ازبکستان پاکستان تعلقات نئی جہت
دونوں ممالک کی سیاسی قیادت باہمی تجارت اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے ذریعے باہمی منزل مقصود کی راہ پر گامزن ہے
دونوں ممالک کی سیاسی قیادت باہمی تجارت اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے ذریعے باہمی منزل مقصود کی راہ پر گامزن ہے۔ فوٹو؛ سوشل میڈیا
پاکستان اور ازبکستان نے اقتصادی ، تجارتی، سائنس، تعلیم، انفارمیشن اور مذہبی سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے 10معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے ازبک صدر شوکت مرزایوف کے ساتھ ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان اور ازبکستان کے مابین تجارت میں 50 فیصد جب کہ مشترکہ منصوبوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔
دونوں ملکوں کے کاروباری افراد کے مابین بھی روابط بڑھے ہیں، ہم نے افغانستان کے راستے روابط بڑھانے کے لیے ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے مابین سیاحت اور تجارت میں اضافہ ہو گا۔ افغانستان کے راستے چلنے والی ٹرین وسطی ایشیائی ریاستوں کوگوادر پورٹ سے ملائے گی، اس کنکٹویٹی کا زیادہ فائدہ افغانستان کو ہوگا۔
جیو اسٹرٹیجک سے جیو اکنامکس کی طرف جانے والا پاکستان دنیا بھر میں اپنے تجارتی اور معاشی تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی یہ خواہش کہ ازبکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جائے، جو وسطی ایشیا کا ایک بڑا ملک ہے، دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان ملاقات اور معاہدوں پر دستخط اسی سمت میں ایک قدم ہے اور یہ دونوں ممالک کے لیے ایک جیت تصور ہوگی۔
یہ بات خوش آیند ہے کہ ازبکستان اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ سے مثالی اور دوستانہ تعلقات ہیں اور موجودہ حکومت ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے ، پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات باہمی افہام و تفہیم ، مضبوط ثقافتی و مذہبی رشتوں پر مبنی ہیں۔
ازبکستان، جو اس وقت بیرونی تجارت کے لیے بندر عباس کی ایرانی بندرگاہ پر انحصار کرتا ہے، دوسرے متبادل ذرایع کی تلاش کر رہا ہے اور کم فاصلے، اشیاء کی نقل و حرکت پر کم لاگت ہونے کے سبب اور کچھ سیاسی وجوہات کی وجہ سے پاکستان کی بندرگاہوں کو ترجیح دے رہا ہے۔ ازبکستان پاکستان کے ساتھ دو آپشن کی ترقی پر کام کر رہا ہے۔
پہلا ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ ہے جب کہ دوسرا چین کا راستہ ہے۔ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان نے فروری میں تاشقند میں مزار شریف، کابل، پشاور ریلوے لائن کے تقریبا 600 کلومیٹرکی تعمیر کے روڈ میپ پر دستخط کیے تھے۔ اس منصوبے کے لیے، جس کی تکمیل میں4.8 بلین ڈالر کی لاگت سے پانچ سال لگیں گے، عالمی بینک سمیت بین الاقوامی قرض دینے والی ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔
حکومت پاکستان، وسطی ایشیائی سامان کے لیے خصوصی ٹرمینلز اور ان ممالک سے برآمدات کے لیے ایک خصوصی ہینڈلنگ سہولیات تعمیرکررہی ہے تاکہ اپنے سامان میں غیر ضروری تاخیر سے بچ سکے۔ چین، پاکستان، کرغزستان اور قازقستان کے مابین ٹرانزٹ ٹریفک اور تجارت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے چین، پاکستان، کرغزستان اور قازقستان کے مابین ایک معاہدے کے تحت ازبکستان بھی کواڈری لیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (کیو ٹی ٹی اے) پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں بھی پاکستان ازبکستان کی حمایت کرتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت سڑک کا منصوبہ ، پاکستان اور وسطی ایشیا کے مابین ایک متبادل رابطہ فراہم کرے گا اور شاہراہ قراقرم کے راستے سے افغانستان کو نظرانداز کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو چین کے سنکیانگ خطے اور وسطی ایشیا سے جوڑے گا۔ پاکستان اور ازبکستان کے مابین ثقافتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے، دونوں ممالک نے ہندوستان میں مغل خاندان کے بانی ظہیر الدین بابر پر ایک فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
کیونکہ، پاکستان اور ازبکستان کے نوجوانوں کو مسلمانوں اور ان کے رہنمائوں کی مشترکہ تاریخ اور ثقافت کو جاننا ہوگا۔ پاکستان، ازبکستان اور وسطی ایشیائی دیگر ریاستوں کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور عوام کے آپس کے روابط اور ثقافتی سطح پر عوام کے تبادلے جیسے شعبوں میں قریبی تعلقات استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس سے قبل، ازبکستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد العزیز کمیلوف نے 9۔10 مارچ 2021 کو پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا جس سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں پیش رفت میں اضافہ ہوا۔
پاکستان اور ازبکستان دونوں ملحقہ علاقوں میں واقع برادر مسلمان ممالک ہیں۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں باہمی تعاون کے ذریعہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے یہ اہم مواقع ہیں۔ دونوں ممالک کی درآمدات اور برآمدات بڑھانے کے لیے دوطرفہ پلیٹ فارم کے ذریعہ ایک عمدہ حکمت عملی تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے جب کہ دونوں ملکوں کی معیشتیں ایک طرح کی مصنوعات اور زراعت پر مبنی ہیں، جو دوطرفہ تجارت کے امکانات کو محدود کرتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کپاس کے شعبے میں ازبکستان ماہرین کا تعاون پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے انتہائی اہم ہوگا پنجاب اور ازبکستان کی زرعی یونیورسٹیز کو بھی ایک دوسرے کے قریب لایا جائے گا اور دونوں اطراف کے وفود یونیورسٹیز کا دورہ کر یں گے جس سے ایک دوسرے سے ریسرچ کے شعبے میں مدد ملے گی۔ پاکستان ازبکستان کی دوطرفہ تجارت، دونوں طرف سے جاری کوششوں کے بعد، پاکستان کی طرف 9.14 ملین ڈالر اور ازبکستان کی طرف 6.98 ملین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ اعداد و شمار زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں اس لیے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تجارت کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مویشیوں، ماہی گیری، آئی ٹی اور سیاحت سے باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان، گوادر اورکراچی میں بندرگاہوں اور سی پیک کے ذریعے ازبکستان کی سوئٹزرلینڈ، یورپ، اور مشرق وسطی کو برآمدات کے لیے ایک بہت ہی مختصر اور موزوں راستہ پیش کرتا ہے۔
پاکستان ازبکستان کے لیے جنوبی ایشیا اور دنیا کی بڑی منڈیوں میں داخلے کے لیے ایک اہم پل ہے۔ ترمز ، مزار شریف ،کابل ، پشاور ریلوے کی تعمیر سے نہ صرف تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو فروغ ملے گا بلکہ دونوں خطوں کے باہمی روابط کو بھی تقویت ملے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان معیشت، سیاست اور سلامتی کے شعبوں میں مستحکم اور طویل مدتی تعلقات کی تعمیر اور ترقی کے لیے ثقافتی تعلقات کو برقرار رکھنا بھی ایک اہم شرط ہے۔
ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، ازبکستان پاکستان کے ساتھ ثقافتی مکالمے کو مضبوط کرنے کے لیے ایک راستہ اختیار کر رہا ہے اور اس امید کے ساتھ کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بلندی کی رفتار کو مزید یقینی بنایا جائے گا۔ سب کے بعد، اس علاقے میں تعاون ثقافتوں کی باہمی افزودگی اور دخل اندازی، ایک مشترکہ ثقافتی اور انسانی ہمدردی کی جگہ کی تشکیل میں معاون ہے۔ ازبکستان اور پاکستان کے مابین ٹرانزٹ تجارت پہلے سے طے شدہ روٹ پر ہوگی اور اس میں صرف مخصوص بندرگاہیں اور سرحدی راستے شامل ہوں گے۔
ازبک حکومت پاکستانی ڈرائیور کے لائسنس اور گاڑیوں کے اندراج کی دستاویزات کو تسلیم کرے گی۔ ازبک اور پاکستانی حکومتیں ایک دوسرے سے ٹرک ڈرائیوروں کو ملٹی پل انٹری ویزا دینے کے عمل کو تیز اور آسان بنائیں گی۔ پاکستان کے ازبکستان کے ساتھ ٹریڈ ٹرانزٹ معاہدے سے پاکستان کو وسطی ایشیا کی 90 ارب ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گی، جب کہ ازبکستان گوادر بندرگاہ سے پوری دنیا تک رسائی حاصل کرے گا۔
پاکستان کے ساتھ ثقافتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعامل قائم کرنا ازبکستان کے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے منصوبوں سے ہم آہنگ ہے، جو مسلم ریاستوں سے قدرتی دلچسپی کے ساتھ سیاحوں کی آمد کو بڑھانے کے لیے ضروری اور انتہائی سازگار حالات پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک بین الاقوامی میدان میں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم، اور اسلامی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے اندر رابطے دو طرفہ اور کثیر جہتی بات چیت کو مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔ اس طرح، یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ دوطرفہ تعاون کے موجودہ حالات اور نتائج بلاشبہ سیاسی بات چیت کو مضبوط بنانے، دونوں ممالک کی آبادی کی فلاح و بہبود کو مستقل طور پر بہتر بنانے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد بنیں گے۔
دوطرفہ تعاون کا سب سے بڑا ذریعہ علاقائی روابط ہے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ تجارت اور اس خطے میں سامان اور مسافروں کی آمدورفت میں آسانی ہو۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک تجارتی راہداری کے قیام اور وسط ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بحری بندر گاہوں تک رسائی فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
فی الحال، دونوں ممالک کی سیاسی قیادت باہمی تجارت اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے ذریعے باہمی منزل مقصود کی راہ پر گامزن ہے۔ سیاحت، تعلیمی وظائف اور دونوں ممالک کے مابین ثقافتی وفود کے تبادلے کے ذریعے عوام کے آپس کے رابطوں کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ازبکستان اور پاکستان وسطی اور جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی میں بھی قابل قدرکردار ادا کر سکیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے ازبک صدر شوکت مرزایوف کے ساتھ ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان اور ازبکستان کے مابین تجارت میں 50 فیصد جب کہ مشترکہ منصوبوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔
دونوں ملکوں کے کاروباری افراد کے مابین بھی روابط بڑھے ہیں، ہم نے افغانستان کے راستے روابط بڑھانے کے لیے ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے مابین سیاحت اور تجارت میں اضافہ ہو گا۔ افغانستان کے راستے چلنے والی ٹرین وسطی ایشیائی ریاستوں کوگوادر پورٹ سے ملائے گی، اس کنکٹویٹی کا زیادہ فائدہ افغانستان کو ہوگا۔
جیو اسٹرٹیجک سے جیو اکنامکس کی طرف جانے والا پاکستان دنیا بھر میں اپنے تجارتی اور معاشی تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی یہ خواہش کہ ازبکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جائے، جو وسطی ایشیا کا ایک بڑا ملک ہے، دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان ملاقات اور معاہدوں پر دستخط اسی سمت میں ایک قدم ہے اور یہ دونوں ممالک کے لیے ایک جیت تصور ہوگی۔
یہ بات خوش آیند ہے کہ ازبکستان اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ سے مثالی اور دوستانہ تعلقات ہیں اور موجودہ حکومت ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے ، پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات باہمی افہام و تفہیم ، مضبوط ثقافتی و مذہبی رشتوں پر مبنی ہیں۔
ازبکستان، جو اس وقت بیرونی تجارت کے لیے بندر عباس کی ایرانی بندرگاہ پر انحصار کرتا ہے، دوسرے متبادل ذرایع کی تلاش کر رہا ہے اور کم فاصلے، اشیاء کی نقل و حرکت پر کم لاگت ہونے کے سبب اور کچھ سیاسی وجوہات کی وجہ سے پاکستان کی بندرگاہوں کو ترجیح دے رہا ہے۔ ازبکستان پاکستان کے ساتھ دو آپشن کی ترقی پر کام کر رہا ہے۔
پہلا ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ ہے جب کہ دوسرا چین کا راستہ ہے۔ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان نے فروری میں تاشقند میں مزار شریف، کابل، پشاور ریلوے لائن کے تقریبا 600 کلومیٹرکی تعمیر کے روڈ میپ پر دستخط کیے تھے۔ اس منصوبے کے لیے، جس کی تکمیل میں4.8 بلین ڈالر کی لاگت سے پانچ سال لگیں گے، عالمی بینک سمیت بین الاقوامی قرض دینے والی ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔
حکومت پاکستان، وسطی ایشیائی سامان کے لیے خصوصی ٹرمینلز اور ان ممالک سے برآمدات کے لیے ایک خصوصی ہینڈلنگ سہولیات تعمیرکررہی ہے تاکہ اپنے سامان میں غیر ضروری تاخیر سے بچ سکے۔ چین، پاکستان، کرغزستان اور قازقستان کے مابین ٹرانزٹ ٹریفک اور تجارت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے چین، پاکستان، کرغزستان اور قازقستان کے مابین ایک معاہدے کے تحت ازبکستان بھی کواڈری لیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (کیو ٹی ٹی اے) پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں بھی پاکستان ازبکستان کی حمایت کرتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت سڑک کا منصوبہ ، پاکستان اور وسطی ایشیا کے مابین ایک متبادل رابطہ فراہم کرے گا اور شاہراہ قراقرم کے راستے سے افغانستان کو نظرانداز کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو چین کے سنکیانگ خطے اور وسطی ایشیا سے جوڑے گا۔ پاکستان اور ازبکستان کے مابین ثقافتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے، دونوں ممالک نے ہندوستان میں مغل خاندان کے بانی ظہیر الدین بابر پر ایک فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
کیونکہ، پاکستان اور ازبکستان کے نوجوانوں کو مسلمانوں اور ان کے رہنمائوں کی مشترکہ تاریخ اور ثقافت کو جاننا ہوگا۔ پاکستان، ازبکستان اور وسطی ایشیائی دیگر ریاستوں کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور عوام کے آپس کے روابط اور ثقافتی سطح پر عوام کے تبادلے جیسے شعبوں میں قریبی تعلقات استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس سے قبل، ازبکستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد العزیز کمیلوف نے 9۔10 مارچ 2021 کو پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا جس سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں پیش رفت میں اضافہ ہوا۔
پاکستان اور ازبکستان دونوں ملحقہ علاقوں میں واقع برادر مسلمان ممالک ہیں۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں باہمی تعاون کے ذریعہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے یہ اہم مواقع ہیں۔ دونوں ممالک کی درآمدات اور برآمدات بڑھانے کے لیے دوطرفہ پلیٹ فارم کے ذریعہ ایک عمدہ حکمت عملی تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے جب کہ دونوں ملکوں کی معیشتیں ایک طرح کی مصنوعات اور زراعت پر مبنی ہیں، جو دوطرفہ تجارت کے امکانات کو محدود کرتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کپاس کے شعبے میں ازبکستان ماہرین کا تعاون پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے انتہائی اہم ہوگا پنجاب اور ازبکستان کی زرعی یونیورسٹیز کو بھی ایک دوسرے کے قریب لایا جائے گا اور دونوں اطراف کے وفود یونیورسٹیز کا دورہ کر یں گے جس سے ایک دوسرے سے ریسرچ کے شعبے میں مدد ملے گی۔ پاکستان ازبکستان کی دوطرفہ تجارت، دونوں طرف سے جاری کوششوں کے بعد، پاکستان کی طرف 9.14 ملین ڈالر اور ازبکستان کی طرف 6.98 ملین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ اعداد و شمار زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں اس لیے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تجارت کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مویشیوں، ماہی گیری، آئی ٹی اور سیاحت سے باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان، گوادر اورکراچی میں بندرگاہوں اور سی پیک کے ذریعے ازبکستان کی سوئٹزرلینڈ، یورپ، اور مشرق وسطی کو برآمدات کے لیے ایک بہت ہی مختصر اور موزوں راستہ پیش کرتا ہے۔
پاکستان ازبکستان کے لیے جنوبی ایشیا اور دنیا کی بڑی منڈیوں میں داخلے کے لیے ایک اہم پل ہے۔ ترمز ، مزار شریف ،کابل ، پشاور ریلوے کی تعمیر سے نہ صرف تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو فروغ ملے گا بلکہ دونوں خطوں کے باہمی روابط کو بھی تقویت ملے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان معیشت، سیاست اور سلامتی کے شعبوں میں مستحکم اور طویل مدتی تعلقات کی تعمیر اور ترقی کے لیے ثقافتی تعلقات کو برقرار رکھنا بھی ایک اہم شرط ہے۔
ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، ازبکستان پاکستان کے ساتھ ثقافتی مکالمے کو مضبوط کرنے کے لیے ایک راستہ اختیار کر رہا ہے اور اس امید کے ساتھ کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بلندی کی رفتار کو مزید یقینی بنایا جائے گا۔ سب کے بعد، اس علاقے میں تعاون ثقافتوں کی باہمی افزودگی اور دخل اندازی، ایک مشترکہ ثقافتی اور انسانی ہمدردی کی جگہ کی تشکیل میں معاون ہے۔ ازبکستان اور پاکستان کے مابین ٹرانزٹ تجارت پہلے سے طے شدہ روٹ پر ہوگی اور اس میں صرف مخصوص بندرگاہیں اور سرحدی راستے شامل ہوں گے۔
ازبک حکومت پاکستانی ڈرائیور کے لائسنس اور گاڑیوں کے اندراج کی دستاویزات کو تسلیم کرے گی۔ ازبک اور پاکستانی حکومتیں ایک دوسرے سے ٹرک ڈرائیوروں کو ملٹی پل انٹری ویزا دینے کے عمل کو تیز اور آسان بنائیں گی۔ پاکستان کے ازبکستان کے ساتھ ٹریڈ ٹرانزٹ معاہدے سے پاکستان کو وسطی ایشیا کی 90 ارب ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گی، جب کہ ازبکستان گوادر بندرگاہ سے پوری دنیا تک رسائی حاصل کرے گا۔
پاکستان کے ساتھ ثقافتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعامل قائم کرنا ازبکستان کے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے منصوبوں سے ہم آہنگ ہے، جو مسلم ریاستوں سے قدرتی دلچسپی کے ساتھ سیاحوں کی آمد کو بڑھانے کے لیے ضروری اور انتہائی سازگار حالات پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک بین الاقوامی میدان میں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم، اور اسلامی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے اندر رابطے دو طرفہ اور کثیر جہتی بات چیت کو مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔ اس طرح، یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ دوطرفہ تعاون کے موجودہ حالات اور نتائج بلاشبہ سیاسی بات چیت کو مضبوط بنانے، دونوں ممالک کی آبادی کی فلاح و بہبود کو مستقل طور پر بہتر بنانے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد بنیں گے۔
دوطرفہ تعاون کا سب سے بڑا ذریعہ علاقائی روابط ہے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ تجارت اور اس خطے میں سامان اور مسافروں کی آمدورفت میں آسانی ہو۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک تجارتی راہداری کے قیام اور وسط ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بحری بندر گاہوں تک رسائی فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
فی الحال، دونوں ممالک کی سیاسی قیادت باہمی تجارت اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے ذریعے باہمی منزل مقصود کی راہ پر گامزن ہے۔ سیاحت، تعلیمی وظائف اور دونوں ممالک کے مابین ثقافتی وفود کے تبادلے کے ذریعے عوام کے آپس کے رابطوں کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ازبکستان اور پاکستان وسطی اور جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی میں بھی قابل قدرکردار ادا کر سکیں گے۔