’’استاد‘‘ پلیئرز کو ایشیا پر حکمرانی کے گُر سکھانے لگے
تربیتی کیمپ میں معین کے ساتھ بولنگ کوچ وبیٹنگ کنسلٹنٹ بھی خامیاں دور کرنے کیلیے کوشاں
کم وقت میں بیٹسمینوں کی تکنیک بدلنا ممکن نہ ہوگا،بیٹنگ چل گئی توگرین شرٹس دنیا کی نمبر ون ٹیم بن جائیں گے، بھارت کو آسان نہ سمجھا جائے،ظہیرعباس۔ فوٹو: پی سی بی
پاکستانی ٹیم کے ''استاد'' پلیئرز کو ایشیا پرحکمرانی کے گرُ سکھانے لگے، لاہور میں جاری تربیتی کیمپ میں چیف معین خان کے ساتھ بولنگ کوچ محمد اکرم اور بیٹنگ کنسلٹنٹ ظہیر عباس کھلاڑیوں کی خامیاں دور کرنے کیلیے کوشاں ہیں۔
محمد عرفان کی انجری کے بعد اکرم نے روٹیشن پالیسی اپنانے کا مطالبہ کر دیا ہے، ان کے مطابق ایشیا کپ میں طویل قامت پیسر کی کمی محسوس ہوگی، ہر کپتان مضبوط ترین بولنگ لائن میدان میں اتارنا چاہتا ہے لیکن بعض اوقات کسی ایک کھلاڑی کے ان فٹ ہونے سے دوسروں پر دباؤ پڑ جاتا ہے،فاسٹ بولرز کے فٹنس مسائل کے پیش نظر دونوں کپتانوں مصباح الحق، محمد حفیظ اور کوچز سے بات کرلی، ہمارے پاس اچھا بیک اپ موجود ہے، بہت جلد پیسرز کو باری باری تبدیل کرکے آرام دینے کے پروگرام پر عمل پیرا ہونگے۔ ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں، کم وقت میں بیٹسمینوں کی تکنیک تبدیل نہیں کرسکتا،کھلاڑی سخت محنت کر رہے ہیں، اگر بیٹنگ چل گئی تو گرین شرٹس دنیا کی نمبر ون ٹیم بن سکتے ہیں، بھارتی ٹیم کو حالیہ شکستوں کے بعد آسان سمجھنا درست نہ ہوگا ۔ تفصیلات کے مطابق ایشیا کپ کیلیے قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ ان دنوں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جاری ہے، چیف معین خان کے ساتھ بولنگ کوچ محمد اکرم، بیٹنگ کنسلٹنٹ ظہیر عباس اور فیلڈنگ کوچ شعیب محمد بھی پلیئرز کی رہنمائی کیلیے موجود ہیں۔
اسکواڈ میں عمر گل فٹ ہو کر واپس آئے تو محمد عرفان کو انجری نے طویل عرصے کیلیے کھیل سے دور کر دیا ہے، بولنگ کوچ محمد اکرم نے اس صورتحال میں روٹیشن پالیسی اپنانے کا مشورہ دے دیا، انھوں نے کہا کہ ہر کپتان میچ میں مضبوط ترین بولنگ لائن میدان میں اتارنا چاہتا ہے لیکن بعض اوقات کسی ایک کھلاڑی کے ان فٹ ہونے سے دوسروں پر دباؤ پڑ جاتا ہے،فاسٹ بولرز کے فٹنس مسائل دیکھتے ہوئے دونوں کپتانوں مصباح الحق، محمد حفیظ اور کوچز سے بات کی ہے، ہمارے پاس اچھا بیک اپ موجود ہے، بہت جلد پیسرز کو روٹیشن پالیسی کے تحت آرام دینے کے پروگرام پر عمل پیرا ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ محمد عرفان کو جنوبی افریقہ کیخلاف آخری ٹوئنٹی20 میں نہ کھلانے کا فیصلہ کیا تھا مگر گراؤنڈ میں جا کر عین وقت پر جنید خان فٹنس مسئلے کا شکار ہو گئے، جسکے باعث ٹرینر کی مشاورت سے عرفان کو کھلانا پڑا، وہ بہترین فاسٹ بولر ہیں، فٹنس مسائل کی وجہ سے ان کی غیر موجودگی سب کو محسوس ہو گی تاہم اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ ہمارا بولنگ اٹیک کمزور ہو گیا ہے۔
سابق پیسر نے کہا کہ پاکستان نے جنوبی افریقہ کو عرفان کے بغیر ہی شکست دی تھی، اب بھی ٹیم اس بارے میں فکر مند نہیں ہے، عمر گل نے سری لنکا کیخلاف عمدہ بولنگ سے سیریز بھی جتوائی،گھٹنے کی انجری کے بعد وہ ردھم میں آنے لگے، طلحہٰ اور بلاول بھٹی بھی بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اسپن بولنگ کا شعبہ بھی بہترین ہے۔محمد اکرم نے کہا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ محنت کرتا اور انھیں پلاننگ بتاتا ہوں مگر گراؤنڈ کے اندر جا کر انہی کو اس پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے۔ بولنگ کوچ نے کہاکہ ایشیا کپ میں کوئی فیورٹ نہیں تمام ٹیموں کی فتح کے امکانات ہوںگے، افغانستان کو بھی آسان نہیں سمجھنا چاہیے،ایونٹ میں کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔
اس موقع پر ظہیر عباس نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ کیمپ میں شریک تمام کرکٹرز میں سیکھنے کی جستجو ہے، ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی 20 کیلیے خوب محنت بھی کر رہے ہیں، تاہم بنگلہ دیش میں شیڈول 5 ملکی ایونٹ سر پر ہے، میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں، تمام کھلاڑیوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں لیکن کم وقت میں قومی ٹیم کی بیٹنگ تکنیک کو نہیں بدل سکتا، کوشش ہو گی کہ بیٹسمینوں کو حالات اور ضرورت کے مطابق کھیلنے کے بارے میں بتاؤں اور وہ ایونٹ جیت کر بھی آئیں، ہمارے بیٹسمین ایک اچھی پارٹنرشپ کے بعد ریلیکس اوربعد میں آنے والے جلد آؤٹ ہو جاتے ہیں مگر اب ان کو بتا رہا ہوں کہ ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ بڑا اسکور بنایا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ گرین شرٹس ایشیا کپ میں اعزاز کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں،بولنگ اٹیک مضبوط ہے، اگر بیٹنگ کلک کر گئی تو ٹیم نمبر ون بن جائے گی۔ ایک سوال پر سابق عظیم بیٹسمین نے کہا کہ بھارتی ٹیم اگر ایشیا کی شیر تو پاکستان ببر شیر ہے، روایتی حریف کی حالیہ خراب کارکردگی نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر تھی، بنگلہ دیش میں کنڈیشنز مختلف ہونگی، تاہم امید ہے کہ قومی ٹیم ایک بڑے میچ کا دبائو نہ لیتے ہوئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔
محمد عرفان کی انجری کے بعد اکرم نے روٹیشن پالیسی اپنانے کا مطالبہ کر دیا ہے، ان کے مطابق ایشیا کپ میں طویل قامت پیسر کی کمی محسوس ہوگی، ہر کپتان مضبوط ترین بولنگ لائن میدان میں اتارنا چاہتا ہے لیکن بعض اوقات کسی ایک کھلاڑی کے ان فٹ ہونے سے دوسروں پر دباؤ پڑ جاتا ہے،فاسٹ بولرز کے فٹنس مسائل کے پیش نظر دونوں کپتانوں مصباح الحق، محمد حفیظ اور کوچز سے بات کرلی، ہمارے پاس اچھا بیک اپ موجود ہے، بہت جلد پیسرز کو باری باری تبدیل کرکے آرام دینے کے پروگرام پر عمل پیرا ہونگے۔ ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں، کم وقت میں بیٹسمینوں کی تکنیک تبدیل نہیں کرسکتا،کھلاڑی سخت محنت کر رہے ہیں، اگر بیٹنگ چل گئی تو گرین شرٹس دنیا کی نمبر ون ٹیم بن سکتے ہیں، بھارتی ٹیم کو حالیہ شکستوں کے بعد آسان سمجھنا درست نہ ہوگا ۔ تفصیلات کے مطابق ایشیا کپ کیلیے قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ ان دنوں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جاری ہے، چیف معین خان کے ساتھ بولنگ کوچ محمد اکرم، بیٹنگ کنسلٹنٹ ظہیر عباس اور فیلڈنگ کوچ شعیب محمد بھی پلیئرز کی رہنمائی کیلیے موجود ہیں۔
اسکواڈ میں عمر گل فٹ ہو کر واپس آئے تو محمد عرفان کو انجری نے طویل عرصے کیلیے کھیل سے دور کر دیا ہے، بولنگ کوچ محمد اکرم نے اس صورتحال میں روٹیشن پالیسی اپنانے کا مشورہ دے دیا، انھوں نے کہا کہ ہر کپتان میچ میں مضبوط ترین بولنگ لائن میدان میں اتارنا چاہتا ہے لیکن بعض اوقات کسی ایک کھلاڑی کے ان فٹ ہونے سے دوسروں پر دباؤ پڑ جاتا ہے،فاسٹ بولرز کے فٹنس مسائل دیکھتے ہوئے دونوں کپتانوں مصباح الحق، محمد حفیظ اور کوچز سے بات کی ہے، ہمارے پاس اچھا بیک اپ موجود ہے، بہت جلد پیسرز کو روٹیشن پالیسی کے تحت آرام دینے کے پروگرام پر عمل پیرا ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ محمد عرفان کو جنوبی افریقہ کیخلاف آخری ٹوئنٹی20 میں نہ کھلانے کا فیصلہ کیا تھا مگر گراؤنڈ میں جا کر عین وقت پر جنید خان فٹنس مسئلے کا شکار ہو گئے، جسکے باعث ٹرینر کی مشاورت سے عرفان کو کھلانا پڑا، وہ بہترین فاسٹ بولر ہیں، فٹنس مسائل کی وجہ سے ان کی غیر موجودگی سب کو محسوس ہو گی تاہم اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ ہمارا بولنگ اٹیک کمزور ہو گیا ہے۔
سابق پیسر نے کہا کہ پاکستان نے جنوبی افریقہ کو عرفان کے بغیر ہی شکست دی تھی، اب بھی ٹیم اس بارے میں فکر مند نہیں ہے، عمر گل نے سری لنکا کیخلاف عمدہ بولنگ سے سیریز بھی جتوائی،گھٹنے کی انجری کے بعد وہ ردھم میں آنے لگے، طلحہٰ اور بلاول بھٹی بھی بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اسپن بولنگ کا شعبہ بھی بہترین ہے۔محمد اکرم نے کہا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ محنت کرتا اور انھیں پلاننگ بتاتا ہوں مگر گراؤنڈ کے اندر جا کر انہی کو اس پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے۔ بولنگ کوچ نے کہاکہ ایشیا کپ میں کوئی فیورٹ نہیں تمام ٹیموں کی فتح کے امکانات ہوںگے، افغانستان کو بھی آسان نہیں سمجھنا چاہیے،ایونٹ میں کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔
اس موقع پر ظہیر عباس نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ کیمپ میں شریک تمام کرکٹرز میں سیکھنے کی جستجو ہے، ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی 20 کیلیے خوب محنت بھی کر رہے ہیں، تاہم بنگلہ دیش میں شیڈول 5 ملکی ایونٹ سر پر ہے، میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں، تمام کھلاڑیوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں لیکن کم وقت میں قومی ٹیم کی بیٹنگ تکنیک کو نہیں بدل سکتا، کوشش ہو گی کہ بیٹسمینوں کو حالات اور ضرورت کے مطابق کھیلنے کے بارے میں بتاؤں اور وہ ایونٹ جیت کر بھی آئیں، ہمارے بیٹسمین ایک اچھی پارٹنرشپ کے بعد ریلیکس اوربعد میں آنے والے جلد آؤٹ ہو جاتے ہیں مگر اب ان کو بتا رہا ہوں کہ ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ بڑا اسکور بنایا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ گرین شرٹس ایشیا کپ میں اعزاز کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں،بولنگ اٹیک مضبوط ہے، اگر بیٹنگ کلک کر گئی تو ٹیم نمبر ون بن جائے گی۔ ایک سوال پر سابق عظیم بیٹسمین نے کہا کہ بھارتی ٹیم اگر ایشیا کی شیر تو پاکستان ببر شیر ہے، روایتی حریف کی حالیہ خراب کارکردگی نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر تھی، بنگلہ دیش میں کنڈیشنز مختلف ہونگی، تاہم امید ہے کہ قومی ٹیم ایک بڑے میچ کا دبائو نہ لیتے ہوئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔