اظہار کرکے اپنے ضمیر کو نیلام کرتارہتاہے۔
عالمی صورتحال اب مکمل طور پر بدل چکی ہے، اسلامی ممالک کے خلاف کارروائیوں کے دوران اقوامِ متحدہ نے بھر پور ساتھ دیا کیونکہ امریکا نے سب طاقتوں کو باور کرادیا تھا کہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے، کسی مذہب یا نظام کے خلاف نہیں، اگردہشت گردوں کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی گئی تو دنیا کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔
اسی لیے سلامتی کونسل کے مستقل ممبران نے ساتھ دیا مگر یوکرین ایشومیں صورتحال مختلف ہے، نہ صرف روس کو ویٹو کا حق حاصل ہے بلکہ چین جیسے بڑے اتحاد ی کی رفاقت بھی میسر ہے، اسی لیے یو این او اُس کے خلاف قرارداد پاس کرنے یا کارروائی سے قاصر ہے۔
امریکا اور اس کے حلیف ممالک کسی کے سگے نہیں ہیں۔انھیں اپنے مفادات سے مطلب ہے، خواہ اس کے لیے کسی مظلوم ملک کو تباہ و برباد ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔اس لیے عالمی طاقتوں کے بہکاوے میں آکریوکرین کو خود کو جنگ کی بھٹی میں نہیں جھونکنا چاہیے تھا ۔روس،یوکرین تنازع سے عالمی منڈی میں خام تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافے سے غذائی اجناس کی قیمتوں میں ہوشرباگرانی آئے گی، جن کے گہرے اثرات سے یورپ سمیت پوری دنیا شدید متاثر ہوگی۔
مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ کے جودرجن بھر ممالک میں یوکرین سے گندم درآمد کرتے ہیں، میں آٹے کا بحران پیداہوگا یورپ کا ایک مخمصہ یہ ہے کہ اگر یوکرین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو دفاعی حوالے سے غیر محفوظ ہونے کے علاوہ گیس،پیٹرول اور اشیائے ضروریہ کے حوالے سے بھی ہر وقت خطرات کی زدمیں رہیں گے، اِس لیے سرمایہ دارانہ نظام کاتحفظ کرنے کے بجائے روس اور یوکرین تنازع جتناجلد ختم کرایا جائے ،دنیا کے لیے یہی بہتر ہے۔