سیکیورٹی انتظامات کراچی میں تاجروں کو دکانوں پر کیمرے لگانے کی ہدایت
کیمرے نہ لگانے پر دکاندار کو 6 ماہ قید یا 45 ہزار روپے جرمانے تک کی سزا اور کاروبار سیل بھی کیا جا سکتا ہے، پولیس
کم از کم 4 میگا پکسل کے سی سی ٹی وی کیمرے ہوں جن کے اندر رات میں دیکھنے کی نائٹ وژن صلاحیت بھی ہو۔ فوٹو: فائل
کراچی:
پولیس نے ایک بار پھر شہر کراچی کے تاجروں کو دکانوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے نوٹس جاری کردیے۔
پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں تاجروں کو اپنی دکانوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ نوٹس میں سندھ سیکیورٹی آف ونرل ایبل اسٹیبلشمنٹ آرڈیننس 2015 کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق سیکیورٹی کے انتظامات نہ کرنے کی صورت میں تاجروں کے خلاف ہی کارروائی کی جاسکتی ہے ، کارروائی میں6 ماہ تک قید یا 45 ہزار روپے جرمانے تک کی سزا ہوسکتی ہے جبکہ کاروبار سیل بھی کیا جاسکتا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 4 میگا پکسل کے سی سی ٹی وی کیمرے ہوں جن کے اندر رات میں دیکھنے کی (نائٹ وژن) بھی صلاحیت ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یو پی ایس لگائیں تاکہ ریکارڈنگ محفوظ رہے اور ریکارڈنگ کا بیک اپ بھی کم از کم 15 روز کا ہونا چاہیے،کیمروں کے اینگل اس مناسبت سے ہوں کہ سڑک کے دونوں اطراف کور ہوں تاکہ سڑک پر ہونے والی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے۔
یاد رہے کہ تقریباً دو سال پہلے بھی اس قسم کے اقدامات کیے گئے تھے ، کراچی پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں دکانداروں اور تاجروں کو نوٹس دے کر متنبہ کیا تھا کہ وہ جلد از جلد اپنی دکانوں کے باہر کیمرے لگائیں لیکن پھر کورونا وبا کے دوران جب لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو اس پر عملدرآمد روک دیا گیا، اب دوبارہ یہ سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس اقدام سے پہلے سے ہی تباہ حال تاجر حضرات کو مزید اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ کیمروں کی تنصیب، یو پی ایس اور ریکارڈنگ محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل خطیر رقم درکار ہوتی ہے۔
پولیس نے ایک بار پھر شہر کراچی کے تاجروں کو دکانوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے نوٹس جاری کردیے۔
پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں تاجروں کو اپنی دکانوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ نوٹس میں سندھ سیکیورٹی آف ونرل ایبل اسٹیبلشمنٹ آرڈیننس 2015 کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق سیکیورٹی کے انتظامات نہ کرنے کی صورت میں تاجروں کے خلاف ہی کارروائی کی جاسکتی ہے ، کارروائی میں6 ماہ تک قید یا 45 ہزار روپے جرمانے تک کی سزا ہوسکتی ہے جبکہ کاروبار سیل بھی کیا جاسکتا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 4 میگا پکسل کے سی سی ٹی وی کیمرے ہوں جن کے اندر رات میں دیکھنے کی (نائٹ وژن) بھی صلاحیت ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یو پی ایس لگائیں تاکہ ریکارڈنگ محفوظ رہے اور ریکارڈنگ کا بیک اپ بھی کم از کم 15 روز کا ہونا چاہیے،کیمروں کے اینگل اس مناسبت سے ہوں کہ سڑک کے دونوں اطراف کور ہوں تاکہ سڑک پر ہونے والی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے۔
یاد رہے کہ تقریباً دو سال پہلے بھی اس قسم کے اقدامات کیے گئے تھے ، کراچی پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں دکانداروں اور تاجروں کو نوٹس دے کر متنبہ کیا تھا کہ وہ جلد از جلد اپنی دکانوں کے باہر کیمرے لگائیں لیکن پھر کورونا وبا کے دوران جب لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو اس پر عملدرآمد روک دیا گیا، اب دوبارہ یہ سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس اقدام سے پہلے سے ہی تباہ حال تاجر حضرات کو مزید اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ کیمروں کی تنصیب، یو پی ایس اور ریکارڈنگ محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل خطیر رقم درکار ہوتی ہے۔