الیکشن نہ ہونے کی باتیں مایوس لوگ پھیلارہے ہیں پرویز اشرف
انتخابات بروقت ہوں گے،چین کے ساتھ دوستی مضبوط تجارتی شراکت داری میںبدلنا چاہتے ہیں،وین جیا بائواورمیڈیا سے گفتگو
انتخابات بروقت ہوں گے،چین کے ساتھ دوستی مضبوط تجارتی شراکت داری میںبدلنا چاہتے ہیں،وین جیا بائواورمیڈیا سے گفتگو۔ فوٹو: اے پی پی
چین اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی باہمی ملاقات کے دوران راجا پرویزاشرف نے کہا ہے کہ میں وزیراعظم کی حیثیت سے پہلی بار چین آیا ہوں۔
میرا دورہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے نزدیک چین کو اہم ترین حیثیت حاصل ہے۔انھوں نے وزیراعظم وین جیابائو کو بتایا کہ پاکستان افغانستان کے معاملے میں ''انٹراافغانستان ڈائیلاگ' ' چاہتا ہے ،افغانستان اس پر اتفاق کرتا ہے تو ہم فوری طورپر معاملے کوآگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں،انھوں نے کہاکہ ہم افغانستان پر ''ٹرائی لیٹرل''(افغانستان، پاکستان اور چین) کادوسرا اجلاس پاکستان میں منعقدکرنا چاہتے ہیں۔ پرویزاشرف نے وین جیا بائو کو بھارتی وزیر خارجہ کے دورے کے بارے میں بھی بریف کیا،انھوں نے کہا پاکستان توانائی کے خسارے اور کمی کا شکار ہے،اس سلسلے میں ہم چین کے تعاون کے خواہاں ہیں۔
چینی وزیراعظم نے پرویزاشرف کے چین کے بارے میںخیالات کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہمیں معلوم ہے پاکستان کے عوام پاک چین دوستی کو اعلیٰ قدروں میں شمار کرتے ہیں۔ پاکستان میں پاک چین دوستی مقبول ترین نعرہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام چین سے دوستی اور محبت پر فخرکرتے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ چین عالمی اور علاقائی تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی ہر ایشو پر حمایت اور سپورٹ کرتا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا،چینی وزیراعظم نے زوردیتے ہوئے کہاکہ Threat to Pakistan is a Threat to China (پاکستان کے دشمن چین کے دشمن ہیں)،پاکستان سے ہمارے تعلقات پہلے بھی مضبوط تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔
دونوں وزرائے اعظم کے درمیان خطے میں مختلف چیلنجز کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی ۔چینی وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان تعلقات اور تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ چین کے سب سے بڑے بینک ''آئی سی بی سی'' کی پاکستان میں دوشاخیں کھولی جاچکی ہیں ، پاکستان کے بینکوں کو بھی چین میں باقاعدہ شاخیں کھولنی چاہئیں ۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات کا یہ بھی نتیجہ نکلا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کو چینی مارکیٹ میں 6ارب 50کروڑ یوآن فلوٹ کرسکتا ہے۔دریں اثناء وزیراعظم پرویز اشرف سے ان کے ڈینش ہم منصب ھیلے تمارمنگ شمٹ نے بھی ملاقات کی ۔
ڈنمارک کے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ عالمی امن کی خاطر پاکستانی حکومت اور عوام کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کی قدرکرتے ہیں، کوشش کررہے ہیںکہ پاکستان اور یورپی یونین کا سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد کیاجائے ، عالمی برادری کی نگاہیں پاکستان کے آئندہ انتخابات پر لگی ہوئی ہیں، پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات استوار کرنے کیلیے جواقدامات کررہاہے،یہ درست سمت میں ہیں۔ دونوں وزرائے اعظموں کے درمیان خطے کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی،ڈنمارک کی وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں عام انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے یورپی یونین اپنا وفد بھی پاکستان بھیجے گا، 2008ء سے ہمارے اور پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
ڈنمارک انسانی ترقی، تعلیم،خواتین کیلئے خصوصی تعلیم کے شعبوں میں پاکستان کی مدد کررہاہے جو جاری رہیگی۔اس موقع پرپرویزاشرف نے کہا کہ پاکستان کے اکثریتی عوام امن پسند ہیں ،ہم ہرقسم کی دہشتگردی کیخلاف ہیں،پرویز اشرف نے اپنے ہم منصب کو پاکستانی حکومت کے بھارت اور افغانستان سے تعلقات کی تازہ نوعیت سے بھی آگاہ کیا ۔ انھوں نے کہا جمہوری حکومت آزاد،شفاف اور غیرمتنازع انتخابات کے انعقاد کیلیے پرعزم ہے ۔ پرویزاشرف نے کہاکہ پاکستان میں بروئے کارBISP پروگرام غربت کے خاتمے کیلیے بہترین کام کررہا ہے۔
وزیراعظم پرویزاشرف سے ورلڈ اکنامک فورم کے بانی اور چیئرمین پروفیسرکلاس شواب نے خصوصی ملاقات کی۔ پروفیسر شواب نے پرویزاشرف سے کہاکہ پاکستان میں تعلیم یافتہ اورفنی تعلیم کے حامل نوجوانوںکا بے پناہ ٹیلنٹ پایاجاتا ہے، پاکستان کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جسے درست سمت گامزن کر کے بے پناہ فوائد سمیٹے جاسکتے ہیں۔ دریں اثناء وزیرِاعظم پرویزاشرف نے پاکستانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تیانجن جیسے جدید ترین اور امیر شہر کو موجودہ شکل حاصل کرنے میں 30 سال لگے ،حکومت کی پالیسیوں میں تسلسل قائم رہے تو ترقی اور کامیابی کا ہر دروازہ کُھل سکتا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی جمہوری حکومتوں کا تسلسل برقرار ہے ،سابق حکومت کی پالیسیوں کو پوری توانائی سے جاری رکھا جائے تو پاکستان چین جیسی ترقی کرسکتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں اجتماعی یک جہتی کا ماحول پیدا کر کے معاشرتی اور مذہبی تقسیم سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ چین کے اس ترقی یافتہ شہر کو دیکھ کر مجھے احساس کمتری نہیںہوا بلکہ نیا جذبہ پیدا ہوا ہے کہ ہم بھی ان نقوش پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ وزیرِاعظم نے ایک سوال پر کہا کہ چینی وزیرِاعظم سے ملاقات نہایت کامیاب اورگرم جوش رہی ، وین جیابائو کی باڈی لینگویج سے بھی ظاہر ہورہا تھا کہ وہ پاکستان سے نہایت محبت کرتے ہیں ، چین ساری دنیا کے لیے بہت بڑی مارکیٹ ہے، پاکستانی بھی اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
انھوں نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی مچیورٹی آئی ہے،اسی لیے ہم 5سال مکمل کرنے جارہے ہیں، انھوں نے کہا پاکستان میں آزادانہ، شفاف اور بروقت انتخابات ہونگے،ہم نے اس کی تیاریاں کرلی ہیں ۔ ایک سوال پر انھوںنے کہا انتخابات نہ ہونے کی باتیں مایوس لوگ پھیلا رہے ہیں ،یہ محض پروپیگنڈہ ہے کہ ہماری حکومت انتخابات کو آگے لے جانے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔علاوہ ازیں چین کے وزیراعظم نے عالمی اقتصادی فورم کا باقاعدہ افتتاح کیا جس میں 2ہزار سے زائد سرکاری، تجارتی اور سول سوسائٹی کے رہنمائوں نے شرکت کی۔
میرا دورہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے نزدیک چین کو اہم ترین حیثیت حاصل ہے۔انھوں نے وزیراعظم وین جیابائو کو بتایا کہ پاکستان افغانستان کے معاملے میں ''انٹراافغانستان ڈائیلاگ' ' چاہتا ہے ،افغانستان اس پر اتفاق کرتا ہے تو ہم فوری طورپر معاملے کوآگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں،انھوں نے کہاکہ ہم افغانستان پر ''ٹرائی لیٹرل''(افغانستان، پاکستان اور چین) کادوسرا اجلاس پاکستان میں منعقدکرنا چاہتے ہیں۔ پرویزاشرف نے وین جیا بائو کو بھارتی وزیر خارجہ کے دورے کے بارے میں بھی بریف کیا،انھوں نے کہا پاکستان توانائی کے خسارے اور کمی کا شکار ہے،اس سلسلے میں ہم چین کے تعاون کے خواہاں ہیں۔
چینی وزیراعظم نے پرویزاشرف کے چین کے بارے میںخیالات کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہمیں معلوم ہے پاکستان کے عوام پاک چین دوستی کو اعلیٰ قدروں میں شمار کرتے ہیں۔ پاکستان میں پاک چین دوستی مقبول ترین نعرہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام چین سے دوستی اور محبت پر فخرکرتے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ چین عالمی اور علاقائی تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی ہر ایشو پر حمایت اور سپورٹ کرتا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا،چینی وزیراعظم نے زوردیتے ہوئے کہاکہ Threat to Pakistan is a Threat to China (پاکستان کے دشمن چین کے دشمن ہیں)،پاکستان سے ہمارے تعلقات پہلے بھی مضبوط تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔
دونوں وزرائے اعظم کے درمیان خطے میں مختلف چیلنجز کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی ۔چینی وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان تعلقات اور تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ چین کے سب سے بڑے بینک ''آئی سی بی سی'' کی پاکستان میں دوشاخیں کھولی جاچکی ہیں ، پاکستان کے بینکوں کو بھی چین میں باقاعدہ شاخیں کھولنی چاہئیں ۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات کا یہ بھی نتیجہ نکلا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کو چینی مارکیٹ میں 6ارب 50کروڑ یوآن فلوٹ کرسکتا ہے۔دریں اثناء وزیراعظم پرویز اشرف سے ان کے ڈینش ہم منصب ھیلے تمارمنگ شمٹ نے بھی ملاقات کی ۔
ڈنمارک کے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ عالمی امن کی خاطر پاکستانی حکومت اور عوام کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کی قدرکرتے ہیں، کوشش کررہے ہیںکہ پاکستان اور یورپی یونین کا سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد کیاجائے ، عالمی برادری کی نگاہیں پاکستان کے آئندہ انتخابات پر لگی ہوئی ہیں، پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات استوار کرنے کیلیے جواقدامات کررہاہے،یہ درست سمت میں ہیں۔ دونوں وزرائے اعظموں کے درمیان خطے کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی،ڈنمارک کی وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں عام انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے یورپی یونین اپنا وفد بھی پاکستان بھیجے گا، 2008ء سے ہمارے اور پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
ڈنمارک انسانی ترقی، تعلیم،خواتین کیلئے خصوصی تعلیم کے شعبوں میں پاکستان کی مدد کررہاہے جو جاری رہیگی۔اس موقع پرپرویزاشرف نے کہا کہ پاکستان کے اکثریتی عوام امن پسند ہیں ،ہم ہرقسم کی دہشتگردی کیخلاف ہیں،پرویز اشرف نے اپنے ہم منصب کو پاکستانی حکومت کے بھارت اور افغانستان سے تعلقات کی تازہ نوعیت سے بھی آگاہ کیا ۔ انھوں نے کہا جمہوری حکومت آزاد،شفاف اور غیرمتنازع انتخابات کے انعقاد کیلیے پرعزم ہے ۔ پرویزاشرف نے کہاکہ پاکستان میں بروئے کارBISP پروگرام غربت کے خاتمے کیلیے بہترین کام کررہا ہے۔
وزیراعظم پرویزاشرف سے ورلڈ اکنامک فورم کے بانی اور چیئرمین پروفیسرکلاس شواب نے خصوصی ملاقات کی۔ پروفیسر شواب نے پرویزاشرف سے کہاکہ پاکستان میں تعلیم یافتہ اورفنی تعلیم کے حامل نوجوانوںکا بے پناہ ٹیلنٹ پایاجاتا ہے، پاکستان کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جسے درست سمت گامزن کر کے بے پناہ فوائد سمیٹے جاسکتے ہیں۔ دریں اثناء وزیرِاعظم پرویزاشرف نے پاکستانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تیانجن جیسے جدید ترین اور امیر شہر کو موجودہ شکل حاصل کرنے میں 30 سال لگے ،حکومت کی پالیسیوں میں تسلسل قائم رہے تو ترقی اور کامیابی کا ہر دروازہ کُھل سکتا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی جمہوری حکومتوں کا تسلسل برقرار ہے ،سابق حکومت کی پالیسیوں کو پوری توانائی سے جاری رکھا جائے تو پاکستان چین جیسی ترقی کرسکتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں اجتماعی یک جہتی کا ماحول پیدا کر کے معاشرتی اور مذہبی تقسیم سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ چین کے اس ترقی یافتہ شہر کو دیکھ کر مجھے احساس کمتری نہیںہوا بلکہ نیا جذبہ پیدا ہوا ہے کہ ہم بھی ان نقوش پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ وزیرِاعظم نے ایک سوال پر کہا کہ چینی وزیرِاعظم سے ملاقات نہایت کامیاب اورگرم جوش رہی ، وین جیابائو کی باڈی لینگویج سے بھی ظاہر ہورہا تھا کہ وہ پاکستان سے نہایت محبت کرتے ہیں ، چین ساری دنیا کے لیے بہت بڑی مارکیٹ ہے، پاکستانی بھی اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
انھوں نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی مچیورٹی آئی ہے،اسی لیے ہم 5سال مکمل کرنے جارہے ہیں، انھوں نے کہا پاکستان میں آزادانہ، شفاف اور بروقت انتخابات ہونگے،ہم نے اس کی تیاریاں کرلی ہیں ۔ ایک سوال پر انھوںنے کہا انتخابات نہ ہونے کی باتیں مایوس لوگ پھیلا رہے ہیں ،یہ محض پروپیگنڈہ ہے کہ ہماری حکومت انتخابات کو آگے لے جانے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔علاوہ ازیں چین کے وزیراعظم نے عالمی اقتصادی فورم کا باقاعدہ افتتاح کیا جس میں 2ہزار سے زائد سرکاری، تجارتی اور سول سوسائٹی کے رہنمائوں نے شرکت کی۔