پاک چین اقتصادی پیش رفت
پاکستان چین اور چینی عوام کی اقتصادی شعبے میں تجربات وایجادات کی عملی کارکردگی سے بھی استفادہ کرے
پاکستان چین اور چینی عوام کی اقتصادی شعبے میں تجربات وایجادات کی عملی کارکردگی سے بھی استفادہ کرے. فوٹو: فائل
صدرممنون حسین نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا شاندار ترقیاتی منصوبہ بھرپور تجارتی واقتصادی سرگرمی پیدا کرتے ہوئے پورے خطے کو نمایاں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور اس سے دونوں ممالک کے عوام اور خطے کے تقریباً تین ارب لوگوں کے لیے ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی ۔ انھوں نے یہ بات چین کے صدر ژی جن پنگ سے بدھ کو یہاں عظیم عوامی ہال میں ون ٹو ون ملاقات میں کہی جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ۔اس امر میںکوئی شک و شبہ کی اب گنجائش نہیں رہی کہ پاک چین دوستی کی بنیاد باہمی اعتماد ،خیرسگالی اور دو طرفہ پر جوش محبت وتعاون پر استوار ہے، چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی نہ صرف مدد کی ہے بلکہ عالمی امور سمیت پاکستان کو درپیش مسئلہ کشمیر ،دفاعی اشتراک اور سماجی و معاشی تعاون کے لیے جب بھی پاکستان کو اپنے دوست اور برادر ممالک کی مدد کی ضرورت پڑی چین نے پیش پیش رہنے میں کبھی تاخیر نہیں کی۔ پاکستان اور چین کے عوام یک جان دو قالب پہلے بھی تھے اور آج جب صدر ممنون حسین چین کے دورہ پر ہیں اس مہر والفت کے سیاسی ،اقتصادی،اور سماجی شعبوں میں بڑے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے وسیع ترامور اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا ۔ وفود کی سطح پر مذاکرات میں صدر مملکت کی معاونت احسن اقبال، وزیراعلیٰ شہباز شریف، طارق فاطمی،مفتاح اسماعیل، راناثناء اللہ،سلمان شہباز،مراد علی شاہ، مسعودخالدنے کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے گذشتہ روز چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاک چین دوستی کو گزند نہیں پہنچا سکتی۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ وہ پاک چین دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔دورہ کے آغاز پر صدر نے چینی صدر اور عوام کو نئے چینی قمری سال پر مبارکباد دی اور ایک پرمسرت ''ایئرآف دی ہارس'' کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا ۔ پاکستان اور چین نے معیشت اور تجارت، علاقائی رابطے، توانائی اور عوامی سطح پر روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے پانچ معاہدوں پر دستخط کیے ۔ بعد ازاں چینی صدرنے ممنون حسین اور ان کے وفد کے اعزاز میں عظیم عوامی ہال میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ صدر ممنون نے نیشنل پیپلزکانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین زینگ ڈی جیانگ اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہان کے ساتھ بھی ملاقات کی۔انھوںنے دیوار چین کا دورہ بھی کیااورشاہکارفن تعمیر اور تاریخی اہمیت میں گہری دلچسپی ظاہر کی ۔
اس حوالے سے چند باتیں پاک چین تعلقات کے تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے بجا طور پر کہی جاسکتی ہیں اول یہ کہ اہل وطن کو چین سے ایک خاص فکری اور علمی نسبت ہے۔ عالمی سطح پرچین کا دیو ہیکل معاشی ڈھانچہ، سیاسی امور میں غیرجانبدارانہ اور روادارانہ طرز عمل ، بین الاقوامیت کا پرچار، امن دوستی، عسکری ترجیحات ،سماجی نظم و ضبط ، کلچر و ایجادات سمیت اقتصادی شعبے میں ہمہ ترقی اور پاکستان سے خصوصی رغبت وانسیت کو مغربی ممالک میں ہمیشہ ایک طلسم ہوشرباکی حیثیت حاصل رہی ہے۔دوم برطانیہ کے موقر جریدہ اکنامسٹ نے چین کی تجارتی صورتحال کا حال ہی میں جامع تجزیہ کیا ہے، جب کہ 100 کے قریب معاشی ماہرین نے چین کے کلیدی اقتصادی بریک تھرو پر تفصیلی بحث کرکے ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں پاک چین دوستی کے سیاسی ، سفارتی ، ثقافتی اور دو طرفہ دفاعی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں توسیع و تعاون کو مزید فروغ دیا جائے وہاں پاکستان چین اور چینی عوام کی اقتصادی شعبے میں تجربات وایجادات کی عملی کارکردگی سے بھی استفادہ کرے اور معیشت کے استحکام میں چینی ماہرین کے مختلف اقتصادی علمی،اور تکنیکی شعبوں میںبے مثال اور غیر معمولی پیش رفت کے اس میکنزم پر توجہ دے جس کے باعث چین نے گراں خوابی کو اپنی محنت شاقہ سے عظیم معاشی جدوجہد کے سانچے میں ڈھالا ہے۔ پاکستان کو دو طرفہ تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے جب کہ اقتصادی طور پر پاکستان کو دنیا کے لیے ایک معتبر ایشیائی معاشی ماڈل کی صورت پیش کرنا ہے تاکہ مستقبل میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی رفتار تیز ہو، پاکستان کے چاروں صوبوں میں مشترکہ منصوبے شروع ہوں ،غیر ملکی سرمایہ کار بلا خوف وخطر اور مکمل حفاظتی یقین دہانیوں کے ساتھ پاکستان آنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں ۔امید کی جانی چاہیے کہ صدر مملکت کے دورہ چین سے پاک چین دوستی کا رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے وسیع ترامور اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا ۔ وفود کی سطح پر مذاکرات میں صدر مملکت کی معاونت احسن اقبال، وزیراعلیٰ شہباز شریف، طارق فاطمی،مفتاح اسماعیل، راناثناء اللہ،سلمان شہباز،مراد علی شاہ، مسعودخالدنے کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے گذشتہ روز چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاک چین دوستی کو گزند نہیں پہنچا سکتی۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ وہ پاک چین دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔دورہ کے آغاز پر صدر نے چینی صدر اور عوام کو نئے چینی قمری سال پر مبارکباد دی اور ایک پرمسرت ''ایئرآف دی ہارس'' کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا ۔ پاکستان اور چین نے معیشت اور تجارت، علاقائی رابطے، توانائی اور عوامی سطح پر روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے پانچ معاہدوں پر دستخط کیے ۔ بعد ازاں چینی صدرنے ممنون حسین اور ان کے وفد کے اعزاز میں عظیم عوامی ہال میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ صدر ممنون نے نیشنل پیپلزکانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین زینگ ڈی جیانگ اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہان کے ساتھ بھی ملاقات کی۔انھوںنے دیوار چین کا دورہ بھی کیااورشاہکارفن تعمیر اور تاریخی اہمیت میں گہری دلچسپی ظاہر کی ۔
اس حوالے سے چند باتیں پاک چین تعلقات کے تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے بجا طور پر کہی جاسکتی ہیں اول یہ کہ اہل وطن کو چین سے ایک خاص فکری اور علمی نسبت ہے۔ عالمی سطح پرچین کا دیو ہیکل معاشی ڈھانچہ، سیاسی امور میں غیرجانبدارانہ اور روادارانہ طرز عمل ، بین الاقوامیت کا پرچار، امن دوستی، عسکری ترجیحات ،سماجی نظم و ضبط ، کلچر و ایجادات سمیت اقتصادی شعبے میں ہمہ ترقی اور پاکستان سے خصوصی رغبت وانسیت کو مغربی ممالک میں ہمیشہ ایک طلسم ہوشرباکی حیثیت حاصل رہی ہے۔دوم برطانیہ کے موقر جریدہ اکنامسٹ نے چین کی تجارتی صورتحال کا حال ہی میں جامع تجزیہ کیا ہے، جب کہ 100 کے قریب معاشی ماہرین نے چین کے کلیدی اقتصادی بریک تھرو پر تفصیلی بحث کرکے ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں پاک چین دوستی کے سیاسی ، سفارتی ، ثقافتی اور دو طرفہ دفاعی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں توسیع و تعاون کو مزید فروغ دیا جائے وہاں پاکستان چین اور چینی عوام کی اقتصادی شعبے میں تجربات وایجادات کی عملی کارکردگی سے بھی استفادہ کرے اور معیشت کے استحکام میں چینی ماہرین کے مختلف اقتصادی علمی،اور تکنیکی شعبوں میںبے مثال اور غیر معمولی پیش رفت کے اس میکنزم پر توجہ دے جس کے باعث چین نے گراں خوابی کو اپنی محنت شاقہ سے عظیم معاشی جدوجہد کے سانچے میں ڈھالا ہے۔ پاکستان کو دو طرفہ تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے جب کہ اقتصادی طور پر پاکستان کو دنیا کے لیے ایک معتبر ایشیائی معاشی ماڈل کی صورت پیش کرنا ہے تاکہ مستقبل میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی رفتار تیز ہو، پاکستان کے چاروں صوبوں میں مشترکہ منصوبے شروع ہوں ،غیر ملکی سرمایہ کار بلا خوف وخطر اور مکمل حفاظتی یقین دہانیوں کے ساتھ پاکستان آنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں ۔امید کی جانی چاہیے کہ صدر مملکت کے دورہ چین سے پاک چین دوستی کا رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔