بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس سپریم کورٹ نے میثاق جمہوریت کی کاپی طلب کرلی

آئین فوری انصاف کی ضمانت دیتاہے،ادارے خودآئین کی روح کے مخالف جارہے ہیں، جسٹس جواد

بلدیاتی الیکشن کیس کا فیصلہ چیلنج کرنے کیلیے پنجاب حکومت کوآج تک مہلت، سالوں پرانے مقدمات میں حکومتی عدم پیروی پراظہاربرہمی۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کے بارے میں پنجاب حکومت سے موقف طلب کرلیاہے جبکہ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن میں ہونیوالے''میثاق جمہوریت'' کی نقل بھی مانگ لی ہے۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کوکہاکہ وہ حکومت سے ہدایات لے کرہائیکورٹ کے فیصلے کوچیلنج کرنے کے بارے میں آج واضح طورپر بتائیں۔ عدالتی معاون خواجہ حارث نے دلائل میں کہاکہ بلدیاتی الیکشن کیلیے قانون بناناصوبائی حکومت اور حد بندیاں کرناالیکشن کمیشن کااختیار ہے۔انھوں نے کہاکہ ووٹ کاحق بنیادی سے بھی بڑاہے،اسی پرآئین اورجمہوریت کی بنیاد ہے،عدالت نے اس دلیل سے اتفاق کیا۔عدالت نے آبزرویشن دی کہ حلقہ بندیاں اور فہرستوں کی تیاری انتخابی عمل کاحصہ ہے،دوسرے عدالتی معاون مخدوم علی خان نے بھی دلائل مکمل کر لیے جس کے بعدایڈووکیٹ جنرل پنجاب مصطفیٰ رمدے پیش ہوئے اورکہاکہ لاہور ہائیکورٹ نے اس حوالے سے دو فیصلے دیے ہیں ہم پہلے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں دوسرے کے کچھ حصوں پراعتراض ہے۔عدالت نے کہاآپ نے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا، مصطفیٰ رمدے نے کہاکہ فیصلہ پہلے ہی چیلنج ہو چکاہے جواظہرصدیق نے کیاہے۔


جسٹس عظمت سعیدنے کہاکہ کیاپنجاب حکومت اظہر صدیق کی مرہون منت ہے؟فاضل جج نے کہاکہ ہمیں معلوم ہے پنجاب حکومت فیصلہ چیلنج کرنے میں کیوں پس وپیش سے کام لے رہی ہے۔عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کردی اورامکان ہے کہ اپیلوں کافیصلہ آج کردیاجائے گا۔ جسٹس جوادایس خواجہ نے چارسدہ میں واپڈا کالونی کیلیے حاصل کی گئی زمین کامعاوضہ نہ دینے کے40 سالہ پرانے مقدمے میں جان بوجھ کر مقدمات لٹکانے اور حکومتی اداروں کی عدم دلچسپی پرسخت برہمی کا اظہارکیااورکہاحکومتی اداروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بہت آسان مقدمات صدیوں پرمحیط ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ روزبھی سماعت شروع ہوئی تو واپڈا اور پیسکو کی جانب سے پیروی کیلیے کوئی موجود نہیں تھا۔جسٹس جوادنے کہاکہ آئین فوری اورسستے انصاف کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے لیکن حکومتی ادارے خود آئین کی روح کے مخالف جارہے ہیں،ہم چالیس چالیس سال تک مقدمات لٹکانے کی یہ روایت ختم کرناچاہتے ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت مارچ کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔ آئی این پی کے مطابق حدبندیوں سے متعلق کیس میں عدالتی معاونین نے دلائل میں کہا کہ پنجاب،سندھ حکومت کی جانب سے حلقہ بندیوں کیلئے قانون سازی آئین اورقانون سے متصادم ہے۔
Load Next Story