ریلیف پیکیج دانش مندانہ فیصلہ
بلاشبہ قوم منتظر تھی کہ حکومت معاملات کو سمجھنے اور درست کرنے پر متوجہ ہو تو کچھ بات بنے
بلاشبہ قوم منتظر تھی کہ حکومت معاملات کو سمجھنے اور درست کرنے پر متوجہ ہو تو کچھ بات بنے۔ فوٹو پی پی آئی
وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی سے متاثرہ پاکستانی عوام کے لیے جس ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے ، یہ ان کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوگا۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کی لہر کے باوجود ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 10 روپے فی لٹر اور بجلی کی قیمت میں 5 روپے فی یونٹ کم کرنے کا اعلان کردیا۔
مستحق خاندانوں کے لیے مالی معاونت 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 14ہزار روپے ، گھروں کی تعمیر، کسانوں اور کاروبار کے لیے 407 ارب روپے کے قرضے فراہم کرنے، انٹرن شپ کرنے والے نوجوانوں کو 30 ہزار روپے وظیفے کی فراہمی، اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری یا جوائنٹ وینچر کی صورت میں ٹیکس میں پانچ سال کی چھوٹ اور آئی ٹی اسٹارٹ اپ پر 100 فیصد کیپٹل گین ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آیندہ بجٹ تک بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا، جب کہ دوسری جانب پٹرول کی قیمت میں دس روپے فی لیٹر کمی کردی گئی ہے ، جس کے بعد پٹرول نئی قیمت 149 روپے 86پیسے مقرر کی گئی ہے۔
بلاشبہ قوم منتظر تھی کہ حکومت معاملات کو سمجھنے اور درست کرنے پر متوجہ ہو تو کچھ بات بنے ، گو یہ اقدام ساڑھے تین برس گزرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے ، ابھی تک تو اس بات کے آثار نظر نہیں آرہے تھے کہ حکومت کچھ ریلیف کی طرف آئے گی، بہرحال دیر آید درست آید کے مصداق حکومت کی سوچ میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے ۔
ایک رائے یہ بھی سامنے آرہی تھی کہ اقتدار میں پہلی بار انٹری پانے والوں کو اب تک ٹھیک سے اندازہ نہیں ہوسکا ہے کہ حکومتی مشینری کام کس طرح کرتی ہے۔ ریاستی نظم کے اپنے اصول اور طریق ہائے کار ہیں۔ اہلِ سیاست میں بھی وہی اس کوچے میں کچھ کر پاتے ہیں جو مختلف سطحوں پر کام کرتے ہوئے بلند ترین سطح تک پہنچے ہوں یا پھر انھوں نے ایوان ہائے اقتدار میں کچھ وقت گزارا ہو۔
ایسی صورت میں بیورو کریسی کے طریق ہائے کار اور نچلے درجے کے ملازمین سے معاملات کا تھوڑا بہت ہنر آہی جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی سب سے بڑی خامی اور کمزوری یہی ہے۔ ہمارا ملک اس وقت گونا گوں مسائل میں گھرا ہوا ہے ، یو کرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے منفی اثرات دنیا سمیت پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہوںگے اور مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی ، یعنی برے حالات مگرمچھوں کی طرح منہ کھولے ہوئے ہمارے منتظر ہیں کہ کب جھپٹنے کا موقع ملے اور شکار کو لے اُڑیں۔ ایسی حالت میں عوام کی مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ؟
پاکستانی عوام پریشان ہیں کہ پہلے یوٹیلٹی اسٹورز پر پہلے سستی اشیا مل جاتی تھیں لیکن اب کہاں جائیں۔ اس وقت اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس صورتحال پر عوام اپنے ا پنے زاویہ فکر و سوچ کے لحاظ سے ہمیں تبصرے کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت افراط زر (مہنگائی) اپنی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے۔
ہمارے ہاں اس وقت بد دیانتی اور کرپشن عروج پر ہے اور ہر محکمہ و ادارہ خطرناک حد تک کر پٹ ہو چکا ہے ، جس میں مالی و قانونی و اخلاقی کرپشن شامل ہے۔ یہاں پر جائز کام کے لیے جان بوجھ کر تاخیری حربے اپنائے جاتے ہیں ، جن سے عاجز ہوکر سائل سرکاری عملہ کی فرمائشیں پوری کرنے اور رشوت دینے میں مجبور ہو جاتا ہے۔ عوام غربت کے ہاتھوں پہلے ہی پریشان ہیں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ، اس کے باوجود اشیائے صرف اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
آٹا ، دال ، دودھ ، دہی ، سبزی ، پھل اور پیٹرول کی قیمتوں کو تو کوئی روکنے والا ہی نہیں ہے۔ کراچی میں دودھ 150 روپے فی لیٹر فروخت ہونا شروع ہوگیا ہے ، آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ دراصل ہمارے پالیسی سازوں کو تو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ایک غریب کیسے گزارہ کرتا ہے۔ قیمتوں میں روز بروزاضافہ اب عوام کے لیے مسئلہ بن چکا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی بہت مہنگی اور غریب کی دسترس سے دور ہوتی جارہی ہیں۔
یہ صورت حال خطرناک ہوسکتی ہے اور ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں مہنگائی روکنے کے لیے منصوبے بنائے جاتے ہیں' ہمارے ملک میں عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں،جس کے باعث جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔
پاکستان کو آج جس مشکل کا سامنا ہے ، اس میں مہنگائی کا بے قابو جن سرفہرست ہے جو ایک طرف تو حکومتی کارکردگی پر جھاڑو پھیرتا جارہا ہے تو دوسری طرف عوام کو بھی اپنے پاؤں تلے روند رہا ہے اور اس ساری صورتحال میں سرکاری ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے اور وہ منافع خور مافیا کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں اضافہ بتایا جارہا ہے جو کسی حد تک درست بھی ہے لیکن حکومت یہ کیوں بھول جاتی ہے کہ ان ممالک کے لوگوں اور پاکستانیوں کی آمدن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ادھر وزیراعظم عمران خان نے قوم کو مزید صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی عارضی ہے گھبرانا نہیں، جلد کمی آئے گی۔ ادھر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے عوام کو گھی ، آٹا ، بجلی جیسی بنیادی اشیاء پر سبسڈی کی فراہمی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور حکومت جس کی اپنی تو کوئی معاشی سمت ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی پالیسی ہے، کیسے غریب کے مسائل کو حل کرے گی؟ حکومت کے پاس چونکہ مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے کوئی گیدڑ سنگھی نہیں ہے۔ لیکن بتدریج کام کیا جائے تو بہت کچھ بہتر ہوسکتا ہے اور عوام کو ریلیف بھی دیا جاسکتا ہے۔
موجودہ عالمی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے، پاکستان پر چہار سو خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں تو لازم ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی سلامتی کے لیے ایک نکتے پر متفق ہوں اور اس حقیقت کو جان لیں کہ اگر ملک رہے گا تو وہ یہاں سیاست کریں گے اور سیاست کرنے کے لیے عوام کا زندہ رہنا بھی بہت ضروری ہے ، اس لیے حکومت وقت پر لازم ہے کہ وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھے کیونکہ اب پچھلی حکومتوں کی بارودی سرنگیں پھیلانے سے معیشت اس نہج پر پہنچی، کہہ کر کام نہیں چلایا جاسکتا۔
اس لیے حکومت پر بڑی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ مشکل میں گھرے اپنے عوام کے لیے آسانیاں پیدا کریں کیونکہ جس طرح کے حالات پیدا کیے گئے ہیں ان میں عوام کے لیے رشتہ جسم و جاں برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے اس سے قبل کہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر سڑکوں پر آئیں اور حکومت کے لیے طبل جنگ بجائیں، حکومت عوام کی نبض پر فوری ہاتھ رکھے ۔
قوموں کی سلامتی اور تقدیر کا فیصلہ ان کی معیشت کرتی ہے اور اگر معیشت ہی دیوالیہ ہوجائے تو اس ملک کو وہ ادارہ بھی نہیں بچاسکتا۔ حکومت کو حالات اس طرف جانے سے قبل عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں وگرنہ عالمی اسٹیبلشمنٹ تو پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکی دے ہی چکی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر عدم استحکام پھیلانے کی سازش کرنے والوں کو ناکام بنائیں، یہی وقت کا تقاضا ہے۔
خوش آیند بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عوام کو ریلیف دے کر یہ اشارہ دے دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت مزید ریلیف فراہم کرے گی ۔ط
مستحق خاندانوں کے لیے مالی معاونت 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 14ہزار روپے ، گھروں کی تعمیر، کسانوں اور کاروبار کے لیے 407 ارب روپے کے قرضے فراہم کرنے، انٹرن شپ کرنے والے نوجوانوں کو 30 ہزار روپے وظیفے کی فراہمی، اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری یا جوائنٹ وینچر کی صورت میں ٹیکس میں پانچ سال کی چھوٹ اور آئی ٹی اسٹارٹ اپ پر 100 فیصد کیپٹل گین ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آیندہ بجٹ تک بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا، جب کہ دوسری جانب پٹرول کی قیمت میں دس روپے فی لیٹر کمی کردی گئی ہے ، جس کے بعد پٹرول نئی قیمت 149 روپے 86پیسے مقرر کی گئی ہے۔
بلاشبہ قوم منتظر تھی کہ حکومت معاملات کو سمجھنے اور درست کرنے پر متوجہ ہو تو کچھ بات بنے ، گو یہ اقدام ساڑھے تین برس گزرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے ، ابھی تک تو اس بات کے آثار نظر نہیں آرہے تھے کہ حکومت کچھ ریلیف کی طرف آئے گی، بہرحال دیر آید درست آید کے مصداق حکومت کی سوچ میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے ۔
ایک رائے یہ بھی سامنے آرہی تھی کہ اقتدار میں پہلی بار انٹری پانے والوں کو اب تک ٹھیک سے اندازہ نہیں ہوسکا ہے کہ حکومتی مشینری کام کس طرح کرتی ہے۔ ریاستی نظم کے اپنے اصول اور طریق ہائے کار ہیں۔ اہلِ سیاست میں بھی وہی اس کوچے میں کچھ کر پاتے ہیں جو مختلف سطحوں پر کام کرتے ہوئے بلند ترین سطح تک پہنچے ہوں یا پھر انھوں نے ایوان ہائے اقتدار میں کچھ وقت گزارا ہو۔
ایسی صورت میں بیورو کریسی کے طریق ہائے کار اور نچلے درجے کے ملازمین سے معاملات کا تھوڑا بہت ہنر آہی جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی سب سے بڑی خامی اور کمزوری یہی ہے۔ ہمارا ملک اس وقت گونا گوں مسائل میں گھرا ہوا ہے ، یو کرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے منفی اثرات دنیا سمیت پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہوںگے اور مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی ، یعنی برے حالات مگرمچھوں کی طرح منہ کھولے ہوئے ہمارے منتظر ہیں کہ کب جھپٹنے کا موقع ملے اور شکار کو لے اُڑیں۔ ایسی حالت میں عوام کی مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ؟
پاکستانی عوام پریشان ہیں کہ پہلے یوٹیلٹی اسٹورز پر پہلے سستی اشیا مل جاتی تھیں لیکن اب کہاں جائیں۔ اس وقت اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس صورتحال پر عوام اپنے ا پنے زاویہ فکر و سوچ کے لحاظ سے ہمیں تبصرے کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت افراط زر (مہنگائی) اپنی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے۔
ہمارے ہاں اس وقت بد دیانتی اور کرپشن عروج پر ہے اور ہر محکمہ و ادارہ خطرناک حد تک کر پٹ ہو چکا ہے ، جس میں مالی و قانونی و اخلاقی کرپشن شامل ہے۔ یہاں پر جائز کام کے لیے جان بوجھ کر تاخیری حربے اپنائے جاتے ہیں ، جن سے عاجز ہوکر سائل سرکاری عملہ کی فرمائشیں پوری کرنے اور رشوت دینے میں مجبور ہو جاتا ہے۔ عوام غربت کے ہاتھوں پہلے ہی پریشان ہیں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ، اس کے باوجود اشیائے صرف اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
آٹا ، دال ، دودھ ، دہی ، سبزی ، پھل اور پیٹرول کی قیمتوں کو تو کوئی روکنے والا ہی نہیں ہے۔ کراچی میں دودھ 150 روپے فی لیٹر فروخت ہونا شروع ہوگیا ہے ، آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ دراصل ہمارے پالیسی سازوں کو تو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ایک غریب کیسے گزارہ کرتا ہے۔ قیمتوں میں روز بروزاضافہ اب عوام کے لیے مسئلہ بن چکا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی بہت مہنگی اور غریب کی دسترس سے دور ہوتی جارہی ہیں۔
یہ صورت حال خطرناک ہوسکتی ہے اور ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں مہنگائی روکنے کے لیے منصوبے بنائے جاتے ہیں' ہمارے ملک میں عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں،جس کے باعث جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔
پاکستان کو آج جس مشکل کا سامنا ہے ، اس میں مہنگائی کا بے قابو جن سرفہرست ہے جو ایک طرف تو حکومتی کارکردگی پر جھاڑو پھیرتا جارہا ہے تو دوسری طرف عوام کو بھی اپنے پاؤں تلے روند رہا ہے اور اس ساری صورتحال میں سرکاری ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے اور وہ منافع خور مافیا کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں اضافہ بتایا جارہا ہے جو کسی حد تک درست بھی ہے لیکن حکومت یہ کیوں بھول جاتی ہے کہ ان ممالک کے لوگوں اور پاکستانیوں کی آمدن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ادھر وزیراعظم عمران خان نے قوم کو مزید صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی عارضی ہے گھبرانا نہیں، جلد کمی آئے گی۔ ادھر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے عوام کو گھی ، آٹا ، بجلی جیسی بنیادی اشیاء پر سبسڈی کی فراہمی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور حکومت جس کی اپنی تو کوئی معاشی سمت ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی پالیسی ہے، کیسے غریب کے مسائل کو حل کرے گی؟ حکومت کے پاس چونکہ مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے کوئی گیدڑ سنگھی نہیں ہے۔ لیکن بتدریج کام کیا جائے تو بہت کچھ بہتر ہوسکتا ہے اور عوام کو ریلیف بھی دیا جاسکتا ہے۔
موجودہ عالمی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے، پاکستان پر چہار سو خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں تو لازم ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی سلامتی کے لیے ایک نکتے پر متفق ہوں اور اس حقیقت کو جان لیں کہ اگر ملک رہے گا تو وہ یہاں سیاست کریں گے اور سیاست کرنے کے لیے عوام کا زندہ رہنا بھی بہت ضروری ہے ، اس لیے حکومت وقت پر لازم ہے کہ وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھے کیونکہ اب پچھلی حکومتوں کی بارودی سرنگیں پھیلانے سے معیشت اس نہج پر پہنچی، کہہ کر کام نہیں چلایا جاسکتا۔
اس لیے حکومت پر بڑی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ مشکل میں گھرے اپنے عوام کے لیے آسانیاں پیدا کریں کیونکہ جس طرح کے حالات پیدا کیے گئے ہیں ان میں عوام کے لیے رشتہ جسم و جاں برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے اس سے قبل کہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر سڑکوں پر آئیں اور حکومت کے لیے طبل جنگ بجائیں، حکومت عوام کی نبض پر فوری ہاتھ رکھے ۔
قوموں کی سلامتی اور تقدیر کا فیصلہ ان کی معیشت کرتی ہے اور اگر معیشت ہی دیوالیہ ہوجائے تو اس ملک کو وہ ادارہ بھی نہیں بچاسکتا۔ حکومت کو حالات اس طرف جانے سے قبل عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں وگرنہ عالمی اسٹیبلشمنٹ تو پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکی دے ہی چکی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر عدم استحکام پھیلانے کی سازش کرنے والوں کو ناکام بنائیں، یہی وقت کا تقاضا ہے۔
خوش آیند بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عوام کو ریلیف دے کر یہ اشارہ دے دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت مزید ریلیف فراہم کرے گی ۔ط